اس سال 18953غیر ملکیوں سمیت 22لاکھ سے زیادہ سیاحوں نے کشمیر کا دورہ کیا:ڈائریکٹر ٹورازم

جموں وکشمیر اِنتظامیہ قابل قدر اَقدامات سے دیہی بنیادی ڈھانچے اور دیہی معیشت پر توجہ مرکوز کر رہی ہے

سری نگر//لیفٹیننٹ گورنر اِنتظامیہ قابل قدر اقدامات سے جموںوکشمیر دیہی علاقے کی ترقی کی داستان رقم کر رہی ہے ۔جموںوکشمیر کی دیہی معیشت کو تبدیل کرنے کے لئے اِنتظامیہ دیہی آبادی کی اُمنگوں کو پورا کرنے ، دیہی بنیادی ڈھانچے میں ترقی اور کوآپریٹیو کریڈیٹ سسٹم کو مضبوط بنانے پر توجہ مرکو ز کر رہی ہے۔حکومت کا زور دیہی معیشت کی ترقی پر ہے کہ وہ بنیادی ڈھانچے، اِنسانی وسائل اور فائنانسنگ کے خلا کو پُر کر کے اپنی پوری صلاحیت کو ظاہر کرے۔اِنتظامیہ اس بات کو یقینی بنا رہی ہے کہ دیہی معیشت ترقی کے اس عمل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے اور بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے، خواتین کو بااختیار بنانے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لئے بین الیکٹورل کوآرڈینیشن کی ضرورت پر زور دیا۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ جموں و کشمیر کی خوشحالی کا راستہ اس کے گاؤں سے گزرتا ہے اور دیہی ترقی کو اوّلین ترجیح دی جاتی ہے۔اُنہوں نے دیہی بنیادی ڈھانچہ، خود روزگار اور زرعی معاشرے کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ موجودہ انتظامیہ کی پالیسیاں دیہات کی زبردست صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لئے عملیت پسندی پر مبنی ہیں۔یہ بات قابلِ ذِکر ہے کہ جموں و کشمیر کی تقریباً 70 فیصد آبادی کا انحصار زراعت اور اس سے منسلک سرگرمیوں پر ہے۔ دیہی علاقوں میں ترقی کا مقصد صرف خوراک کی پیداوار میں خود کفالت نہیں ہے بلکہ پیداوار اور آمدنی میں اِضافہ اور لوگوں کو زیادہ بااختیار بنانا ہے۔لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے افسران کو دیہی ترقی کی پالیسیاں اَپنانے کی ہدایت دی ہے جو عملیت پسندی پر مبنی ہوں اور پنچایت سطح پر منصوبہ بندی اور عمل آوری کو مضبوط بنائیں۔اُنہوں نے ایک میٹنگ میں کہا،’’ہر پالیسی کو گاؤں میں رہنے والے لوگوں کی زندگی کو بہتر بنانا چاہیے۔ آج زائد اَز 56,000 سیلف ہیلپ گروپوں کی ترقی کے سہولیت کار کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ ہمارا مقصد ان گروپوں کی صلاحیت اور پیمانے کو مالی تعاون، مارکیٹ لنکیج، خصوصی علم اورہنروںکے ساتھ بڑھانا ہے۔‘‘واضح رہے کہ زراعت، پشوو بھیڑ پالنے، باغبانی، سکل ڈیولپمنٹ، کوآپریٹیو، سڑک، پاور ڈیولپمنٹ، اور جل شکتی سیکٹر میں اہم منصوبے گزشتہ دو برسوں میں مکمل کئے گئے ہیں۔ انتظامیہ کی توجہ کسانوں اور دیہی آبادی کو فائدہ پہنچانے کیلئے فارم ،منڈی کے درمیان معاشی تعلقات کو مضبوط بنانے اور دیہی آبادی اور زرعی معاشرے کے لئے دستیاب جدید ٹیکنالوجیز کے فوائد پہنچانے پر ہے۔حکومت کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات دیہی علاقوں کو جدید اقتصادی اکائیوں میں ضم کریں گے اور زرعی اور دیہی صنعت میں کاروبار کے بڑھتے ہوئے مواقع دیہی معیشت کو بدل سکتے ہیں۔ دیہی آبادی کی آمدنی میں اضافے کے لئے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پر خاطر خواہ توجہ دی جا رہی ہے اور زرعی اور غیر زرعی معیشت کو اچھی طرح سے لیس اور خود کفیل گاؤں بنانے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔جموں و کشمیر نے غیر منسلک بستیوں تک پہنچنے کے مشن کا آغاز کیا ہے اور تین برسوں میں اس نے دیہی علاقوں پر خصوصی توجہ مرکوز کرتے ہوئے مختلف سکیموں، تعمیر، بہتری، سڑکوں اور پلوں کی اپ گریڈیشن کے لئے عملائے گئے پروگراموں کے تحت کافی اہداف اور کامیابیاں حاصل کی ہیں۔سڑکوں کے نیٹ ورک کو بہتر بنانے پر زور دیا جا رہا ہے جس سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ حکومت عوام کی فلاح و بہبود کے لئے پُرعزم ہے اور بنیادی سہولیتوں کی فراہمی پر توجہ دی جا رہی ہے جس میں جموں و کشمیر میں عام رہائشیوں کے لئے سڑک کے بنیادی ڈھانچے کو ترقی دینا شامل ہے۔’بیک ٹو ولیج‘ پروگرام کا مقصد جموں و کشمیر کے لوگوں اور سرکاری افسران کو مساوی ترقی کے مشن کو آگے بڑھانے کی مشترکہ کوشش میں شامل کرنا ہے اور اس کا مقصد پنچایتوں کو متحرک کرنا اور کمیونٹی کی شراکت سے دیہی علاقوں میں ترقیاتی کوششوں کو ہدایت دینا ہے۔اس پروگرام کے ایک حصے کے طور پرسرکاری ملازمین ہر پنچایت تک پہنچے جہاں وہ نچلی سطح سے بات چیت کرنے اور رائے حاصل کرنے کی خاطر ایک مخصوص مدت کے لئے ٹھہرے تاکہ گاؤں کی مخصوص خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے کے لئے حکومتی کوششوں کو بہتر بنایا جا سکے۔