sagar

جموں وکشمیر کے عوام اقتصادی بدحالی اور کمر توڑ مہنگائی کی دوہری مار سے پریشان:ساگر

سرینگر//جموںو کشمیر کے عوام کے مسائل و مشکلات میں ہر گزرتے دن کیساتھ اضافہ ہوتا جارہا ہے اور حکومتی سطح پر کہیں سے بھی راحت رسانی نہیں ہورہی ہے، صرف زبانی جمع خرچ سے یہاں تعمیر و ترقی، خوشحالی اور امن و امان کے دعوے کئے جارہے ہیں جبکہ زمینی سطح کے حالات انتہائی دگرگوں ہیں۔ سی این آئی کے مطابق ان باتوں کا اظہار نیشنل کانفرنس جنرل سکریٹری حاجی علی محمد ساگر نے آج وادی کے اطراف و اکناف سے آئے ہوئے عوامی وفود، پارٹی عہدیداروں اور کارکنوں کیساتھ تبادلہ خیالات کرتے ہوئے کیا۔ اس دوران صوبائی صدر ناصر اسلم وانی، سینئر لیڈران علی محمد ڈار، عرفان احمد شاہ، خلیل بند، پیر آفاق احمد، شوکت احمد میر، ترجمان عمران نبی ڈار، جگدیش سنگھ آزاد، ڈاکٹر سجاد شفیع، صبیہ قادری، انجینئر سمیر بٹ، حاجی غلام نبی راتھر اور دیگر لیڈران بھی جنرل سکریٹری سے ملاقی ہوئے۔وفود نے کہا کہ لوگوں کو اُن بنیادی ضروریات کیلئے بھی سڑکوں پر آنا پڑ رہا ہے جو ماضی میں خود بہ خود میسر رہا کرتی تھیں۔ اس کے علاوہ وفود نے حد سے تجاوز کر گئی بے روزگاری، کمر توڑ مہنگائی، اقتصادی بدحالی اور معیشی بحران کے مسائل اُجاگر کئے۔ جنرل سکریٹری علی محمد ساگر نے کہا کہ جموں وکشمیر میں اس وقت بے روزگاری حد سے تجاوز کر گئی ہے کیونکہ انتظامیہ اس جانب کوئی بھی توجہ مرکوز کرنے سے قاصر ہے۔ خصوصی بھرتی عمل تو دور کی بات گذشتہ برسوں سے یہاں معمول کی بھرتیاں نہیں ہورہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ برسوں سے جاری غیر یقینیت اور بے چینی سے یہاں کا نوجوان سب سے زیادہ متاثر ہوا اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری نے نئی پود کو مزید پشت بہ دیوار کر کے رکھ دیا ہے ۔یہ ایک سنگین صورتحال ہے اور حکومتی سطح پر بھی اس کا تدارک کرنے کیلئے کچھ نہیں ہورہا ہے۔ علی محمد ساگر نے کہا کہ جموں وکشمیر کے عوام غیر یقینی صورتحال اور کمر توڑ مہنگائی کی دوہری مار سے پریشانِ حال ہیں۔ گذشتہ برسوں سے جاری غیر یقینیت سے یہاں کے لوگوں کی اقتصادی حالت بد سے بدتر ہوتی جارہی ہے اور دوسری جانب اشیائے ضروریہ، پیٹرولیم مصنوعات، رسوئی گیس ،اشیائے خورد و نوش کی آسمان چھوتی قیمتیں اور پینے کے پانی کی فیس میں حد سے زیادہ اضافہ بھی لوگوں کیلئے وبالِ جان بن کر رہ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ افسوس اس بات کا ہے کہ حکومت ان بنیادی عوامی مسائل کی جانب کوئی بھی توجہ دینے کی زحمت گوارا نہیں کررہی ہے۔