جنوبی کشمیر میں اخروٹ کے درختوں کا صفایا جاری

جنوبی کشمیر میں اخروٹ کے درختوں کا صفایا جاری

بیش قیمتی درختوں کو کاٹنے میں متعلقہ محکمہ جات اور ٹھیکدار وں کے درمیان ساز باز

سرینگر// موجودہ کووڈ کے حالات کی آڑ میں جنوبی کشمیر میں صدیوں پْرانے اخروٹ کے درختوں کا صفایا شروع کیا گیا ہے۔ متعلقہ محکمہ کی جانب سے اگرچہ ایک درخت کو کاٹنے کی اجازت دیتا ہے وہ بھی بوسیدہ درخت کو تاہم ٹھیکدار اس ایک درخت کے ساتھ ساتھ بیس سے تیس درخت کاٹ کر لے جاتے ہیں اور اس کی لکڑی مہنگے داموں فروخت کرتے ہیں۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق جنوبی کشمیر میں موجودہ نامساعد حالات کی آڑ میں چند خود غرض عناصر کشمیر کی صدیوں پْرانی نشانی اخروٹ کے درخت کو کاٹ کر اس کی لڑکی مکانوں کی پنلنگ اور دیگر اشیاء تیار کرنے کیلئے استعمال کررہے ہیں جس کی انہیں اس کی بھر پور قیمت ملتی ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ اور کولگام میں اس وقت کووڈ 19 حالات کے پیش نظراخروٹ کے درختوں کا بڑی بے دردی کے ساتھ صفایا کیا جارہا ہے۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اخروٹ کے بوسیدہ درختوں کو کاٹنے کیلئے سرکاری اجازت نامہ لازمی ہے اور ٹھیکدار ریونیواور محکمہ جنگلات میں کسی جگہ کسی ایک بوسیدہ درخت کو کاٹنے کیلئے منظوری نامہ حاصل کرتے ہیں تاہم اس کی آڑ میں وہ بیس سے تیس درخت کاٹ ڈالتے ہیں کیوں کہ اس وقت اخروٹ کے درختوں کو اچھی خاصی رقم ملتی ہے۔ ذرائع کے مطابق اخروٹ کے درختوں کو غیر قانونی طریقے سے کاٹنے میں ٹھیکداروں اور متعلقہ محکمہ جات کے ملازمین کے درمیان ملی بھگت ہوتی ہے۔ جس کے نتیجے میں اخروٹ کے درختوں کا صفایا ہورہا ہے۔ سی این آئی کو بتایا کہ جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ، قاضی گنڈ، کولگام ، شوپیاں اور پلوامہ میں آج کل اخروٹ کے درختوں کو کاٹنے کا سلسلہ تیز کردیا گیا ہے۔ انہوںنے کہا کہ یہ درخت صدیوں پْرانے ہمارے آباو اجداد نے لگائے تھے جن کا فائدہ آج ہمیں بھی مل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اخروٹ کے درختوں کو دوبارہ بونے کیلئے محکمہ جنگلات کوئی بھی قدم نہیں اْٹھاتا ہے اور آج ہمارے پاس جو درخت موجود ہے ان کی تعداد آئے روز کم ہوتی جارہی ہے اور وہ دن دور نہیں جب ہم اس قومی نشانی سے محروم ہوجائیں گے۔