جموں//جموںوکشمیر یوٹی میں سیر یکلچر یا سلک پروڈکشن کی ایک طویل تاریخ ہے ۔یہ خطہ اَپنے اعلیٰ معیار کے بائیو ولٹائن سِلک کے لئے جانا جاتا ہے اور ملک میں ریشم پیدا کرنے والا ایک بڑا علاقہ بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔تاہم، حالیہ برسوں میں اس صنعت کو چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اعلیٰ ریشم کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنے کے لئے ترقی اور جدید کاری کی ضرورت ہے جو نہ صرف ملک میں درآمدکئے جانے والے ریشم سے مماثلت اور اس کی جگہ لے سکے بلکہ اس کی برآمدی ضروریات میں بھی مقابلہ کر سکے۔ یوٹی اِنتظامیہ نے تکنیکی اقدامات سے جموںوکشمیر میں ریشم کی پیداوار اور پیداواری صلاحیت کو بہتر بنانے کے لئے 91 کروڑ روپے کے ایک پروجیکٹ کو منظور ی دی ہے۔یہ پروجیکٹ جس میں شہتوت کے پتوں کی دستیابی سے لے کر بہتر بیج اور کیڑے کی پیداوار اورر یلنگ سہولیت میں اِضافہ شامل ہے۔جموں و کشمیر میں پیدا ہونے والے ککون کی تعداد کو دوگنا کرے گا اور جموں میں جدید ترین آٹومیٹک ریلنگ کی سہولیت کے قیام سے ویلیو ایڈیشن کو فروغ دے گا۔ایڈیشنل چیف سیکرٹری زرعی پیداوار اَتل ڈولو نے کہا ،’’سیریکلچر واحد نقد فصل ہے جو بہت کم وقت میں نمایاں منافع کو یقینی بناتی ہے اور اسے دیہی معیشت میں ایک خاص مقام حاصل ہے۔ اگرچہ ریاست اعلیٰ معیار کے بائیوولٹائن ککون تیار کرتی ہے لیکن پیداواری صلاحیت اور ککون کی کل پیداوار کم ہے۔‘‘۔اُنہوں نے مزید کہا کہ اسی طرح ککون کی پیداوار قومی اوسط کا نصف ہے اور گزشتہ کچھ برسوں میں اس شعبے سے پیداوار کم ہو رہی ہے۔ اِس شعبے کے لئے بیج کے معیار کو بہتر بنانا، پالنے کی سہولیات اور ککون پروسسنگ بہت بڑا کام کرے گی اور فارم کی سطح پر آمدنی کو بہتر بنائے گی۔اُنہوں نے کہا کہ’’ جموںوکشمیر میں ریشم کی پیداوار کو مضبوط بنانے کے لئے تکنیکی اقدام ‘‘ ان 29 منصوبوں میں سے ایک ہے جنہیںیوٹی اِنتظامیہ نے جموںوکشمیر یوٹی میں زراعت اور اس سے منسلک شعبوں کی ہمہ گیر ترقی کے لئے یوٹی سطح کی اعلیٰ کمیٹی کی سفارش کے بعد منظور ی دی تھی۔ اِس باوقار کمیٹی کی سربراہی سابق ڈی جی آئی سی اے آر کر رہے ہیں ۔اِس میں زراعت ، منصوبہ بندی ، شماریات اور اِنتظامیہ شعبے کے سی اِی او این آر اے اے اشوک دِلوائی ، سیکرٹری این اے اے ایس ڈاکٹر پی کے جوشی ، ہارٹی کلچر کمشنر ایم او اے اینڈ ایف ڈبلیو ڈاکٹر پربھات کمار ،سابق ڈائریکٹر آئی اے آر آئی ڈاکٹر ایس ایچ گپتا ، فائنانشل کمشنر (ایڈیشنل چیف سیکرٹری )زرعی پیدوار اَتل ڈولو کے علاوہ دونوں ایگری کلچر یونیورسٹیوں کے وائس چانسلر نامور شخصیات شامل ہیں۔جموںوکشمیر میں ریشمی صنعت کو درپیش اہم چیلنجوں میں سے ایک جدید ٹیکنالوجی تک رَسائی کا فقدان ہے ۔ بہت سے کسان اَب بھی ریشم کی پیداوار کے روایتی طریقے اِستعمال کرتے ہیں جو کہ وقت طلب اور محنت طلب ہوتے ہیںاور پیداوار کے معیار کے لحاظ سے بھی برابر ہوتے ہیں۔ اس سے ان کے لئے ہندوستانی سِلک کی 250 ملین ڈالر کی برآمدی منڈی سے فائدہ اُٹھانا مشکل ہوجاتا ہے ۔ ڈائریکٹر سیر ی کلچر جے اینڈ کے منظور قادری نے کہا کہ پروجیکٹ اِس بات کو یقینی بنائے گا کہ جموںوکشمیر کے ریشم نے جو عالمی شہرت حاصل کی تھی اسے دوبارہ حاصل کیا جائے گا۔اِس منصوبے میں جو اہم اقدامات کی جارہی ہیں ان میں 10لاکھ نئے شہتوت کے پودے ٹری موڈ میں لگانا، ریشم کے کیڑے کے بیج کی پیداوار کو 8لاکھ سے 16لاکھ تک دوگنا کرنا، ککون کی پیداوار کو 700میٹرک ٹن سے بڑھا کر 1,350 میٹرک ٹن تک کرنا ، 100نئے پالنے کے مراکز کا قیام ،سیری کاشت کاروں کو چوکی کیڑے کی فراہمی ،ریشم کے کیڑے کے 7,000 نئے کسانوں کو روزگار فراہم کرنے اور موجودہ 15,000 کسانوں کی مہارت کی ترقی شامل ہیں۔ایک آٹومیٹک ریلنگ مشین کے ذریعے ایک اعلیٰ قدر کے ادارے کے قیام سے مارکیٹنگ اور ویلیو ایڈیشن سپورٹ بھی پیدا کی جا رہی ہے جس سے 2,000 سیری کسانوں کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔ جدید ترین مشین جموںوکشمیر یوٹی میں بین الاقوامی معیار کے ریشم کی پیداوار کی اجازت دے گی اور ہمارے ککون کے لئے بہتر قیمتیں حاصل کرے گی۔اسسٹنٹ پروفیسر سکاسٹ کشمیر ڈاکٹر فردوس احمد ملک جنہوں نے اس پروجیکٹ کا مسودہ تیار کیا ، نے کہا کہ اس پروجیکٹ کا مجموعی مقصد ایسے عمل کو مضبوط بنانا ہے جو جموںوکشمیر یوٹی کے ریشم کے کاشت کاروں کی معاشی ترقی کو فروغ دیں اور ترقی اور سرمایہ کاری کا ماحول پیدا کریں۔مجموعی طور پر یہ پروجیکٹ جموںوکشمیر یوٹی کی ریشمی صنعت کی بحالی اور جدید بنانے کو ظاہر کرتا ہے ۔ریشم کی پیدوار اور معیار میں متوقع اضافے سے وابستہ اَفراد کو بہتر معاش سے صنعت اَپنی ماضی کی شان کو دوبارہ حاصل کرے گی۔










