Violence and crimes against children

جموں کشمیر میں بچوں کے خلاف تشدد و جرائم

10ماہ کے دوران635 معاملات منظر عام پر،سرینگر سرفہرست

سرینگر//جموں کشمیر میں معصوم بچوں کے خلاف جرائم کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ گزشتہ10ماہ کے دوران خطہ میں650کے قریب کیس سامنے آئے۔وائس آف انڈیا کے مطابق جموںکشمیر میں بچوں کے ساتھ بدسلوکی اور استحصال کے جرائم میں کوئی کمی نہیں آئی۔گرمائی دارلحکومت سرینگر سرفہرست ہے جبکہ جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیاں آخریی پائیداں پر ہے۔ ضلع گڈ گورننس رپورٹ کے مطابق جموں صوبے میں341جبکہ سرینگر میں294کیس سامنے آئیں جبکہ مجموعی کیسوں کی تعداد گزشتہ برس مئی سے امسال فروری تک635ہے۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس مئی میں79جبکہ جون میں سب سے زیادہ87اور جولائی میں77کے علاوہ ستمبر میں56کیس سامنے آئے۔رپورٹ کے مطابق اکتوبر میں کیسوں کی تعداد 49،نومبر میں62 اور دسمبر میں46تھی۔ ڈی جی جی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امسال جنوری میں59اور فروری میں55کیس درج کئے گئے۔نیشنل کرائم ریکارڈ بورڈ(این سی آر بی )کی تازہ ترین رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ جموں و کشمیر میں 2021اور22سالوں میں بچوں کے خلاف جرائم میں 35 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔2020 میں 606 کیسوں کے مقابلے میں، جموں و کشمیر میں سال 2022 میں پولیس کے ذریعے بچوں کے خلاف جرائم کے 920 کیس درج کیے گئے ہیں۔2021 میں، جموں کشمیر میں بچوں کے خلاف جرائم کے 845 واقعات درج ہوئے۔ 2019 میں 470 اور 2018 میں 473 ایسے کیس سامنے آئے جن میں بچوں کے خلاف جرائم کئے گئے تھے۔ ڈی جی رپورٹ کے مطابق سرینگر ضلع میں سب سے زیادہ81کیس سامنے آئے جبکہ جموں میں39،ادھمپور میں46بارہمولہ میں49 اننت ناگ میں42،کھٹوعہ میں38اورراجوری میں54کیس سامنے آئیں۔ رپورٹ میں مزید اعداد شمار بتاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ریاسی میں29،پونچھ میں28،سامبا میں24کپوارہ میں42رام بن میں36کشتواڑ میں27 اور پلوامہ میں24کیسوں کا اندراج کیا گیا۔ ان اعداد شمار کے مطابق گاندربل میں9،بانڈی پورہ میں7،کولگام میں15،بڈگام میں24 اور ڈوڈہ میں16کیسوں کے علاوہ شوپیاں میں بچوں کے خلاف جرائم منظر عام پر آئے۔ مرکزی حکومت نے جنوری 2018 میں چائلڈ پروٹیکشن سروسز اسکیم (سابقہ انٹی گریٹیڈ چائلڈ پروٹیکشن اسکیم) کو جموں و کشمیر تک توسیع دی۔چائلڈ پروٹیکشن سروسز اسکیم کا مقصد کمزور بچوں بشمول وہ لوگ جن کے ساتھ بدسلوکی کے جاتی ہیں،کیلئے ایک محفوظ، حفاظتی ماحول فراہم کرنا ہے،۔اگست 2019 میں دفعہ 370 کی تنسیخ کے ساتھ، جموں کشمیر پاسکو ایکٹ کو منسوخ کر دیا گیا اور پاسکوں(ترمیمی) ایکٹ، 2019 سے اس کی جگہ لایا گیا۔جموںکشمیر میں بچوں کے ساتھ بدسلوکی اور استحصال کے جرائم میں کوئی کمی نہیں آئی جس کے متاثرین پر دیرپا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔