Fraud

جل شکتی محکمہ میں تبادلوں کو لیکر دھاندلیوں کا انکشاف

تحقیقات عمل میں نہ لائی گئی تو کام چھوڑ ہڑتال پر مجبور ہو جائیں گے

سری نگر//محکمہ جل شکتی کشمیر میں تبادلوں کو لیکر دھاندلیوں کا انکشاف ہوا ہے جس دوران محکمے میں تعینات ایک جے ای کا تبادلے اور اس کی دوبارہ تعیناتی نے محکمے پر سوالات کھڑے کردیے ہیں ادھر ملازمین نے بھی ایسے مجرمانہ اقدام کو جانبدارانہ قرار دیتے ہوئے کسی تحقیقاتی ایجنسی سے ایسے تبادلے کی جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔کے این ایس کے مطابق جل شکتی محکمے میں انجینئروں کے تبادلوں کو لیکر دھاندلیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ذرائع کے مطابق محکمہ نے حال ہی میں ایک جونیئر انجینئر کو سات ماہ تبادلے کے بعد ہی پلوامہ میں دوبارہ تعینات کردیا گیا ہے جس انجینئر کو پلوامہ میں تعینات کیا گیا اس کا تبادلہ رواں سال چار فروری کو ہوا تھا۔ملازمین کے ذرائع کا کہنا تھا کہ اس انجینئر کا تبادلہ صرف چند سالوں کے اندر متعدد مرتبہ پلوامہ اور شوپیاں اضلاع میں کرانا محکمہ جل شکتی پر سوالیہ نشان ہے۔ذرائع کے مطابق مزکورہ انجینر سال ۸۱۰۲میں شوپیان میں تعینات تھا جہاں کہی بے ضابطگیوں کو لیکر ضلع ترقیاتی کمشنر نے انہیں کہی مہینوں تک معطل کردیا۔مزکورہ جل شکتی انجینئر پر الزامات کی بوچھاڑ لگاتے ہوئے ملازمین ذرائع کا کہنا تھا کہ اس پر دھاندلیوں کے کہی کیس بھی درج ہے اور اس سلسلے میں متعدد مرتبہ مزکورہ انجینئر کا تبادلہ بھی عمل میں لایا گیا۔ذرائع کے مطابق سال 2007 میں مزکورہ انجینئر کی نگرانی میں پلوامہ میں کروڑوں روپیوں کی سکیمیں عمل میں لائی گئی تاہم یہ نصب درجن سکیمیں آج کل ناکارہ بن چکی ہے اور اس ناکامی کے سبب اس وقت عوام کو زبردست مشکلات بھی درپیش ہے۔ذرائع کے مطابق اس وقت محکمہ جل شکتی نے پلوامہ میں لوگوں کو پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے کروڑوں روپیوں کی اسکیمیں دوبارہ متعارف کرائی ہے اور انہیں خدشہ ہے کہ ایسی اسکیموں میں دھاندلیوں کے خواطر جل شکتی کا کروپٹ انجینئر کو تعینات کرنا محکمہ کے تبادلے اور تقریروں کی پالیسی پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ذرائع نے محکمہ کے تبادلوں کو جانبدارانہ قرار دیتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ محکمے میں ہوئی تبادلوں کے دھاندلیوں کو لیکر تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے تاکہ تبادلوں اور تقریروں کو لیکر ملازمین کے تیئں صاف و شفاف انتظامیہ کو یقینی بنایا جاسکے۔ادھر ملازمین کا کہنا تھا کہ اگر جے ای موصوف کو فوری طور اپنی جگہ منتقل نہ کیا گیا تو وہ سڑکوں پر آکر احتجاج کیلئے مجبور ہو جائیں گے جس کی ساری زمہ داری انتظامیہ پر عاید ہوگی۔