سرکاری ملازمین کواپنے حق کی لڑائی میں پابندی کے خلاف عدالت کادروازہ کھٹکھٹانا چاہئے /سیدالطاف بخاری
سرینگر//1947میں جموں وکشمیر کا مستقبل نئی دہلی کے ساتھ جڑنے کاعندیہ دیتے ہوئے اپنی پارٹی کے سربراہ نے کہاکہ اسکوکوئی نقصان نہیں پہنچاسکتا کئی لوگوں نے اپنی سیاست چمکانے میں نوجوانوں کوگمرہ کیااور کئی سیاسی پارٹیاں اب زائدالمیعاد ہوگئی ہیں لوگوں کواب ان کی ضرور ت نہیں ہے ۔سرکاری ملازمین نے پرُامن احتجاج پرپابندی عائد کرنا حقوق کی خلاف ورزی ہے ۔جموں کشمیرکے لوگوں کومصائب مشکلات سے باہرنکالنے کے لئے پارٹی کاقیام عمل میںلایاگیاہے ۔اے پی آئی نیوزڈیسک کے مطابق چھان پورہ سرینگر میں ایک روزہ پارٹی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے اپنی پارٹی کے سربراہ سید الطاف بخاری نے اس بات کا عندیہ دیاکہ 1947میں جموںو کشمیرکامقدر ہندوستان کے ساتھ جڑچکاہے اور اس رابطے کوکوئی نہ تونقصان پہنچاسکتاہے ا ورنہ جموںو کشمیرکے لوگوں کوہندوستان سے کوئی علیحدہ کرسکتاہے ۔پارٹی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ کئی لوگوں نے اپنی سیاست اور جموں کشمیرپرمکمل طور پرگرفت حاصل کرنے کے لئے نوجوانوں کوبھی گمرہ اکیاجسکاآج ہم خمیازہ بگھت رہے ہیں ۔انہوںنے کہاکہ کئی سیاسی لیڈروںنے جموں وکشمیرکے لوگوں کواپنے رحم وکرم پرچھوڑدیا ۔انہوںنے کسی بھی سیاسی پارٹی کانام لئے بغیر کہاکہ وہ زائدالمیعاد ہوچکی ہے اور ان پارٹیوں کے لیڈروں کی اب جموں کشمیرکے عوام کوکوئی ضرورت نہیں ہیں۔ انہوں نے کہاکہ نوجوان اس قوم کاسرمایہ ہیں او روہ اس قوم کی بھاگ دوڑکواپنے ہاتھ میں لینے لئے تیار ہیں۔ جن سیاسی پارٹیوں کے لیڈروں نے عوام کااستحصال کیاہے انہیں جموںو کشمیرکے رائے دہندگان معاف نہیں کرینگے ۔سرکار کی جانب سے سرکاری ملازمین کواپنے مطالبات منوانے کے لئے احتجاج پرپابندی عائدکرنے کی کارروائی کوجمہوری مزاج کے منافی قرار دیتے ہوئے انہوںنے کہاکہ سرکار کواس پرنظرثانی کرنی چاہے۔ ملازمین کوان کے حق سے محروم نہیں کیاجاسکتا۔ انہوںنے کہا اپنی پارٹی کاقیام جموںو کشمیرکے لوگوں کودلدل سے باہرنکالنے کے لے عمل میںلایاگیاہے اور جس بڑے پیمانے پرلوگ اپنی پارٹی کے ساتھ جڑ رہے ہیں وہ ہماری سچی اور بے خوف آواز کی عکاس ہے ۔انہوںنے جموںو کشمیرمیں الیکشن کوطوالت میں ڈالنے پرحیرانگی کااظہارکرتے ہوئے کہا ایک عوامی حکومت ہی جموں وکشمیرکے لوگوں کوراحت پہنچانے ا ورمصائب مشکلات سے باہرنکالنے کیلئے اپنی خدمات انجام دے سکتی ہے ۔










