3 برسوں میں 65 ہزار پروجیکٹوں کی تکمیل یقینی بنائی گئی
یو ٹی انتظامیہ نے پچھلے 10 سے 20 برسوں کے دوران التوا میں پڑے ہوئے 1193 پروجیکٹوں کو مکمل کیا
سرینگر //ترقیاتی پروجیکٹوں کی تکمیل میں تیزی لانے اور سست رفتاری کے عمل کو دور کرتے ہوئے یو ٹی انتظام،یہ نے پچھلے تین برسوں کے دوران 60 ہزار سے زیادہ ترقیاتی پروجیکٹوں کی تکمیل یقینی بنائی ۔ سرکاری عداد و شمار کے مطابق مرکز کے زیر انتظام علاقے میں 2019 سے جنوری 2022 تک 66724 ترقیاتی پروجیکٹ مکمل کئے گئے ہیں ۔ تفصیلات میں بتایا گیا کہ 2018-19 کے دوران 9229 پروجیکٹ مکمل کئے گئے ، 2019-20 میں 12637 ، 2020-21 کے دوران 21943 ، گذشتہ برسوں کی کامیابیوں کے مقابلے میں بہت زیادہ اضافہ ظاہر کیا گیا جبکہ مالی سال 2021-22 کے دوران جنوری 2022 تک 22975 کام مکمل کئے گئے ۔ ریکارڈ میں مزید کہا گیا ہے کہ مرکز کی طرف سے شروع کی گئی ’’ مالی اصلاحات اور مداخلتوں ‘‘ نے مرکز کے زیر انتظام علاقے میں طے شدہ وقت کے اندر ترقیاتی پروجیکٹوں کی اتنی لمبی فہرست کو مکمل کرنے میں سہولت فراہم کی ہے ۔ دستاویز میں مزید کہا گیا ہے ’’ پروجیکٹوں اور وسائل کی تقسیم کی اجازت بجٹ تخمینہ ، مختص اور نگرانی کے نظام ( بی ای اے ایم ایس ) کے ذریعے کی جاتی ہے ، جو کہ ایک حقیقی وقت اور کاغذ کے بغیر نظام ہے ۔ ان مداخلتوں کے ذریعے مرکز کے زیر انتظام علاقے میں تین برسوں میں ترقیاتی کاموں اور پروجیکٹوں کی تکمیل میں بے مثال اضافہ دیکھا گیا ہے ‘‘۔ اسی طرح بی ای اے ایم ایس جیسی تبدیلی اصلاحات کا نفاذ جو آن لائن بجٹ کے عمل کو قابل بناتا ہے اور منظور شدہ کاموں کے لئے فنڈز کی بروقت ریلیز جے اینڈ کے پے سس کے ذریعے بلوں کی آن لائن جمع کروانا ، لازمی انتظامی منظوری ، تکنیکی پابندیاں اور ای ٹینڈرنگ ، ڈیجٹل ادائیگیاں ، GFR,GeM اور متعلقہ اقدامات نے ترقیاتی کاموں کو تیز کیا ہے اور جموں و کشمیر کو ملک کی کسی بھی دوسری ترقی پسند ریاست کے برابر لایا ہے ۔ نئے منظور شدہ کاموں کو ترجیح دینے کے علاوہ انتظامیہ نے لٹکے ہوئے منصوبوں پر بھی توجہ مرکوز کی ہے ۔ جموں و کشمیر انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ فائنانس کارپوریشن ( جے کے آئی ڈی ایف سی ) کی ایک جائیزہ میٹنگ کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ ایچ پی سیز میں جے کے آئی ڈی ایف سی کے تحت 2357 پروجیکٹوں کو منظوری دی گئی ہے جس کی مالیت 7110.78 کروڑ روپے ہے جس میں سے 1748.65 کروڑ روپے کی رقم کے 1239 پروجیکٹ مکمل ہو چکے ہیں ۔ جے کے آئی ڈی ایف سی کے عہدیداروں کے ذریعے یہ بھی بتایا گیا کہ آج تک مختلف مالیاتی اداروں اور قومی بنکوں سے اٹھائے گئے کل 2500 کروڑ قرض میں سے 1923 پروجیکٹوں کیلئے 4637 ادائگیوں کے ساتھ 2270.08 کروڑ روپے کی رقم کی تقسیم کی گئی ہے ۔ ایک سرکاری ترجمان نے کہا کہ جے کے آئی ڈی ایف سی نے آن لائن ادائیگی سے باخبر رہنے کے طریقہ کار ، ٹینڈر کی تفصیلات /الاٹمنٹ کی معلومات اور جے کے آئی ڈی ایف سی کی بند سکیم کے تحت فنڈنگ کیلئے منظور کئے گئے تمام پروجیکٹ کی جیو ٹیگنگ کے ساتھ زبردست شفافیت حاصل کی ہے جو کہ اپنے آپ میں ملک بھر میں ایک منفرد ماڈل ہے ۔ جموں و کشمیر انتظامیہ نے جے کے آئی ڈی ایف سی کے تحت منظور شدہ ہر پروجیکٹ کو رئیل ٹائم مانیٹرنگ کیلئے گوگل ارتھ سے جوڑ دیا جس نے جے کے آئی ڈی ایف سی کی آفیشل ویب سائٹ پر عوام کو دیکھنے میں سہولت فراہم کی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ اقدامات یو ٹی میں طویل عرصے سے زیر التوا ان تمام بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی معیار اور بروقت تکمیل کو یقینی بنانے کیلئے کئے گئے تھے ۔ سرکاری عداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ 1984 کروڑ روپے کی مالیت کے 1193 پروجیکٹ مکمل کئے گئے ہیں جن میں پانچ پروجیکٹ شامل ہیں جو پچھلے 20 برسوں سے ادھورے پڑے تھے ، 15 پروجیکٹ 15 سال سے زائد عرصے سے ، اور 165 پروجیکٹ 10 سال سے زائد عرصے سے زیر التوا پروجیکٹ پروگرام کے تحت تھے ۔










