chief secretary

جموں و کشمیر میں یوم آزادی کی تقریبات آسان بنانے کیلئے جموں و کشمیر میں اجتماعات کی حد میں نرمی

تمام تعلیمی ادارے تاحکم ثانی بند رہیں گے: چیف سیکریٹری

سرینگر //جموںوکشمیر سٹیٹ ایگزیکٹیو کمیٹی نے اتوار کو یوم آزادی کے موقعہ پر اندرونی اور بیرونی اجتماعات میں شرکت کرنے کیلئے لوگوں کی تعداد میں عارضی نرمی دینے کا حکم دیا ہے۔ تاہم ضلع مجسٹریٹوں کو کورونا کیلئے متعین کئے گئے عملیاتی طریقہ کار (SO)کو یقینی بنانے کی ہدایت دی گئی ہے۔ ان رعایتوں کو دینے کے باوجود سٹیٹ ایگزیکٹیو کمیٹی نے یونین ٹیریٹری میں تا حکم ثانی کووڈ سے بچنے کے لئے تمام تعلیمی اداروں کو بند رکھنے اور شبانہ کرفیو کے نفاذ کا فیصلہ کیاہے۔ کووڈ19کا تفصیلی جائزہ لینے ، ہدف میں رکھی گئی آبادی کیلئے ،جس میںہفتہ وار نئے کورونا معاملات (فی دس لاکھ )، کُل مثبت معاملات کی شرح، بیڈسہولیات، اموات کی شرح اور ٹیکہ کاری کا احاطہ جیسے امورات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ حکمنامہ جاری کیاگیا۔ چیف سیکریٹری اے کے مہتا نے کہاکہ ’’تمام اضلاع میں روزانہ معاملات میںاتارچڑھاو کو دیکھتے ہوئے کورونا سے بچائو کیلئے موجودہ اقدامات کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہے‘‘۔ انہوںنے کہاکہ ’15اگست کو یوم آزادی کی تقریبات کو دیکھتے ہوئے ان پابندیوں کو عاراضی طور پر نرم کیا گیا ہے تاہم تمام ضلع مجسٹریٹوں کو SOPsکو یقینی بنانا ہوگا‘‘۔ چیف سیکریٹری نے کہاکہ کسی بھی ضلع میں ہفتہ وار کرفیو کا نفاذ نہیں ہوگا البتہ تمام اضلاع میں شبانہ کرفیو شام 8بجے سے صبح7بجے تک رہے گا ۔ انہوںنے کہاکہ تمام ضلع ترقیاتی کمشنرRT-PCRاور RATدستیاب سہولیات کے تحت ٹیسٹنگ میں سرعت لائے اور اس میں کوئی کمی نہیں آنی چاہئے۔ چیف سیکریٹری نے کہاکہ ’تمام سکول اور اعلیٰ تعلیمی ادارے جن میں کوچنگ مراکز بھی شامل ہیں، فی الحال تا حکم ثانی روبرو تعلیم کیلے بند رہیں گے تاہم انتظامی مقاصد اور یوم آزادی تقریبات کے نتاظر میںتعلیمی اداروں کوٹیکہ لگانے والے عملہ کی ذاتی حاضری یا طلاب کے داخلے کے مقاصدکیلئے اجازت ہے تاہم ان کی تعداد 25سے زیادہ نہ ہو اور ساتھ ہی ساتھ کووڈ ایس او پیز کا خیال رکھنا ہوگا‘‘۔ انہوںنے ضلع ترقیاتی کمشنروں کو ہدایت دی کہ وہ اپنے حدود میں آنے والے میڈیکل بلاک میں مثبت معاملات پر نظر رکھیں۔ حکمنامہ میں کہا گیا ہے کہ ضلع ترقیاتی کمشنر ان بلاکوں میں کووڈ منیجمنٹ سے متعلق موثر اقدامات اور سرگرمیوں پرپابندی کو دیکھ لیں۔حکمنامہ میں مزید کہا گیا کہ پنچائت سطح پر دوبارہ نقشہ سازی کی جائے اور جہاں کہیں بھی معاملات میںغیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آئے تو موثر مائیکرو کنٹومنٹ زونوں کا قیام عمل میں لایائے۔ ضلع ترقیاتی کمشنروں سے کہا گیا ہے کہ وہ بلاکوں میں مثبت شرح کے معاملات پر نظر رکھیں اور اگر ان بلاکوں میںہفتہ وار4فیصد سے زیادہ مثبت معاملات سامنے آئیں تو عوامی۔نجی دفاتر، کمیونٹی ہال، مالز اور بازاروں پر سخت اقدامات کرنے پر غور کریں۔ چیف سیکریٹری نے کہاکہ ان بلاکوں میں ٹیکہ کاری کے علاوہ تینTکے پروٹوکال’ٹیسٹنگ‘، ’ٹریکنگ‘ اور ’ٹریٹنگ‘ کو مضبوط کیا جائے۔ انہوںنے کہاکہ آر ٹی ۔پی سی آر ٹیسٹوں کے تناسب کو بڑھایاجائے اور مسافروں کے بغیر یہ 70فیصد تک یا اس سے زیادہ کیاجائے۔ انہوںنے کہاکہ سرعت سے کی گئی ٹیسٹنگ کے سبب مثبت معاملات کا پتہلگ جاتا ہے اور انہیں الگ رکھ کر جتنا جلد ہوسکے ، قرنطینہ میں رکھ کر ان کے روابط کو جلد ڈھونڈا جائے ۔ محکمہ صحت و طبی تعلیم کو ہدایت دی گئی کہ کورونا معاملات کی تشخیص کی بنیاد پر وہ بہتر ڈھانچے کی فراہمی کو یقینی بنائیں ۔حکمنامہ میں کہاگیا ہے کہ تمام پنچائتوں میں 15دنوں میںمثبت معاملات کا پتہ لگانے کیلئے قومی صحت مشن ضلع ترقیاتی کمشنروں سے مشاورت کرکے پنچائت سطح پر نقشہ سازی اور اعداد و شمار جمع کریں۔ چیف سیکریٹری نے ضلع مجسٹریٹوں کو ہدایت دی کہ وہ کووڈ کو قابو کرنے سے متعلق معیاری عملیاتی طریقہ کار کو یقینی بنائیں اور خلاف ورزی کرنے والوں کے ساتھ IPCاور ڈیزاسٹر منیجننٹ ایکٹ کے تحت سختی سے نمٹا جائے۔ حکمنامہ میں کہاگیا ہے کہ ’ضلع مجسٹریٹ پولیس اور ایگزیکٹیو مجسٹریٹ ٹیموں کو تشکیل دے کر SOPsکو لاگو کروائیں اور مشترکہ ٹیم روزانہ بنیادوں پر کی گئی سرگرمیوں کی رپورٹ جمع کرائیں۔