rice

جموں وکشمیر میں اے اے وائی اور ترجیحی گھرانوں میں مفت اَناج کی تقسیم شروع

سری نگر//مرکزی حکومت نےخوراک کی حفاظت کو یقینی بنانے کے مقصد سے ایک اہم اقدام کے تحت یکم جنوری 2023 ء سے این ایف ایس اے اِستفادہ کنندگان( اے اے وائی اور پی ایچ ایچ) کو مفت اناج کی تقسیم کا اعلان کیا ہے۔جموں و کشمیر میںاے اے وائی اور پی ایچ ایچ مستفیدین کے لئے پی ڈی ایس کے تحت 3 روپے فی کلو چاول، 2 روپے فی کلو گندم اور 3 روپے فی کلو آٹے کے حساب سے تقسیم کئے جا رہے تھے۔مرکزی حکومت کے فیصلے کے مطابق جموں و کشمیر کے خوراک،شہری رسدات اور امور صارفین محکمہ ( ایف سی ایس اینڈ سی اے )نے پورے جموں و کشمیر میں یکم جنوری 2023 ء سے اے اے وائی اور پی ایچ ایچ کے مستفیدین کو غذائی اناج (چاول اور گندم) کی مفت تقسیم شروع کی ہے۔ محکمے کے امور سربراہ نے فیلڈ افسران، این آئی سی ٹیم اور تکنیکی ٹیموں کو آئی ٹی سسٹم، ای پی او ایس ایپلی کیشنز اور پی ڈی ایس میں تازہ تبدیلیوں کو شامل کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں تاکہ جموںو کشمیر میں یکم جنوری 2023 ء سے این ایف ایس اے کے تحت اے اے وائی اور پی ایچ ایچ مستفیدین کوچاول اور گندم کی مفت تقسیم کو یقینی بنایا جا سکے۔ محکمہ کے ایک ترجمان کے مطابق’’ جبکہ چاول او رگندم کی تقسیم کاری بالکل مفت ہوگی ، ایک روپے فی کلو گند م کے آٹے کے تبادلوں اور نقصان کے لئے چارج کیا جائے گا جہاں گندم کے بجائے آٹا فراہم کیا جاتا ہے ۔‘‘محکمہ کے ایک آفیسر نے کہاکہ استفادہ کنندگان کو یہ بھی مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ پرنٹ شدہ اِی پی او ایس رسید حاصل کریں جو واضح طور پر چاول اور گیہوں کی مفت تقسیم کے ساتھ ساتھ ان کے حقدار ہونے کی نشاندہی کرتی ہے۔اُنہوں نے کہا ،’’ یہ فائدہ صرف اے اے وائی اور پی ایچ ایچ سے فائدہ اُٹھانے والوں کے لئے ہے اور غیر ترجیحی گھرانوں کے سلسلے میں شرح او رپیمانے میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔‘‘ اُنہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے پی ایم جی کے اے وائی کو31؍ دسمبر 2022ء سے بند کیا ہے ، لہٰذا اضافی مفت راشن پانچ کلو گرام فی استفادہ کنندگان جو کہ ہر ماہ فراہم کیا جاتا تھا اب اے اے وائی اور ترجیحی گھرانوں کو فراہم نہیں کیا جائے گا کیوں کہ یہ نئی سکیم کے تحت مفت راشن کے ساتھ تبدیل کیا گیا ہے۔اُنہوں نے کہا ،’’ پی ایم جی کے اے وائی کو بند کرتے ہوئے، ان دو گروپوں کو پہلے این ایف ایس اے کے تحت 3 روپے / کلو چاول اور 2 روپے / کلو گندم فراہم کئے جانے والے اناج کو اب اے اے وائی اور پی ایچ ایچ کے مستفیدین کے لئے بالکل مفت کیا گیا ہے۔ایف سی ایس اینڈ سی اے کے آفیسر نے میڈیا کے بعض حصوں میں آنے والی اِن رِپورٹوں کا جواب دیتے ہوئے واضح کیا کہ جموںوکشمیر میں راشن کی کمی ہے اور پی ایم جی کے اے وائی کے تحت پہلے فراہم کئے جانے والے اَناج کو روک دیا گیا ہے۔ اِس سے قبل مفت اناج 5کلو فی مستفید کے پیمانے پر دیا جاتا تھا۔مرکزی حکومت کی طرف سے چلائی جانے والی سکیم ۔پی ایم جی کے اے وائی کے تحت اے اے وائی اور ترجیحی گھرانے کے مستفید ین کو تقریباً دو برسوں سے ہر مہینہ فراہم کیا جاتا تھا جسے اَب مرکزی حکومت نے بند کیا ہے۔آفیسر نے کہا کہ اس کے علاوہ جموںوکشمیر فوڈ اَنٹائٹلمنٹ سکیم کے نام سے ایک جموںوکشمیر حکومت کی جانب سے چلائی جانے والی سکیم بھی جولائی 2022 تک جموںوکشمیر میں نافذالعمل تھی جس کے تحت 5کلو گرام فی اِستفادہ کنندہ کو بھی پی ایچ ایچ اور غیر کو فراہم کیا جارہا ہے ۔ اس سکیم کے تحت غذائی اجناس اوپن مارکیٹ سکیم ڈومسٹک او ایم ایس ایس ۔ڈی جو کہ مرکزی حکومت اور ایف سی آئی نافذ کر رہی تھی سے لئے جارہے تھے ۔اُنہوں نے کہا کہ او ایم ایس ایس ۔ ڈی سکیم مرکزی حکومت نے اپریل 2022 ء کو گندم کی مد میں بند کر دی اور محکمہ کو صرف چاول ، 2022ء تک مل رہا تھا۔اس کے بعد ایم او ایس ایس۔ ڈی سکیم مرکزی حکومت نے چاول کے مدمیں بھی 2022ء میں بند کر دی ۔ اس کے نتیجے میں غذائی اجناس جو کہ جے کے ایف اِی ایس کے تحت دئیے جارہے تھے جولائی 2022ء بند کر دی گئی ۔اس کے نتیجے میں جے کے ایف اِی ایس سکیم کے تحت دئیے جانے والے غذائی اجناس کی عدم دستیابی کی وجہ سے نہیں دئیے جارہے ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ اسی دوران مرکزی حکومت نے ایم او ایس ایس ۔ ڈی سکیم کو دوبارہ جولائی سے لے کر دسمبر تک بحال کردیا اور یاستوں / یوٹیز سے کہا گیا کہ وہ 10,000میٹرک ٹن تک ہی اُٹھاسکتے ہیں۔ یہ مقدار جے کے ایف اِی ایس کے تحت ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ایک ماہ تک بھی ناکافی تھی جہاں اِس سکیم کو چلانے کے لئے ہر ماہ تقریباً24,000میٹرک ٹن ضرورت تھی۔اُنہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت / ایف سی آئی کے ذریعے او ایم ایس ایس ۔ڈی کو ابھی تک بحال نہیں کیا گیا لہٰذا حکومت جموں وکشمیر اس مرحلے پر جے کے ایف اِی ایس کو چلانے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔آفیسرنے کہا کہ میڈیا میں بعض افراد کے ذریعہ یہ اطلاع دی گئی ہے کہ 2021 سے جموں و کشمیر میں غذائی اجناس کی تقسیم میں کمی آئی ہے۔محکمہ نے پی ڈی ایس کو قابل بھروسہ اور شفاف بنانے کی کوشش میں ایک مشن موڈ میں آدھار سیڈنگ کو تیز کیاجس کے نتیجے میں دس لاکھ سے زیادہ ڈپلی کیٹ اوربوگس کارڈ کو ختم کیا گیا، جس کے نتیجے میں جو مختص پہلے کیا جاتا تھا، وہ کم ہو گیا ہے،‘‘۔ انہوں نے کہا کہ اہل مستفید کو ہر مہینے اصولوں کے مطابق مختص کیا جارہا ہے ۔ جبکہ اے اے وائی گھرانوں کو فی راشن کارڈ 35 کلوگرام اناج ملتا ہے، پی ایچ ایچ زمرہ اور این پی ایچ ایچ کے مستفیدین کو ہر ماہ 5 کلو گرام فی فرد ملتا ہے۔اُنہوں نے مزید کہا کہ اس مدت کے دوران 68,000 سے زیادہ اہل گھرانوں کو بھی پی ڈی ایس کے دائرے میں لایا گیا ہے۔ محکمہ نے پہلے ہی دونوں صوبائی کمشنروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ رہ جانے والے اہل مستفیدین کی شناخت کریں، اگر کوئی ہیں، جنہیں ابھی بھی پی ڈی ایس کے دائرے میں لانا ضروری ہے تاکہ وہ بھی اس میں شامل ہوں۔آفیسرنے کہا کہ محکمہ نے جنوری 2023 کے مہینے کے لئے اے اے وائی اور پی ایچ ایچ کنبوں کے لئے 34,593 MTSمیٹرک ٹن اناج مختص کیا ہے جس میں گزشتہ مہینے کی 1,730 میٹرک کی بچت بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ غیر ترجیحی گھرانوں کے لئے 9,366 میٹرک بھی مختص کئے گئے ہیں تاکہ انہیں اناج فراہم کیا جا سکے۔ محکمے کے پاس این ایف ایس اے کے تحت اے اے وائی اور پی ایچ ایچ اور این پی ایچ ایچ زمرہ کے تحت غیر ترجیحی گھرانوں زمروں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے کافی ذخیرہ ہے۔ مزید برآں، محکمہ نے پہلے سے ہی سرمائی موسم میں بند رہنے والے علاقوں میں اے اے وائی ، پی ایچ ایچ اور این پی ایچ ایچ سے فائدہ اٹھانے والوں کے لئے موسم سرما کے ڈمپنگ علاقوں میں کافی ذخیرہ کیا ہے۔ ایک خصوصی رعایت کے طور پر ایسے علاقوں میں رہنے والے مستفید ہونے والوں کے پاس چار ماہ کے لئے پیشگی اپنا حق حاصل کرنے کا اختیار ہے۔ یہ سہولیت ان کے لئے صرف دسمبر کے مہینے میں بڑھا دی گئی تھی، تاکہ انھیں سردیوں کے دوران ہر ماہ اپنے استحقاق کی وصولی کے لئے سیلز آؤٹ لیٹس پر آنے کی ضرورت نہ ہو۔ تاہم، اس بات کو یقینی بنانے کے لئے کہ لین دین شفاف رہے اور ایسے تمام لین دین خودکار ہیں۔آفیسر نے اس بات کا اعادہ کیا کہ محکمہ این ایف ایس اے کے تحت ہر اے اے وائی اور پی ایچ ایچ مستفید ہونے والے کو اور غیر ترجیحی گھرانوں کو ایک شفاف طریقے سے اصولوں کے مطابق حق فراہم کرنے کے لئے پرعزم ہے جس کی طرف اس نے پی او ایس آلات کی تنصیب سے صد فیصدآٹومیشن حاصل کیا ہے۔ تمام سیل آؤٹ لیٹس نے تقریباً 93فیصد کی آدھار توثیق کی شرح بھی حاصل کی ہے، جس کا مطلب ہے کہ 93 فیصد ٹرانزیکشنز آدھار کی تصدیق سے مستفیداَفراد کے ذریعے کی جاتی ہیں۔