جموں ڈویڑن میں تقریباً 5600 اور کشمیر ڈویڑن میں تقریباً5400 پولنگ بوتھ ہونے کاامکان
سری نگر //جموںوکشمیرمیں اسمبلی انتخابات کی بازگشت کے بیچ الیکشن کمیشن کی ہدایت پر چیف الیکٹورل آفس پولنگ اسٹیشنوں کی حتمی نشاندہی اورووٹروں کی حتمی فہرست مرتب کرنے میں سرگرم عمل ہے ۔جے کے این ایس کے مطابق ایک انگریزی اخبارمیں چھپی مفصل رپورٹ میں بتایاگیاہے کہ جموں و کشمیر میں پولنگ اسٹیشنوں کی تعداد 1100 سے تجاوز کرجائیگی کیونکہ تین سال بعدہونے والی خصوصی خلاصہ نظرثانی اور7نئے اسمبلی حلقوں کے قیام کے بعد پولنگ بوتھوںکی تعدادمیں اضافہ یقینی ہے ۔اس دوران جموں وکشمیر کے چیف الیکٹورل آفیسر، مرکزی زیر انتظام علاقے میں جاری خصوصی خلاصہ نظرثانی (SSR) کے ایک حصے کے طور پر جلد ہی حتمی پولنگ سٹیشن کیساتھ ساتھ حتمی انتخابی فہرستوں اشاعت شروع کریں گے،اوریہ ساراعمل 31 اکتوبر کو اختتام پذیر ہو گاجبکہ انتخابات میں استعمال ہونے والےVVPATs سول اور پولیس انتظامیہ کی کڑی نگرانی میں کئی اضلاع میں پہنچنا شروع ہو گئے ہیں اور انہیں اسٹرانگ رومز میں جمع کیا جا رہا ہے۔سرکاری ذرائع کاحوالہ دیتے ہوئے نیوز رپورٹ میں بتایاگیاہے کہ کل11000سے زیادہ پو لنگ اسٹیشنوں میں سے جموں ڈویڑن میں تقریباً 5600 اور کشمیر ڈویڑن میں تقریباً5400 ہونے کی امید ہے۔جبکہ اسمبلی حلقوں کی حد بندی کے عمل کے بعد جموں و کشمیر کے لیے الیکشن کمیشن آف انڈیا کی ہدایت پر خصوصی سمری نظرثانی 31 اکتوبر کو ختم ہو جائے گی، حکام کو توقع ہے کہ جموں و کشمیر کے ووٹرز کی تعداد 85 لاکھ تک پہنچ جائے گی۔ ذرائع نے بتایاکہ تاہم، یہ محض عارضی اعداد و شمار ہیں لیکن85 لاکھ کے اعداد و شمار کو مدنظر رکھتے ہوئے تیاریاں کی جارہی ہیں۔نیوز رپورٹ کے مطابق جموں ڈویڑن میں متوقع 5600 پولنگ اسٹیشنوں میں سے جموں ضلع میں تقریباً 1400 پولنگ اسٹیشنوں کا امکان ہے جس کے بعدضلع کٹھوعہ 639، ضلع ادھم پور 624، ضلع راجوری614، ضلع پونچھ 451،ضلع ڈوڈہ 448، ضلع ریاسی 424، ضلع کشتواڑ 400،ضلع رام بن 337 اور ضلع سانبہ 334 ہیں۔پولنگ بوتھوں کی حتمی فہرست کی اشاعت کے بعد کشمیر ڈویڑن میں5400 پولنگ سٹیشن ہو سکتے ہیں،جن میں سے سری نگر میں913 پولنگ اسٹیشن ہوں گے جس کے بعد ضلع بارہمولہ میں899، اننت ناگ ضلع میں 798، ضلع بڈگام میں 602، ضلع کپواڑہ میں578، پلوامہ ضلع میں 459، کولگام ضلع میں 349، ضلع بانڈی پورہ میں 300، ضلع گاندربل میں260 اور شوپیاں ضلع میں 245 پولنگ اسٹیشن ہوں گے۔سرکاری ذرائع نے پولنگ اسٹیشنوںکی تعدادمیں اضافے کی وجہ بتاتے ہوئے کہاکہ نئے اسمبلی حلقوںکے قیام،اسمبلی حلقوں کی نئی حدبندی اور3سال بعدہونے والی خصوصی خلاصہ نظرثانی SSRکے باعث پولنگ بوتھوںکی تعدادمیں اضافہ یقینی تھا۔انہوںنے کہاکہ تین سال بعدووٹر وںکی انتخابی فہرستوں پر خصوصی خلاصہ نظرثانی ہورہی ہے ،اسلئے ووٹر فہرستوںمیں نئے ووٹر بھی شامل ہوئے ہیں ۔ذرائع نے بتایاکہ فی الوقت چیف الیکٹورل آفس نے 85لاکھ ووٹر ہونے کاایک سرسری اندازہ لگایا ہے ،تاہم اس میں کچھ لاکھ کااضافہ یاکمی بھی ہوسکتی ہے۔جموں وکشمیرمیں پولنگ اسٹیشنوں اورووٹر فہرستوں پر نظرثانی سال2019میں ہونی تھی لیکن اُس سال اگست کے مہینے میں جموں وکشمیرکی خصوصی پوزیشن کی منسوخی ،ریاستی درجے کے خاتمے اورسابق ریاست کودومرکزی زیرانتظام علاقے بنائے جانے کے فیصلوں کے نتیجے میں نظرثانی کاعمل روک دیاگیاتھا۔دریں اثنا، جموں و کشمیر کیلئے الیکشن کمیشن آف انڈیا کی طرف سے منظور شدہ14ہزر800 VPATsمشینیں ضلع ہیڈ کوارٹر پہنچنا شروع ہو گئی ہیں، ان VVPATs کو چیف الیکٹورل آفیسراور اور ڈسٹرکٹ الیکٹورل آفیسروں کی کڑی نگرانی میں اسٹرانگ رومز میں رکھا جا رہا ہے۔










