وزیر اعظم جموںوکشمیر کو بجلی پروجیکٹ واپس کرکے ’دل کی دوری اور دلی کی دوری ‘کم کرنے کی شروعات کرے/عمر عبداللہ
سرینگر // وزیر اعظم جموںوکشمیر کو بجلی پروجیکٹ واپس کرکے ’دل کی دوری اور دلی کی دوری ‘کم کرنے کی شروعات کرے کی بات کرتے ہوئے جموںوکشمیر نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے کہاہے کہ جموں وکشمیرکی خصوصی پوزیشن پر جب جب وار کیا گیا اور ہمارے دشمن اپنی سازشوں میں کامیاب ہوئے، وہ تبھی ممکن ہوسکاجب جب نیشنل کانفرنس کمزور ہوئی تھی۔چاہئے شیر کشمیر کو جیل میں ڈالنے کے بعد دفعہ370کو صدارتی حکمناموں کے ذریعے کمزور کرنا تھا، 1984میں ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی حکومت کو گرانا تھا،1990کا پُرآشوب دورتھا یا پھر 2014کے بعد دفعہ370کو زک پہنچانے کا کام تھا۔ ہمیں اُس وقت بھی (2014میں)پہلے ہی خطرہ نظر آیا تھا، اگر چہ اُس وقت نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کے رشتے دوستانہ نہ تھے لیکن اس کے باوجود بھی ہم نے پی ڈی پی کے سامنے دوستی کا ہاتھ بڑھایا کیونکہ ہم جانتے تھے کہ بی جے پی کو یہاں لانا کتنا خطرناک ثابت ہوگا لیکن بدقسمتی سے ہمارے خدشات کو نظر انداز کیا گیا۔ لمحوں نے خطاء کی، صدیوں نے سزا پائی اور بالآخر ہمارے خدشات صحیح ثابت ہوئے۔سٹار نیوز نیٹ ورک کے مطابق سمبل سوناواری میں یک روزہ کنونشن سے خطاب عمر عبداللہ نے کہاکہ 5اگست2019کے بعد جموںوکشمیر کے حالات پوری طرح سے بدل گئے ۔جہاں ہم تعمیر و ترقی، روزگار، بجلی، پانی سڑک کی بات کرتے تھے وہیں ہم آج ان چیزوں کو ڈھونڈنے سے پہلے اپنی عزت کی بات کرتے ہیں، اپنی پہچان کی بات کرتے ہیں، اپنے آئین کی بات کرتے ہیں اور اپنے جھنڈے کی بات کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 5اگست کے بعد یہاں کے عوام سے کہا گیاکہ آپ اپنی ناراضگی کا اظہار مت کیجئے، سب کچھ ٹھیک ہوجائیگا، ہمیں صرف موقعہ دیجئے،ہم آپ کو مسکراہٹ کے علاوہ اور کچھ نہیں دیں گے،نوجوانوں کو کہاگیا کہ آپ کو گھر بیٹھے بیٹھے روزگار کے آڑر ملیں گے لیکن وہ دن ہے اور آج کا دن ، جموںوکشمیر کے عوام کو سوائے پریشانیوں ، مصائب اور مشکلات کے سوا کچھ نہیں ملا۔ تمام سرکاری محکموں میں ہزاروں کی تعداد میں اسامیاںخالی ہیں،لیکن خالی جگہیںپُر کرنے کا کام کہیںنہیں ہورہاہے، اگر کہیں خدانہ خواستہ بھرتی لسٹ نکلتا ہے تو اگلے روز اس پر سوالیہ نشان لگایا جاتاہے، دھاندلی کا الزام لگتاہے، لسٹ منسوخ ہوتا، نوجوانوں کا مستقبل تباہ ہوتا ہے اور پوسٹ خالی رہ جاتے ہیں۔این سی نائب صدر نے کہا کہ ’’بجلی کا نظام دیکھئے، میں خود پاور کا وزیر رہا ہوں، مجھے معلوم ہے کہ ہم 24گھنٹے بجلی نہیں دے پاتے تھے، لیکن سپلائی پوزیشن کا حال کم از کم یہ نہیں تھا۔مرکزی حکومت نے ہماری مجبوری کا فائدہ اُٹھایا ،ہم اپنے بلبوتے پر پروجیکٹ نہیں بنا سکے، لیکن اب کیا بات ہے آپ ہمارے پروجیکٹ ہمیں واپس نہیں دے رہے ہیں، مرکزی حکومت کی طر ف جتنی بھی کمیٹیاں اور ورکنگ گروپوں کی تشکیل عمل میں لائی گئی اُن سبھی نے نئی دلی سے جموں وکشمیر کو پاور پروجیکٹ واپس دینے کی سفارش کی۔ جب وزیر اعظم کہتے ہیں کہ ہم دل سے دوری اور دلی سے دوری کم کرنا چاہتے ہیں، کیوں نہ اسی سے شروعات کی جائے اور ہمیں ہمارے پروجیکٹ واپس دیئے جائیں تاکہ کم از کم بجلی کیلئے ہمیں بھیک نہ مانگنی پڑے۔ ‘‘بجلی کی سپلائی پوزیشن میں بہتری لانے پر زور دیتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہاکہ ’’گورنر صاحب کب تک لوگ اندھیرے میں رہیں گے، کم از کم بجلی کا انتظام کیجئے، آپ تو جگہ جگہ پر ڈبل انجن ڈبل انجن کرتے ہیں، یہاں تو ہمیں سنگل انجن نظر نہیں آتا۔جب راج بھون کو کچھ خریدنا ہوتاہے، تو نظام ایسا بنایا گیا جہاں ٹینڈر کی ضرورت بھی نہیں، لیکن جب بجلی کی بات آتی ہے تو کمیٹی بنتی ہے، گورنر صاحب کہتے ہیں کہ میں نے کمیٹی تشکیل دی اب وہ فیصلہ کریگی کہ کیا کرنا ہے؟‘‘انہوں نے کہاکہ ’’اس میںکمیٹی بنانے کی کیا ضرورت ہے، آپ بجلی خریدیئے اور یہاں کے عوام کو فراہم کیجئے، میں بجلی کا وزیر رہا ہوں میں آپ کو سمجھائوں گا کیا کرناہے۔ کیا میٹر لگانے کے وقت آپ کو کمیٹی بنانے کی ضرورت پڑی؟‘‘ عمر عبداللہ نے کہا کہ ’’بجلی کا حال جہاں غیر ہے وہیں مساجد کو گرم رکھنے کیلئے لکڑی کی ضرورت پڑتی ہے لیکن حکومت کی نااہلی کی وجہ سے اب ہمیں وہ لکڑی بھی نصیب میں نہیں۔ بجلی نہیں، لکڑی نہیں تو کیا ہم جان سے مر جائیں؟جو کثر باقی رہ گئی وہ راشن سے پوری کردی، کم کرتے کرتے راشن کوٹا 5کلو تک پہنچایا گیا ہے اور اس 5کلو کیلئے بھی انگوٹھے کرنے کیلئے لوگوں کو در در کی ٹھوکریں کھانی پڑتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ جموںوکشمیر کے عوام کو 5اگست 2019کے بعد دھوکہ،تکلیف اور پریشانی کے علاوہ کچھ نہیں ملا، ہم سے جو چھینا گیا، ہم اس کی لڑائی لڑ رہے ہیں، کیونکہ جب تک ہم اپنی کھوئی ہوئی عزت دوبارہ حاصل نہیں کریں گے، تب تک ہم انہی پریشانیوں سے گزرتے رہیں گے۔ آپ سے میرا وعد ہ ہے نیشنل کانفرنس تب تک چین سے نہیں بیٹھے گی جب تک نہ ہم اپنی کھوئی ہوئی عزت واپس نہیں لاکر رہیںگے۔










