جموں و کشمیر میں تعلیمی نظام کو 2 بڑے چیلنجوں کا سامنا

3,192 کم اندراج اسکول، ہزاروں میں بنیادی سہولیات کی کمی

سرینگر// یو این ایس / / جموں و کشمیر میں تعلیمی ڈھانچے سے متعلق تازہ سرکاری اعداد و شمار نے نظامِ تعلیم کو درپیش سنگین مسائل کو اجاگر کیا ہے، جہاں ایک طرف کم اندراج اسکولوں کی بڑی تعداد سامنے آئی ہے، وہیں دوسری طرف بنیادی سہولیات کی کمی، اساتذہ کی غیر متوازن تعیناتی اور اسکولوں کی بندش و انضمام نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔یو این ایس کے مطابق محکمہ اسکول ایجوکیشن کے مطابق 2022 سے اب تک جموں و کشمیر میں کم از کم 3,192 ایسے اسکولوں کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں طلبہ کی تعداد یا تو نہ ہونے کے برابر ہے یا دس سے کم ہے۔ اس کے ساتھ ہی 2019 سے اب تک 1,732 اسکول یا تو بند کیے گئے ہیں یا انہیں دیگر اداروں میں ضم کر دیا گیا ہے تاکہ وسائل کے بہتر استعمال کو یقینی بنایا جا سکے۔اعداد و شمار کے مطابق ان کم اندراج اسکولوں میں مجموعی طور پر 2,518 اساتذہ تعینات ہیں، جو انتہائی کم طلبہ کے باوجود تنخواہیں حاصل کر رہے ہیں۔ جموں ڈویڑن میں 1,494 ایسے اسکول ہیں جہاں 1,934 اساتذہ تعینات ہیں، جبکہ کشمیر ڈویڑن میں 1,698 اسکولوں میں 584 اساتذہ موجود ہیں۔ اس صورتحال نے اساتذہ کی تقسیم اور تعلیمی وسائل کے استعمال پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔اسی طرح یو ڈی آئی ایس ای 2025-26کے اعداد و شمار کے مطابق تعلیمی اداروں میں بنیادی سہولیات کی کمی بھی تشویشناک سطح پر ہے، جہاں 2,698 اسکولوں میں لڑکوں کے لیے بیت الخلا موجود نہیں، 57 اسکولوں میں لڑکیوں کے لیے بیت الخلا اور 78 اسکولوں میں پینے کے صاف پانی کی سہولت دستیاب نہیں۔ مزید 9,078 اسکولوں میں باونڈری وال جبکہ 10,896 اسکول کھیل کے میدان سے محروم ہیں۔حکومت کے مطابق ان مسائل کے حل کے لیے 4,481 بیت الخلا زیر تعمیر ہیں جن میں 1,441 لڑکوں، 2,575 لڑکیوں اور 465 خصوصی بچوں کے لیے سہولیات شامل ہیں۔ حکومت نے اب تک ایسے اسکولوں پر 13,816.66 کروڑ روپے تنخواہوں کی مد میں خرچ کیے ہیں، جبکہ اساتذہ کی دوبارہ تعیناتی اور کلسٹر ریسورس سسٹم کے ذریعے تعلیمی بہتری کی کوششیں جاری ہیں۔یو این ایس کے مطابق تعلیمی نظام کو ایک اور بڑے چیلنج کا سامنا ہے، جہاں سیکنڈری سطح (نویں اور دسویں جماعت) پر ڈراپ آؤٹ کی شرح 12.9 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے، جو قومی اوسط 11.5 فیصد سے زیادہ ہے۔ یہ اعداد و شمار پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے سرکاری ڈیٹا کا حصہ ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق پرائمری سطح پر ڈراپ آؤٹ شرح 1.5 فیصد جبکہ اپر پرائمری سطح پر 3.2 فیصد رہی، جو نسبتاً کم ہے۔ تاہم جیسے ہی طلبہ سیکنڈری سطح پر پہنچتے ہیں، اسکول چھوڑنے کا رجحان تیزی سے بڑھ جاتا ہے، جو تعلیمی تسلسل کے لیے ایک سنگین مسئلہ ہے۔صنفی اعتبار سے بھی فرق سامنے آیا ہے، جہاں پرائمری سطح پر لڑکوں کی ڈراپ آؤٹ شرح 1.9 فیصد جبکہ لڑکیوں کی 1.1 فیصد رہی۔ سیکنڈری سطح پر یہ شرح لڑکوں میں 13.6 فیصد اور لڑکیوں میں 12.2 فیصد ریکارڈ کی گئی۔تعلیمی ماہرین کے مطابق اس رجحان کی بڑی وجوہات میں معاشی دباؤ، دور دراز علاقوں میں تعلیمی سہولیات کی کمی، بنیادی ڈھانچے کی کمزوری اور گھریلو ذمہ داریاں شامل ہیں۔حکومت کے مطابق ’یو ڈی آئی ایس ای+‘ سسٹم کے ذریعے طلبہ کی حاضری اور ڈراپ آؤٹ رجحانات کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے، جبکہ ‘‘سمگرہ شکشا’’ اسکیم کے تحت وظائف، مڈ ڈے میل، اور بنیادی سہولیات کی بہتری کے اقدامات جاری ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ پرائمری سطح پر صورتحال نسبتاً بہتر ہے، تاہم سیکنڈری سطح پر بڑھتی ہوئی ڈراپ آؤٹ شرح تعلیمی پالیسی سازوں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے، جس کے لیے ہدفی اور فوری اصلاحات ناگزیر ہیں۔یو این ایس کے مطابق مجموعی طور پر سرکاری اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جموں و کشمیر کا تعلیمی نظام ایک طرف اصلاحاتی عمل سے گزر رہا ہے، لیکن دوسری طرف کم انرولمنٹ اسکولوں کی بڑی تعداد، بنیادی سہولیات کی کمی اور سیکنڈری سطح پر بڑھتی ہوئی ڈراپ آؤٹ شرح ایک بڑے نظامی چیلنج کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ماہرین کے مطابق اسکولوں کی بندش و انضمام، اساتذہ کی غیر متوازن تقسیم اور طلبہ کے اسکول چھوڑنے کے بڑھتے رجحان کو اگر بروقت حل نہ کیا گیا تو اس کے طویل المدتی اثرات تعلیمی معیار اور انسانی وسائل کی ترقی پر پڑ سکتے ہیں۔