جموں وکشمیر بائیو ڈائیورسٹی کونسل نے حیاتیاتی تنوع کا بین الاقوامی دِن منایا

سری نگر//جموں و کشمیر بائیو ڈائیورسٹی کونسل نے داچھی گام میں حیاتیاتی تنوع کا عالمی دِن منایا جس میں یونین ٹیریٹری کے ماحولیاتی ورثے کو اُجاگر کیا گیا اور’ عالمی سطح پر ’مقامی سطح پر عمل کریں، عالمی سطح پر اثر انداز ہو‘ کے پیغام کو تقویت ملی۔تقریب میں مہمانِ خصوصی کمشنر سیکرٹری جنگلات و ماحولیات شیتل نندا، پی سی سی ایف /ایچ او ایف ایف جے اینڈ کے اور چیئرمین جے ایںڈ کے بائیودائیورسٹی کونسل سرویش رائے،پی سی سی ایف/سی ڈبلیو ڈبلیو/ڈائریکٹر ایس ایف آر آئی اور ممبر سیکرٹری جے اینڈ کے بائیو ڈائیورسٹی کونسل چتربھوج بہیرا، سی سی ایف کشمیر عرفان رسول وانی ، ریجنل وائلڈ لائف وارڈن کشمیر توحید احمد دیوا ،سی ایف سری نگر سوربھ شرما ، سی ایف نارتھ عرفان علی شاہ اور ممبر بائیو ڈائیورسٹی کونسل کشمیر یونیورسٹی سے پروفیسر انظر کھورو کے علاوہ مختلف صوبائی فارسٹ اَفسران، رینج اَفسران اور جموں و کشمیر بھر سے بائیو ڈائیورسٹی مینجمنٹ کمیٹیوں کے ارکان نے شرکت کی۔شیتل نندا نے اَپنے خطاب میں کہا کہ حیاتیاتی تنوع کا عالمی دِن اِنسانیت کے فطرت پر گہرے انحصار کی یاد دہانی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا،’’انسانوں پر حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کی بنیادی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کیوں کہ ہماری بقا اِسی پر منحصر ہے۔‘‘اُنہوں نے بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور ماحولیاتی تحفظ کے درمیان توازن قائم رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اِقتصادی ترقی فطرت کی قیمت پر نہیں ہونی چاہیے۔ اِس موقعہ پر اُنہوں نے کونسل کو خطے کے نباتات، حیوانات اور پرندوں کی اقسام کی جامع فہرست تیار کرنے کی ہدایت دی اور نایاب انواع کے تحفظ کے لئے ایکس۔سیٹو (آف سائٹ)کنزرویشن ائیریاز بنانے کی وکالت کی۔سرویش رائے نے جموں و کشمیر کے منفرد ماحولیاتی اثرات کا خاکہ پیش کیاکہ خطے کے 48 فیصد جغرافیائی رقبے پر جنگلات ہیں جن میں سے 25 فیصد وائلڈ لائف پروٹیکٹیڈ ائیریاز کے لئے مختص ہے۔ اُنہوں نے جنگلات کی جانب سے فراہم کی جانے والی ماحولیاتی خدمات جیسے پانی کی صفائی اور پولنیشن کی اہمیت بیان کی اور خطے کی نان ٹمبر فارسٹ پروڈکٹس (این ٹی ایف پیز) کی اِقتصادی اہمیت کی نشاندہی کی۔اُنہوں نے کہا، ’’ہماری مقامی بائیو ڈائیورسٹی مینجمنٹ کمیٹیوں نے گزشتہ تین برسوں میں 25 کروڑ روپے جمع کئے ہیں‘‘ اور آئندہ نسلوں کے لئے دواؤں کے پودوں کے تحفظ کی خاطر ان کی دیرپا پیداوار پر زور دیا۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ ہانگل، براؤن بیئر، بلیک بیئر اور ٹائیگر جیسی اہم جنگلی انواع کی تعداد میں مسلسل اِضافہ ہو رہا ہے۔اِس سے قبل چتربھوج بہیرا نے شرکأ کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ حیاتیاتی تنوع صرف گھنے جنگلات تک محدود نہیں بلکہ زرعی اور ثقافتی تنوع کو بھی شامل کرتا ہے جن کا تحفظ مستقبل کی غذائی سلامتی کے لئے ناگزیر ہے۔ اُنہوں نے اِنسان اور جنگلی حیات کے درمیان تنازعے کی بنیادی وجوہات پر روشنی ڈالی اور جموں و کشمیر بھر میں فعال 2,490 بائیو ڈائیورسٹی مینجمنٹ کمیٹیوں کے کردار کو سراہا۔پروفیسر انظر کھورو نے سائنسی تناظر پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان دنیا کے صرف 20 میگا ڈائیورس ممالک میں سے ایک ہے جہاں دُنیا کے 36 بائیو ڈائیورسٹی ہاٹ سپاٹس میں سے 4 موجود ہیں۔ اُنہوں نے ہمالیائی ماحولیاتی نظام کی بھرپور تنوع پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ یہاں12,000 پھول دار پودوں کی اقسام پائی جاتی ہیں جن میں سے5,000 صرف کشمیر میں موجود ہیں۔ اُنہوں نے حقیقی دیرپائی کے حصول کے لئے ترقیاتی طریقوں میں ’’کورس کی اِصلاح‘‘ کی ضرورت پر زور دیا۔پروگرام کا اِختتام حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے اِجتماعی عہد کے ساتھ ہو اور ممتاز ماہر ماحولیات نذیر بے نظر نے سرکاری حلف پڑھ کر سنایا۔ اِس موقعہ پر کشمیر کے بائیو ڈائیورسٹی ایٹلس کی رسم رونمائی اِنجام دی گئی۔