سرینگر// سرکاری دفتروںمیں خالی پڑی اسامیوں کو پر کرنے کے سلسلے میں جموں کشمیر حکومت اور متعلقہ اداروں کی جانب سے صرف دکھاوے کی کاروائیاں عمل میں لائی جار ہی ہیں ، تحریری امتحانات لینے اور فارم داخل کرنے کے عوض سرکاری خزانے کو کروڑوں روپیہ سالانہ حاصل ہو رہے ہیں تاہم خالی پڑی اسامیوں کو یا تو چور دروازے سے پر کیا جاتا ہے یا پھر سیاسی مصلحتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے لسٹ شائع کرنے میں جان بوجھ کر دیری لگائی جار ہی ہے جس کے نتیجے میں تعلیم یافتہ بے روزگاروں کیلئے صرف ایک ہی راہ باقی رہ جاتی ہے کہ یا تو تعلیم یافتہ بے روزگار سرکار کے خلاف مورچہ بندی کریں یا اجتماعی طور پر خود کشی کریں۔ بے روز گاری نے نوجوانوں کو اس حد تک متاثر کر دیا ہے کہ انہیں ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا دکھائی دیتا ہے ، سرکاری اداروںمیں خالی پڑی اسامیوںکو پر کرنے اور تعلیم یافتہ بے روزگاروں کو روزگار دلانے کے ضمن میں گزشتہ کئی دہائیوں سے حکومتوں کی جانب سے صرف یقین دہانیاں ، وعدئے کئے جار ہے ہیں جبکہ اس ضمن میں سنجیدگی کے ساتھ اقدامات اٹھانے کیلئے حکومتوں نے کھبی بھی مرکزی حکومت کو اس بات پر مجبور نہیں کیا کہ ریاست میں تعلیم یافتہ بے روزگاروں کو روزگار دلانے کے سلسلے میں جنگی بنیادوں پر امداد فراہم کرکے ریاست کی نوجوان نسل کو روزگار فراہم کیا جائے تاکہ وہ اپنے مستقبل کو تابناک بنا سکیں۔ کچھوے کی چال چل کر حکومتوں کی جانب سے سرکاری دفتروںمیں خالی پڑی اسامیوں کو پر کرنے کیلئے صرف فارم داخل کرنے ، انٹرویو لینے کی کاروائیاں عمل میں لائی جاتی ہیں اور اس کی آڑ میں سرکاری خزانے کو ہر سال کروڑوں روپیہ کی آمدنی حاصل ہوتی ہے جبکہ تعلیم یافتہ بے روزگاروں کے ہاتھ میں کچھ نہیں پڑتا ہے بلکہ انہیں در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہوناپڑتا ہے۔ جموںوکشمیر میں ایسا کوئی سرکاری ادارہ نہیں ہے جہاں 5سو سے لے کر ایک ہزار تک کی اسامیاں خالی ہیں جن میں آفیسروں سے لے کر درجہ چہارم تک کی اسامیاں بھی خالی ہیں تاہم ان جگہوں کو پر کرنے کے سلسلے میں کن وجوہات کی بناپر پر نہیں کیا جا رہا ہے اس پر عوامی حلقے بھی حیران ہیں اور تعلیم یافتہ بے روزگار بھی پریشان ۔ تعلیم یافتہ بے روزگاروں کے مطابق وہ ہر سال خالی پڑی اسامیوں کیلئے فارم داخل کرتے ہیں اور سروس سلیکشن بورڈ اور دوسری بھرتی ایجنسیوں کی جانب سے تحریری اور انٹرویو لینے کی کاروائیاں عمل میں لائی جاتی ہے اور آج تک صرف اسکولوں کالجوںمیں اساتذہ کی لسٹ شائع کرنے کے بغیر سرکار نے دوسرے محکموںمیں خالی پڑی اسامیوںکو پر کرنے میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا حالانکہ وادی کے تمام تعلیمی اداروں جن میں مڈل اسکول ، پرائمری اسکول ، ہائی اسکول بھی ہیں میں تدریسی عملے کی زبردست کمی ہیں ۔ ستم ظریفی کا یہ عالم ہے کہ دو دن قبل محکمہ جنگلات میں دو ہزار اسامیوں کے خالی ہونے کا سرکار نے از خود انکشاف کیا ہمارے جنگل لٹ رہے ہیں، سبز سونا تیزی کے ساتھ ختم ہوتا جا رہا ہے ، جنگلات کی اراضی پر رہائشی مکان ، شاپنگ کمپلیکس ، ہوٹل ، پولٹری فارم تیزی کے ساتھ تعمیر ہوتے جار ہے ہیں ، جنگلوں سے ہر سال کروڑوں روپیہ کی عمارتی لکڑی نکال کر وادی کے لوگوں کو ہی فروخت کی جاتی ہے لیکن خالی پڑی دو ہزار اسامیوں کو پر کرنے کیلئے محکمہ نے آج تک اقدامات کیوں نہیں اٹھائے یہ ایک حیران کن عمل ہے ۔ درجہ چہارم کی اسامیوںکو چور دروازے سے پر کرنے کیلئے بازی لینے کی کوشش کی جاتی ہے لاکھوں کی بولیاں لگائی جاتی ہیں جس کے نتیجے میں غریب کنبوں کے تعلیم یافتہ بے روزگار یا تو زہر کھانے پر مجبور ہو تے ہیں یا پھر نفسیاتی بیماریوںمیں مبتلا ہو کر اپنے والدین پر بوجھ بن گئے ہیں۔










