گورنر انتظامیہ خواتین کے لئے سماجی،تعلیمی اور اقتصادی مساوات کو یقینی بنانے پر عمل پیرا۔ماہرین
سرینگر//جموں و کشمیر حکومت نے یونین ٹیریٹری میں صنفی ماحولیاتی نظام کی تشکیل کے لئے متعدد اقدامات شروع کیے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ خواتین کو سماجی و اقتصادی ترقی کے ساتھ ساتھ تعلیم تک بہتر رسائی حاصل ہوسکے۔کے این ایس کے مطابق کہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی قیادت والی حکومت جموں و کشمیر کی خواتین کو زندگی کے تمام شعبوں میں ترقی اور خوشحالی کے تمام مواقع فراہم کر رہی ہے تاکہ ترقی کے حصول میں ان کے مساوی کردار کو یقینی بنایا جا سکے۔جموں کشمیر انتظامیہ خواتین کے لئے سماجی اور اقتصادی مساوات کو یقینی بنانے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑ رہی ہے جو کہ تیز رفتار ترقی اور ترقی کے حصول کے لیے لازمی ہے۔ اس دوران گورنر انتظامیہ خواتین کو بااختیار بنانا اور تکنیکی شعبے میں ان کی مساوی موجودگی ایک مضبوط کمیونٹی اور ایک مضبوط ملک کی تعمیر کے لیے اہم ہے۔ اطلاعات کے مطابق پہلی بار گورنر انتظامیہ نے ایک تاریخی فیصلہ لیا کہ جموں و کشمیر کی شریک حیات کو بھی ڈومیسائل تصور کیا جائے گا جبکہ اس سے پہلے، مستقل رہائشی کارڈ ہولڈرز کی شریک حیات کو مساوی سمجھا جاتا تھا لیکن ڈومیسائل نہیں لیکن اس سلسلے میں، جموں و کشمیر انتظامیہ نے جموں و کشمیر گرانٹ آف ڈومیسائل سرٹیفکیٹ (پروسیجر) رولز، 2020 میں ایک شق شامل کی جس سے یونین ٹیریٹری سے باہر شادی شدہ مقامی خاتون کے شریک حیات کو ڈومیسائل سرٹیفکیٹ کے لیے درخواست دینے کی اجازت دی گئی اور اس حکم نامے میں جموں و کشمیر حکومت میں ملازمتوں کی تمام سطحوں پر ڈومیسائل کی شرط کے اطلاق میں بھی ترمیم کی گئی ہے، کیونکہ نئی شامل کردہ شق کو جموں و کشمیر سول سروسز (ڈی سینٹرلائزیشن اینڈ ریکروٹمنٹ) ایکٹ کے تحت بھی لایا گیا ہے۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے حال ہی میں جموں و کشمیر کے پہلے ویمن سائیکلنگ کلب ’ویمن ڈو رائیڈ‘ کے ارکان کے ساتھ ایک میٹنگ کے دوران کہا کہ حکومت گورننس، کاروبار اور دیگر شعبوں میں خواتین کی شرکت کی حوصلہ افزائی کے لیے سہولیات پیدا کرنے کے لیے فعال اقدامات اٹھا رہی ہے جبکہ گورنر موصوف نے معاشرے میں خواتین کے کردار کو سراہا اور ان کی مکمل بااختیاریت کو ترقی کی دنیا میں گیم چینجر قرار دیا اور انہوں نے کہا تھا کہ جموں و کشمیر حکومت ضروری اقدامات کر رہی ہے تاکہ ہماری لڑکیاں علم، ہنر اور خود اعتمادی سے اچھی طرح لیس ہوں اور ان کو گورننس کی تمام سطحوں پر شامل کیا جائے۔گورنر موصوف نے یہ بھی کہا کہ جموں و کشمیر حکومت کی توجہ خواتین کی آزادی کے لیے تیار کردہ پالیسیوں اور پروگراموں کے موثر نفاذ پر ہے جبکہ اجتماعی کوششوں کے ٹھوس نتائج برآمد ہو رہے ہیں اور یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کشمیر یونیورسٹی کے کانووکیشن کے دوران سال 2021 میں 94 گولڈ میڈلسٹ تھے، جن میں سے 77 فیصد یا 66 لڑکیاں تھیں۔ اسی طرح اسلامی یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے کانووکیشن کے دوران گولڈ میڈل جیتنے والوں میں اکثریت خواتین کی تھی جو خواتین کو بااختیار بنانے کی واضح علامت ہے۔










