جاوید احمد ڈار نے سکاسٹ کشمیر میں ’’وِکست کرشی سنکلپ ابھیان‘‘ کا آغاز کیا

جاوید احمد ڈار نے سکاسٹ کشمیر میں ’’وِکست کرشی سنکلپ ابھیان‘‘ کا آغاز کیا

جموںوکشمیر میں زرعی ترقی اور کسانوں کو بااِختیار بنانے کی جانب ایک اہم قدم

سری نگر/ /جموں و کشمیر میں زرعی ترقی کو فروغ دینے اور کسانوں کو جدید معلومات سے آراستہ کرنے کے لئے’’ وِکست کرشی سنکلپ ابھیان‘‘کے آغاز کی اِفتتاحی تقریب آج شیرِ کشمیر زرعی یونیورسٹی ( ایس کے یو اے ایس ٹی)کشمیر کے کنونشن سینٹر میں منعقد ہوئی۔ اِس تقریب کی صدارت وزیر برائے زرعی پیداوارجاوید احمد ڈار نے کی۔یہ 15 روزہ مہم کسانوں کو خطے کے لحاظ سے موزوں جدید خریف فصلوں کی ٹیکنالوجیز سے روشناس کرنے، حکومتی سکیموں اور پالیسیوں سے بیداری پیدا کرنے، سوئیل ہیلتھ کارڈوںکے اِستعمال کو فروغ دینے اور کسانوں کی آرا اور مشورے جمع کرنے کے لئے منعقد کی جا رہی ہے تاکہ کسانوں کی ضروریات کے مطابق تحقیق و ترقی کو آگے بڑھایا جا سکے۔وزیر موصوف نے اَپنے خطاب میں کسانوں پر زور دیا کہ وہ زرعی ماہرین سے براہِ راست رابطہ کریں اور ان سے اَپنے مسائل پر تبادلہ خیال کریں۔ اُنہوں نے یقین دہانی کی کہ حکومت کسانوں کے مسائل کو حل کرنے کے لئے پوری طرح پُرعزم ہے۔اُنہوں نے کہا، ’’حکومت مرکزی اور یوٹی سطح پر متعدد سکیموں کے ذریعے کسانوں کی مکمل سپورٹ کر رہی ہے۔ ہمارا ہدف زرعی آمدنی میں اِضافہ اور نوجوانوں کے لئے زراعت کو ایک پُرکشش اور فائدہ مند پیشہ بنانا ہے۔‘‘پرنسپل سیکرٹری محکمہ زرعی پیداوار شیلندر کمار نے بھی خطاب کیا اور حکومتی اَقدامات کی کامیابیوں اور ان کے ذریعے کسانوں کی زندگیوں میں آنے والی تبدیلیوں پر روشنی ڈالی۔دورانِ تقریب صوبہ کشمیر میں زرعی ترقیات پر مبنی ایک دستاویزی فلم پیش کی گئی اور زرعی تحقیق و ترقی پر مشتمل دو اشاعتیں باضابطہ طور پر جاری کی گئیں۔اِس سے قبل وزیر موصوف نے کرسنتھ مم نرسری کا دورہ کیا اور اُنہوں نے وہاں پودوں کی منتقلی کے جاری کام کا معائینہ کیا اور محکمہ فلوریکلچر کی پیش رفت کا جائزہ لیا۔تقریب میں کئی اہم شخصیات نے شرکت کی جن میں رُکن قانون ساز اسمبلی حضرت بل سلمان ساگر، چیئرمین ڈی ڈی سی سری نگر الطاف ملک، وائس چانسلرسکاسٹ کشمیرپروفیسر (ڈاکٹر) نذیر اے گنائی اور ڈائریکٹر ایکسٹینشن سکاسٹ کشمیر ڈاکٹر ریحانہ حبیب کنٹھ شامل تھے۔