Farooq abdullah

ثابت قدم رہ کر جدوجہد کرنے سے ہی ہمیں اپنے حقوق مل سکتے ہیں:ڈاکٹر فاروق

سرینگر //ہندوستان اور پاکستان کے درمیان مذاکرات اور دوستانہ تعلقات کو خطے میں امن و امان کی واحد ضمانت قرار یتے ہوئے صدرِ نیشنل کانفرنس ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ جواہر لعل نہرو سے لیکر منموہن سنگھ اور لال بہادر شاستری سے لیکر واجپائی تک سارے وزرائے اعظم نے امن مذاکرات کئے یہاں تک موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی بھی لاہور جاکر اُس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کے گھر گئے تو اب بات چیت کرنے میں کیا ہرج ہے؟۔ سی این آئی کے مطابق ان باتوں اظہار انہوں نے صوبہ جموں کے دورے کے 5ویں دن مینڈھر میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا جبکہ اس سے قبل انہوں نے راجوری اور تھنہ منڈی میں بھی پارٹی کنشنوں سے خطاب کیا اور قدیم زیارت حضرت بابا غلام شاہ بادشاہؒ شاردا شریف پر بھی حاضری دی۔ اُن کے ہمراہ پارٹی جنرل سکریٹری حاجی علی محمد ساگر، معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفیٰ کمال ، صدرِ صوبہ جموں رتن لعل گپتا، سینئر لیڈران خالد نجیب سہروردی، جاوید رانا، مشتاق گورو اور دیگر لیڈران بھی موجود تھے۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان دوستی اور اچھے تعلقات کے سوا کوئی راستہ نہیں۔ ہم لوگ بھی اسی صورت میں عزت اور امن و سکون کیساتھ زندگی بسر کرسکتے ہیں۔ دفعہ370اور35اے کی بحالی کیلئے جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کو دہراتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ اپنے حقوق کیلئے لڑنا ہمارا کام ہے اور اگر ہمارا ایمان پختہ ہوگا اور اللہ تعالیٰ کی عنایت ہم پر ہوگی تو کامیاب ضروری ہمارے قدم چومے گی لیکن اس کے لئے ہمیں ثابت قدم رہنا ہوگاکیونکہ اس جدوجہد میں ہمیں بہت سارے مشکلات اور چیلنجوں سے گزرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم کوئی بھیک نہیں مانگ رہے ہیں بلکہ ہم اپنے حق کیلئے لڑ رہے ہیں۔ 1947میں سارے ریاستیں ہندوستان میں مدغم ہوئیں البتہ جموں وکشمیر واحد ایسی ریاست ہے جو ضم نہیںہوئی بلکہ ایک مشروط الحاق کیا اور اس الحاق کی بنا پر دفعہ370اور 35اے کا قیام عمل میں آیا۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ دفعہ370عارضی تھا میں اُنہیں یہ ذہن نشین کرانا چاہتا ہوں کہ یہ دفعہ اس لئے عارضی تھی کیونکہ جموں وکشمیر کے لوگوں کو اقوام متحدہ کی نگرانی میں ریفرنڈم کرانا مطلوب تھا اور اس کے بعد ہی اس دفعہ کو ختم یا مستقل کیا جانا تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ یہ دفعہ آج تک عارضی ہی رہی۔ انہوں نے کہا کہ جواہر لعل نہرو نے بھی پارلیمنٹ میں بحیثیت وزیرا عظم اس بات کا اعلان کیا تھا کہ اگر جموں وکشمیر کے لوگ ہندوستان سے الگ ہونے کا انتخاب کریں گے ، ہمیں اس کا دکھ ہوگا لیکن ہمیں انہیں روکیں گے نہیں۔ تقسیمی عناصر اور سیاسی جماعتوں سے ہوشیار رہنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے صدرِ نیشنل کانفرنس نے کہا کہ الیکشنوں میں جیت حاصل کرنے کیلئے مسلمانوں اور ہندئوں کو آپ میں لڑایا جارہا ہے۔ عوام کو ان سازشوں کا توڑ کرنا ہوگا کیونکہ اس رجحان سے وطن ٹوٹ جائے گا اور ہم ایسا بالکل بھی نہیں چاہئیں گے کیونکہ اس ملک کی آزادی اور سالمیت کیلئے تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے بے بہا قربانیاں پیش کیں ہیں۔