بینکنگ تاریخ کا سب سے بڑا گھوٹالہ سامنےآیا ، ایف آئی آردرج

جموں و کشمیرپولیس میں سب انسپکٹر کے بھرتی عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کامعاملہ

سرینگروجموں سمیت33مقامات پر CBIکی چھاپے ماری

سری نگر//مرکزی تحقیقاتی ادارےCBIنے جموں وکشمیر پولیس میں سب انسپکٹربھرتی میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات میں تیزی لاتے ہوئے منگل کے روزجموں وکشمیر ایس ایس بی کے سابق چیئرمین اورکنٹرولر امتحانات سمیت دیگر مشکوک افراد اوراداروں کے گھروں ،دفاتر اوردیگر مقامات پرچھاپے ڈالے۔جے کے این ایس کوملی تفصیلات کے مطابق سی بی آئی نے جموں وکشمیر پولیس میں سب انسپکٹربھرتی میں بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے سلسلے میں منگل کو33 مقامات پر تلاشی کارروائی عمل میں لائی جوکئی کئی گھنٹوں تک جاری رہی ۔سی بی آئی کی ایک ٹیم نے جموں و کشمیر ایس ایس بی کے سابق چیئرمین خالد جہانگیر کے گھرواقع سری نگرمیں تلاشی کارروائی عمل میں لائی جبکہ سی بی آئی کی ایک اورٹیم نے جموں و کشمیر سروسز سلیکشن بورڈ (JKSSB) کے کنٹرولر امتحانات اشوک کمار کے گھر کی بھی تلاشی لی ۔مرکزی تحقیقاتی ادارےCBIکی ٹیموںنے جموںاورسری نگر کے علاوہ ہریانہ میں کرنال، مہندر گڑھ، ریواڑی،گجرات میں گاندھی نگر،دہلی، اتر پردیش میں غازی آباد اور کرناٹک میں بنگلورومیں واقع مشتبہ افراد کے گھروں اورامتحانی عمل سے جڑے کچھ اداروںکے دفتروں کی بھی تلاشی لی ۔خیال رہے جموں وکشمیر پولیس میں سب انسپکٹربھرتی میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے سلسلے میں سی بی آئی کے ذریعہ تلاشی کا یہ دوسرا دور ہے۔سی بی آئی نے جموں و کشمیر انتظامیہ کی درخواست پر 33 ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ جموں و کشمیر پولیس میں سب انسپکٹرز کے عہدوں کیلئے 27مارچ2022 کو تحریری امتحان جے اینڈ کے سروسز سلیکشن بورڈ (جے کے ایس ایس بی) کے ذریعہ منعقد کیا گیاتاہم اس کے نتائج ظاہرہونے کے بعداس سارے عمل میں بے ضابطگیوں بشمول طرفداری ،کنبہ پروری اورمتعلقہ امتحانی پرچے منظورنظراُمیدواروںکوقبل ازوقت فراہم کرنے کے الزامات عائد کئے گئے جبکہ ا س امتحان میں ناکام قرار دئیے گئے اُمیدواروںنے جموںمیں مسلسل کئی دنوں تک زوردار احتجاج کرتے ہوئے اس کی تحقیقات کامطالبہ کیا ۔جموں وکشمیرکے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے انسپکٹربھرتی میں کچھ گڑ بڑھ ہونے کے شبے میں اس معاملے کی تحقیقات کے احکامات صادر کئے اورپھر سی بی آئی نے ایف آئی آر درج کیا۔اس سال 4جون کو پولیس میں سب انسپکٹربھرتی کے امتحانی نتائج کا اعلان کیا گیا تھا جس کے بعد امتحان میں بدانتظامی کے الزامات سامنے آئے تھے۔ جموں و کشمیر انتظامیہ نے الزامات کی جانچ کے لیے ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی تھی۔یہ الزام لگایا گیا تھا کہ ملزم جے کے ایس ایس بی، بنگلور میں واقع نجی کمپنی کے عہدیداروں، فائدہ اٹھانے والے امیدواروں اور دیگر کے درمیان سازش میں داخل ہوا، اور سب انسپکٹرز کے عہدوں کے لئے تحریری امتحان کے انعقاد میں زبردست بے ضابطگیاں کیں۔ مزید یہ الزام لگایا گیا تھا کہ جموں، راجوری اور سامبا اضلاع سے منتخب امیدواروں کی غیر معمولی حد تک زیادہ فیصد تھی۔تحقیقاتی ایجنسی نے کہا تھا کہ جے کے ایس ایس بی نے بنگلور کی ایک نجی کمپنی کو سوالیہ پرچوں کی ترتیب کو آؤٹ سورس کرنے میں مبینہ طور پر قواعد کی خلاف ورزی کی تھی۔