Want to live in peace, will continue to advocate dialogue Dr. Farooq Abdullah

جنگ و جدل میں غریب اور معصوم لوگ مرتے ہیں ، یوکرین اور فلسطین کی مثالیں ہمارے سامنے

امن سے رہنا چاہتے ہیں، بات چیت کی وکالت کرتے رہیںگے/ ڈاکٹر فاروق عبد اللہ

سرینگر // جنگ و جدل میں غریب اور معصوم لوگ مرتے ہیں ، یوکرین اور فلسطین کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں یہی وجہ ہے کہ ہم پڑوسی ملک کیساتھ بات چیت کی وکالت کرتے ہیں کی بات کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق نے کہا کہ اس کیلئے ہمیں ملک دشمن اور پاکستانی کہا جاتا ہے، ہم امن سے رہنا چاہتے ہیں اور ہم ہمیشہ بات چیت کی وکالت کرتے رہیں گے۔ سی این آئی کے مطابق صدرِ نیشنل کانفرنس ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے آج پارٹی اُمیدوار برائے وسطی کشمیر سرینگر پارلیمانی نشست آغا سید روح اللہ مہدی کے حق میں انتخابی مہم جاری رکھتے ہوئے حلقہ انتخاب چاڈورہ کے کینہ ہامہ میں فقید المثال عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے تقریر میں بھاجپا کو ہدف تنقید بناتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہاکہ ہندوستان میں20کروڑ سے زیادہ مسلمان آباد ہیں اور موجودہ حکمرانوں نے گذشتہ 10برس سے اتنی بڑی آبادی کیساتھ ناانصافی کا سلوک روا رکھا ہے۔ مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں مداخلت کی جارہی ہے، مسلمانوں کے کھانے ، پہنائوے اور زندگی گزارنے کے طریقوں میں بے جا مداخلت کی جارہی ہے، مسلمانوںکی مساجد پر بلڈوزر چلائے جارہے ہیں، مسلمانوں کی عبادتگاہوں پر زعفرانی جھنڈے لہرائے جاتے ہیں، باریش مسلمانوں کو نشانہ بنا یا جارہاہے نیز بھاجپا حکومت نے مسلمانوں کیخلاف اعلان جنگ کر رکھا ہے اور اس کے باوجود بھی کشمیر میں اے بی سی اور ڈی ٹیمیں بھاجپا کے اشاروں پر کام کررہی ہیں اور بھاجپا کی مدد و اعانت میں لگے ہوئے ہیں۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ 2014میں جموں وکشمیر کے ووٹروں سے غلطی ہوئی اور منڈیٹ غلط سیاسی جماعتوں کے ہاتھ لگ گیا ، نتیجتاً دفعہ370اور35اے کاخاتمہ ممکن ہوپایا اور ہماری یہ تاریخی ریاست نہ صرف خصوصی پوزیشن سے محروم ہوگئی بلکہ اس کے دوٹکڑے کرکے اسے دو غیر جمہوری مرکزی زیر انتظام علاقوں میں تبدیل کیاگیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے 2014میں عوام کو ہوشیار کرنے کی ان تھک کوششیں کی لیکن بدقسمتی سے ہماری وارننگ کو ہلکے میں لیا گیا، اگر 2014میں نیشنل کانفرنس کو منڈیٹ ملا ہوتا تو دفعہ370اور35اے آج بھی برقرار ہوتے اور ہماری اس تاریخی ریاست کو کسی بھی قسم کی زک نہیں پہنچی ہوتی۔ انہوں نے کہاکہ خصوصی پوزیشن کے خاتمے کیلئے جو جماعتیں قصوروار ہیں وہ آج پھر سے آپ کے ہمدربن بیٹھے ہیں اور آپ سے ووٹ طلب کررہے لیکن درپردہ طور پر وہ آج بھی بھاجپا کیساتھ برابر ملے ہوئے ہیں۔ عوام کو ان جماعتوں اور عناصر کے اداروں اور ناپاک عزائم کو سمجھ کر فیصلہ کرنا ہوگا ، اب غلطی کی کوئی گنجائش نہیں، اگر ہم نے اب بھی غلطیاں دہرائیں تو آنے والی نسلیں ہمیں کسی بھی صورت میں معاف نہیں کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ دفعہ370کے کے خاتمے وقت ہم سے کہا گیا تھا کہ ہزاروں نوکریاں دی جائیں گی لیکن کسی کو روز نہیں ملا، اگر کوبھرتی ہوئی تو وہ غیر مقامی لوگوں کی بھرتی ہوئی۔ جموں و کشمیر کے پشتینی باشندوں کو ہر سطح پر نظرانداز کیا جارہاہے۔ ہمارے سینکڑوں بچے آج بھی باہری جیلوں میں زیر عتاب ہیں، بیشتر کے والدین کے پاس اتنا گزارا نہیں کہ وہ اپنے بچوں سے ملاقات کیلئے باہر جائیں، اور حکمران یہاں سب کچھ ٹھیک ہونے کے دعوے کرتے پھر رہے ہیں۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ اگر جموں و کشمیر میں حالات اتنے ہی ٹھیک ہیں تو آئے روز حملے کیوں ہورہے ہیں؟ اگر حالات اتنے ہی ٹھیک ہیں تو پھر جی 20کے مہمانوں کو گلمرگ اور داچھی گام سیر کرانے کا پروگرام کیوں منسوخ کیا گیا؟ انہوں نے کہا کہ بھاجپا حکومت زبانی جمع خرچ سے ملک اور دنیا کے عوام کو گمراہ کررہے ہیں لیکن جموںوکشمیر کے زمینی حقائق ان دعوئوں سے کوسوں دور ہیں۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے عوام سے اپیل کی کہ وہ نیشنل کانفرنس کو پارلیمانی انتخابات میں کامیاب بنا کر ملک اور دنیا کو یہ پیغام بھیجیں ہم نے 5اگست2019کے فیصلے قبول نہیں کئے ہیں۔