نیشنل کانفرنس کی تازہ پیشکش کے بعد غور وخوض شروع
سرینگر// یو این ایس / آل انڈیا کانگریس کمیٹی (اے آئی سی سی) کے جموں و کشمیر انچارج جنرل سکریٹری ڈاکٹر سید ناصر حسین نے جمعرات کو کہا ہے کہ پارٹی نے ابھی تک جموں و کشمیر میں وزراء کونسل میں شامل ہونے کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔یو این ایس کے مطابق سرینگر میں ایک میڈیا گروپ سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر حسین نے کہا کہ اس معاملے پر ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں لیا گیا ہے۔ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ کانگریس کی جموں و کشمیر یونٹ حکومت میں شامل ہونے کے خلاف نہیں ہے، لیکن وہ دو برتھ مانگ رہی ہے۔ذرائع نے مزید بتایا کہ پارٹی دوسری برتھ پر مذاکرات کے لیے تیار ہے اور اگر این سی کابینہ برتھ کے مطالبے سے انکار کرتی ہے تو وہ اپنے ایک قانون ساز کے لیے مناسب ایڈجسٹمنٹ چاہے گی۔جموں و کشمیر کانگریس یونٹ اتحاد کے شراکت داروں کی کوآرڈینیشن کمیٹی کی تشکیل پر بھی زور دے رہی ہے تاکہ فیصلہ سازی کے عمل میں پارٹی کے کردار کو یقینی بنایا جا سکے۔ذرائع کے مطابق کانگریس ہائی کمان نے حکومت میں شامل ہونے کی اپنی شرائط پر این سی کے ساتھ تبادلہ خیال کیا ہے اور ان کے جواب کا انتظار کر رہی ہے۔بتایا جا رہا ہے کہ این سی اور کانگریس کے درمیان کئی ہفتوں سے اس معاملے پر پس پردہ بات چیت جاری ہے۔ 2014 کے بعد سے جموں و کشمیر میں سیاسی حالات بدل چکے ہیں اور دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد پہلی بار منتخب حکومت وجود میں آئی ہے، جس میں این سی سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری ہے۔کانگریس، جو این سی کی اتحادی ہے، شروع سے ہی حکومت میں حصہ داری کا مطالبہ کر رہی تھی، لیکن قیادت نے پہلے اس معاملے پر احتیاط برتی تھی۔ اب این سی کی جانب سے تازہ پیشکش کے بعد کانگریس کے اندر بھی اس پر سنجیدگی سے غور ہو رہا ہے۔پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ جموں و کشمیر کانگریس کے بیشتر لیڈران کا ماننا ہے کہ اگر وہ حکومت سے باہر رہے تو کارکنوں میں مایوسی پھیل سکتی ہے اور تنظیمی ڈھانچہ کمزور ہو سکتا ہے۔ اس لیے حکومت میں شامل ہو کر عوامی مسائل کو بہتر طریقے سے حل کیا جا سکتا ہے۔دوسری جانب کانگریس ہائی کمان چاہتی ہے کہ صرف وزارت ہی نہیں بلکہ پالیسی سازی میں بھی اس کی رائے کو اہمیت دی جائے، اسی لیے کوا?رڈینیشن کمیٹی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔فی الحال دونوں جماعتوں کے درمیان بات چیت ا?خری مرحلے میں ہے اور اگلے چند دنوں میں اس حوالے سے کوئی بڑا اعلان متوقع ہے۔










