#covid kashmir

جموں کشمیر میں کوروناوائرس کے بڑھتے معاملات

انتظامیہ کی جانب سے پیشگی اقدامات، ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف ہوگی کارروائی

سرینگر//جموںکشمیر میں کوروناوائرس کے مثبت معاملات میں گزشتہ ہفتے سے اضافہ دیکھنے کو مل رہاہے تاہم سرکاری سطح پر اس سے نمٹنے کیلئے تیاریاں بھی کی جارہی ہے جبکہ انتظامیہ نے صاف کہا ہے کہ جو بھی کووڈ ایس او پیز کی خلاف ورزیر کا مرتکب ہوگا اس کے خلاف کارروائی ہوگی ۔ ادھر جموں کشمیر میں کووڈ کے معاملات میں اضافہ کے پیش نظر انتظامیہ کی جانب سے دونوں صوبوں میں رات کا کرفیو بدستور جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ اس دوران کووڈ مناسب طرز عمل پر بھی سختی سے عمل کرانے کے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی ہے ۔ ادھر بارہویں اور دسویں جماعتوں کے چھوڑ کر ہائر سیکنڈری ، ہائی سکول اور پرائمری سکولوں کو بندستور بند رکھنے کا بھی فیصلہ لیا گیا ہے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق جموں کشمیر میں کووڈ کے مثبت کیسوں میں اضافہ کے پیش نظر انتظامیہ نے جموں کشمیر کے تمام اضلاع میں شبانہ کرفیو کا نفاذ عمل میں لانے کا فیصلہ کیا ہے تاہم جہاں ہفتہ وار 250معاملات سامنے آرہے ہیں ان میں 10بجے رات سے صبح 6بجے تک ہی کرفیو کا نفاذ رہے گا۔ اس دورران پوری ریاست میں ایس آر ٹی سی کی مسافر گاڑیوں کیلئے ٹیکہ لگانے کو اہم قراردیا گیا ہے یا جن لوگوں کا ٹیکہ نہیں لگا ہے ان کا 72گھنٹوں کے اندر آر ٹی پی سی ٹسٹ رکھنا لازمی ہوگا۔ اس کے علاوہ جموں اور کشمیر میں کووڈ مناسب طرز عمل پر بھی سختی سے عمل کرایا جارہا ہے ۔ ادھر جموں کشمیر میں کووڈ کے مثبت معاملات میں پھر سے اضافہ کو دیکھتے ہوئے انتظامیہ نے کہا ہے کہ جموں کشمیر میں بارہویں جماعت اور 10جماعت کے بغیر تمام سکول بند رہیں گے ۔ یہ فیصلہ چیف سیکریٹری اے کے مہتا کی صدارت میں منعقدہ ایک میٹنگ میں لیا گیا جس میں کووڈ کو دوبارہ پھیلنے سے روکنے کیلئے تمام ممکنہ اقدامات اُٹھانے پر زور دیا گیا جس میں شبانہ کرفیو کا نفاذ بھی بدستور جاری رہنے کو کہا گیا ہے ۔ اس دوران کہا گیا گکہ بارہویں جماعت کے کلاسوں میں تدریسی عملہ کی پچاس فیصدی حاضری کی ہی اجازت دی گئی ہے ۔ اس کے علاوہ سٹاف اور طلبہ کی ٹیکہ کاری بھی لازمی قراردیا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ سکول آنے کے خواہشمند طلبہ کے والدین سے راضی نامہ بھی لینا لازمی قراردیا گیا ہے ۔ جموں کشمیر میں کووڈ کے معاملات میں اضافہ کے پیش نظر انتظامیہ کی جانب سے دونوں صوبوں میں رات کا کرفیو بدستور جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ اس دوران کووڈ مناسب طرز عمل پر بھی سختی سے عمل کرانے کے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی ہے ۔ ادھر بارہویں اور دسویں جماعتوں کے چھوڑ کر ہائر سیکنڈری ، ہائی سکول اور پرائمری سکولوں کو بندستور بند رکھنے کا بھی فیصلہ لیا گیا ہے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق جموں کشمیر میں کووڈ کے مثبت کیسوں میں اضافہ کے پیش نظر انتظامیہ نے جموں کشمیر کے تمام اضلاع میں شبانہ کرفیو کا نفاذ عمل میں لانے کا فیصلہ کیا ہے تاہم جہاں ہفتہ وار 250معاملات سامنے آرہے ہیں ان میں 10بجے رات سے صبح 6بجے تک ہی کرفیو کا نفاذ رہے گا۔ اس دورران پوری ریاست میں ایس آر ٹی سی کی مسافر گاڑیوں کیلئے ٹیکہ لگانے کو اہم قراردیا گیا ہے یا جن لوگوں کا ٹیکہ نہیں لگا ہے ان کا 72گھنٹوں کے اندر آر ٹی پی سی ٹسٹ رکھنا لازمی ہوگا۔ اس کے علاوہ جموں اور کشمیر میں کووڈ مناسب طرز عمل پر بھی سختی سے عمل کرایا جارہا ہے ۔ ادھر جموں کشمیر میں کووڈ کے مثبت معاملات میں پھر سے اضافہ کو دیکھتے ہوئے انتظامیہ نے کہا ہے کہ جموں کشمیر میں بارہویں جماعت اور 10جماعت کے بغیر تمام سکول بند رہیں گے ۔ یہ فیصلہ چیف سیکریٹری اے کے مہتا کی صدارت میں منعقدہ ایک میٹنگ میں لیا گیا جس میں کووڈ کو دوبارہ پھیلنے سے روکنے کیلئے تمام ممکنہ اقدامات اُٹھانے پر زور دیا گیا جس میں شبانہ کرفیو کا نفاذ بھی بدستور جاری رہنے کو کہا گیا ہے ۔ اس دوران کہا گیا گکہ بارہویں جماعت کے کلاسوں میں تدریسی عملہ کی پچاس فیصدی حاضری کی ہی اجازت دی گئی ہے ۔ اس کے علاوہ سٹاف اور طلبہ کی ٹیکہ کاری بھی لازمی قراردیا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ سکول آنے کے خواہشمند طلبہ کے والدین سے راضی نامہ بھی لینا لازمی قراردیا گیا ہے ۔