خانقاہِ معلی سمیت تمام زیارات پر ہزاروں عقیدت مندوں کی حاضری
سرینگر// یو این ایس// جموں و کشمیر میں عظیم صوفی بزرگ، مبلغ اسلام اور وادی کشمیر میں اسلامی تہذیب و تمدن کے بانی حضرت میر سید علی ہمدانیؒ المعروف حضرت شاہِ ہمدانؒ کا سالانہ عرس مبارک نہایت عقیدت، احترام اور روحانی جذبے کے ساتھ منایا گیا، جس کے دوران پوری وادی ایک روحانی فضا میں ڈوبی رہی۔یو این ایس کے مطابق اس موقع پر سرینگر کی تاریخی و مرکزی درگاہ خانقاہِ معلی سمیت وادی کے مختلف علاقوں ترال، سوپور، پلوامہ، بڈگام، گاندربل، بانڈی پورہ اور دیگر مقامات پر خصوصی مذہبی تقاریب کا اہتمام کیا گیا، جہاں ہزاروں کی تعداد میں عقیدت مندوں نے شرکت کی۔خانقاہِ معلی میں مرکزی تقریب کے دوران قرآن خوانی، نعت خوانی، ذکر و اذکار اور اجتماعی دعا کا اہتمام کیا گیا، جس میں علما، مشائخ اور مذہبی رہنماؤں نے حضرت شاہِ ہمدانؒ کی زندگی اور خدمات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔مقررین نے کہا کہ حضرت میر سید علی ہمدانیؒ نے نہ صرف کشمیر میں اسلام کی تبلیغ و اشاعت میں تاریخی کردار ادا کیا بلکہ انہوں نے وادی کی سماجی و معاشی اصلاح میں بھی بنیادی کردار ادا کیا۔ ان کی کوششوں سے کشمیر میں دستکاری، قالین بافی، شال سازی اور تجارت کو فروغ ملا، جو آج بھی وادی کی معیشت کا اہم حصہ ہے۔عرس کے موقع پر صبح سے ہی عقیدت مندوں کی بڑی تعداد خانقاہوں اور زیارات کی جانب رواں دواں رہی۔ مرد و خواتین، بزرگوں اور نوجوانوں نے یکساں طور پر شرکت کرتے ہوئے روحانی سکون، امن، خوشحالی اور امت مسلمہ کی فلاح و بہبود کیلئے خصوصی دعائیں کیں۔خانقاہوں میں رات بھر جاری رہنے والی محافلِ نعت، درود و اذکار اور دعائیہ اجتماعات نے پورے ماحول کو روحانیت سے بھر دیا، جبکہ زائرین کی آمد کا سلسلہ دن بھر جاری رہا۔انتظامیہ کی جانب سے زائرین کی سہولت کیلئے وسیع انتظامات کیے گئے تھے جن میں سکیورٹی کے سخت انتظامات، ٹریفک کی بہتر تنظیم، پینے کے صاف پانی کی فراہمی، صفائی ستھرائی اور دیگر بنیادی سہولیات شامل تھیں تاکہ عقیدت مندوں کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ ہو۔مقامی لوگوں اور مذہبی تنظیموں نے اس موقع پر کہا کہ حضرت شاہِ ہمدانؒ کا پیغام آج بھی امن، محبت، بھائی چارے، علم اور روحانیت کا روشن مینار ہے جو نئی نسل کیلئے رہنمائی کا ذریعہ ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کی تہذیبی شناخت میں حضرت شاہِ ہمدان? کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی اور ان کا پیغام اتحاد و اخوت آج کے دور میں پہلے سے زیادہ اہمیت اختیار کر چکا ہے۔










