سرینگر///عدالت عظمیٰ نے کہا کہ جیل میں بند کوئی بھی ملزم دوسرے کیس میں پیشگی ضمانت حاصل کرسکتا ہے جس سے اس کی رہائی میں کوئی فرق نہ پڑے ۔ سپریم کورٹ کے ایک بینچ نے کہا کہ ایک کیس سے دوسرے کیس کا تعلق نہیں ہے اور قانونی کارروئی دونوں معاملات میں جدا جدا ہوگی ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق سپریم کورٹ نے پیر کو کہا کہ ایک ملزم، جو کسی معاملے میں حراست میں ہے، گرفتار نہ ہونے کی صورت میں دوسرے معاملے میں پیشگی ضمانت حاصل کرنے کا حقدار ہے۔چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ اور جسٹس جے بی پارڈی والا اور منوج مشرا پر مشتمل بنچ ایک قانونی سوال سے نمٹ رہی تھی کہ کیا جیل میں بند ملزم دوسرے مجرمانہ معاملے میں ضمانت قبل از گرفتاری کے لیے درخواست دینے کا حقدار ہے۔جسٹس پارڈی والا نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا، ’’ایک ملزم اس وقت تک پیشگی ضمانت حاصل کرنے کا حق رکھتا ہے جب تک کہ اسے اس جرم کے سلسلے میں گرفتار نہیں کیا جاتا اور اگر وہ اس معاملے میں بھی گرفتار ہوتا ہے تو پھر اس کا واحد علاج باقاعدہ ضمانت کی درخواست دینا ہے۔‘‘ یہ فیصلہ 2023 میں ایک دھنراج اسوانی کی طرف سے دائر درخواست پر آیا جس میں سوال اٹھایا گیا تھا۔”اس میں کوئی واضح یا مضمر پابندی نہیں ہے جو سیشن یا ہائی کورٹ کو کسی ملزم کو پیشگی ضمانت دینے سے روکتی ہے اگر وہ کسی دوسرے جرم کے سلسلے میں حراست میں ہے۔ یہ مقننہ کے ارادے کے خلاف ہو گا۔” فیصلے میں کہا گیاکہ ایک کیس میں حراست دوسرے کیس میں گرفتاری کے خدشے کو دور کرنے کا اثر نہیں رکھتی۔










