ضلع ترقیاتی کمشنروں کو 30 دن کے اندر اجازت دینے کا اختیار ہوگا
سری نگر//محکمہ مال نے جموں و کشمیر کی زرعی زمین (غیر زرعی مقاصد کے لیے تبدیلی) کے ضوابط کو باضابطہ طور پر وضع کرکے زمین کے مالکان کو یہ اختیار دیا کہ وہ 400 مربع میٹر سے زیادہ کی زرعی زمین کو رہائشی مقاصد کے لیے استعمال کرسکتا ہے تاہم ضلعی سطح کی کمیٹی کی سربراہی ضلع کلکٹرس کرے گے جو زرعی اراضی کو غیر زرعی زمین میں تبدیل کرنے کی درخواست کا جائزہ لے گے اور کمیٹی کی سفارشات کے بعد اجازت دے گے۔کے این ایس کو ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ سرکار نے اب باضابطہ طور پر زرعی اراضی کو غیر زرعی مقاصد کے استعمال کرنے کیلئے ایک حکم نامہ جاری کیا ہے تاہم اس ساری عمل کی زمہ داری ڈسٹرکٹ کلکٹروں کو سونپ دی گئی ہے جو مختلف افسران پر مشتمل کمیٹی کے سربراہان ہونگے۔ذرائع نے بتایا کہ زرعی زمین کی تبدیلی کے لئے جو کمیٹی قائم کی گئی ہے اس کمیٹی میں اسسٹنٹ کمشنر (ریونیو) بطور ممبر سکریٹری ہوگا اور اس میں پبلک ورکس (آر اینڈ بی)، آبپاشی اور فلڈ کنٹرول، پاور ڈیولپمنٹ ،پولوشن کنٹرول بورڑ (اگر ضرورت ہو)، زراعت،انڈسٹری اور کامرس کے علاؤہ جنگلات محکمے کے سینئر ترین ضلع افسران شامل ہوں گے۔ذرائع کے مطابق ضلع سطح کی کمیٹی ہر ہفتے ایک مقررہ دن میٹنگ کرے گی تاکہ زمین کے استعمال میں تبدیلی کے معاملات پر غور کیا جا سکے تاہم ضلعی کلکٹروں کو یہ اختیار دیا جائے گا کہ وہ مقدمات کو نمٹانے کے لیے اضافی میٹنگیں بلائیں اور حکومت نے کچھ شرائط درج کی ہیں جن کی بنیاد پر زمین کے استعمال کو تبدیل کرنے کی اجازت دی جائے گی جبکہ اجازت کی فراہمی جموں و کشمیر لینڈ ریونیو ایکٹ اور وضع کردہ قواعد کی دفعات کے ساتھ مشروط ہوگی اور ساتھ ہی قواعد کے مطابق زمین کو اس مقصد کے علاوہ کسی اور مقصد کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا جس کے لیے اجازت دی گئی ہے۔قواعد میں کہا گیا ہے کہ اگر درخواست دہندہ تاریخ کے حکم سے ایک سال کے اندر اور اجازت کی پہلی تاریخ سے زیادہ سے زیادہ دو سال تک کے لیے درخواست کردہ غیر زرعی استعمال شروع نہیں کرتا ہیتو دی گئی اجازت ختم تصور کی جائے گی۔ذرائع کے مطابق متعلقہ اسسٹنٹ کمشنر ریونیو/سب ڈویڑنل مجسٹریٹ ایکٹ کی دفعات کے تحت کسی بھی خلاف ورزی پر کارروائی کر سکتے ہیں اور زرعی زمین کی تبدیلی کے لیے مالک سے زمین کی مارکیٹ ویلیو کے 5 فیصد کے مساوی فیس وصول کی جائے گی جیسا کہ سٹیمپ ایکٹ کے تحت اس مقصد کے لیے مطلع کیا گیا ہے اور اگر بعد میں زمین کے استعمال کو اس مقصد کے علاوہ کسی دوسرے مقصد کے لیے تبدیل کیا جاتا ہے جس کے لیے اجازت دی گئی ہے مگر فیس مارکیٹ ویلیو پر لاگو ہوگی پھر متعلقہ ڈسٹرکٹ کلکٹر کی طرف سے اس مقصد کے لیے اجازت کے بعد یہ چارج کیا جائے گا اور یہ رولز میں واضح کیا گیا ہے۔ذارئع نے بتایا کہ اس پورے معاملے میں ریونیو ڈیپارٹمنٹ نے اجازت دینے کے لیے 30 دن کی مدت مقرر کی ہے۔رولز کے مطابق اگر ہر طرح کی درخواست کی وصولی کے بعد 30 دنوں کے اندر کوئی فیصلہ نہیں کیا جاتا ہے تو ضلع کلکٹر اس حوالے سے مناسب فیصلہ کرسکتے ہیں اور وہ اپنے اختیار کو استعمال کرنے کی اجازت دے گا اور ریونیو ڈیپارٹمنٹ کو وضاحتی نوٹ کے ساتھ تفصیلات کی اطلاع دے جائیگی۔ رولز میں مزید کہا گیا ہے کہ اسسٹنٹ کمشنر ریونیو، سب ڈویڑنل مجسٹریٹ اور متعلقہ تحصیلدار اپنے اپنے دائرہ اختیار کے اندر قواعد و ضوابط کے نفاذ کی نگرانی کے ذمہ دار ہوں گے اور کسی بھی خلاف ورزی کا نوٹس لینے پر کارروائی کریں گے تاہم یہ ہر ایگریکلچر ایکسٹینشن آفیسر کا فرض ہوگا کہ وہ اپنے اپنے دائرہ اختیار کے علاقوں میں ان ضابطوں کی خلاف ورزیوں کی اطلاع اسسٹنٹ کمشنر ریونیو، ایس ڈی ایم یا تحصیلدار کو دیں گے اور اگر وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے گے تو اسے ڈیوٹی سے لاپرواہی سمجھا جائے گا اور وہ تادیبی کارروائی کا ذمہ دار ہوگا۔










