اوسط بقایارقم معہ شرح سود30ہزار435وپے سے زیادہ :قومی شماریاتی سروے رپورٹ
سرینگر//جموں و کشمیر کے 31 فیصد سے زیادہ دیہی زرعی گھرانوں نے بینکوں سے قرض لیاہے ،اوران گھرانوںکی اوسط بقایا رقم30 ہزار 435وپے سے زیادہ ہے۔تازہ ترین ڈیٹاسیٹ میں ، قومی شماریاتی سروے (این ایس ایس) نے انکشاف کیا ہے کہ جموں و کشمیر میں کاشتکار برادری کے قرضے قومی اوسط سے کم ہیں۔ جے کے این ایس کے مطابق قومی شماریاتی سروے زیر’عنوان برائے’زرعی گھرانوں کی صورتحال کا تعین اور دیہی ہندوستان میں گھروں کی زمین اور لائیو سٹاک ہولڈنگز 2019 ، سے پتہ چلتا ہے کہ جموں و کشمیر کے 31.9 فیصد کسانوں نے مختلف بینکوں سے فارم کے کاروبار ، غیر کاشتکاری کاروبار ، شادی ، رہائش ، تعلیم اور دیگر مقاصدکیلئے لیاہے ۔شماریاتی سروے میں کہاگیا ہے کہ زرعی گھرانوں کی بقایا رقم کا بڑا حصہ کمرشل بینکوں کا ہے۔ کاشتکار طبقہکی 62 فیصدرقم یعنی قرضہ جموں وکشمیر کے تجارتی بینکوں پر واجب الادا ہے۔ کل قرض کا 0.4 فیصد دیہی علاقائی بینکوں کا تھا اور اس کے بعد 0.2 فیصد سیلف ہیلپ گروپس کا تھا۔سروے میں مزیدجانکاری دی گئی ہے کہ زرعی برادری کل بقایا رقم کا 3.8 فیصد دیگر غیر ادارہ جاتی ایجنسیوں کو دے رہی ہے۔سروے میں کہا گیا ہے کہ زرعی گھرانوں کی بقایا رقم کا 25.8 فیصد زرعی کاروبار میں سرمایہ کے اخراجات کیلئے لیا گیا اور اس کے بعد 28.4فیصد روزانہ استعمال کے مقاصد کیلئے۔اس میں کہا گیا کہ جموں و کشمیر کے کسانوں کی طرف سے ادھار لی گئی رقم کا 21.9 فیصد رہائش یعنی مکانات کی تعمیرکیلئے استعمال کیا گیا۔سروے میں کہا گیا ہے کہ اُدھار رقم کا 6.7 فیصد زرعی کاروبار میں آمدنی کے اخراجات کیلئے استعمال کیا گیا ، 3.4 فیصد غیر زرعی کاروبار کیلئے ، 3.9 شادی اور تقریبات کیلئے،2.9فیصدقرضہ تعلیم کیلئے اور 6.9 فیصد دیگر مقاصد کیلئے استعمال کیا گیا۔قومی شماریاتی سروے میں کہا گیا کہ جموں و کشمیر12لاکھ55ہزار700 گھرانوں پر مشتمل ہے جن میں سے 54.8 فیصد کی زرعی زمین 0.01 سے 0.40 ہیکٹر کے درمیان ہے۔سروے کے مطابق ، این ایس ائو 5940، دیہی علاقوں میں وزٹ فسٹ میں کیاگیا ، جس میں58ہزار35 گھروں کا احاطہ کیا گیا ، اور 5894 فرسٹ اسٹیج یونٹس وزٹ دوئم میں سروے کیے گئے جن میں56ہزار894 گھرانے شامل ہیں۔سروے دستاویز کے مطابق ، پہلے دورے کے دوران سروے کئے گئے ہر زرعی گھرانوں سے بقایا قرضوں کی تعداد کے بارے میں معلومات اکٹھی کی گئیں۔بقایا رقم کے ساتھ ساتھ ، قرض کے ماخذ ، نوعیت ، مقصد وغیرہ کی معلومات بھی اکٹھی کی گئیں۔ اس نے کہا کہ سروے میں رپورٹ کئے گئے قرضوں میں بقایا سود بھی شامل ہے۔










