گندے پانی کی جانچ نے دیا نئے کووڈ 19کی مسٹری کو جنم

تیسری لہر کے حوالے سے عوامی حلقوں میں تشویش برقرار:ماہرین

سرینگر / /عالمگیر وبائی بیماری کوروناوائرس نے بیشتر ممالک کو اپنی لپیٹ میں لیکر تباہی مچائی اور لاکھوں لوگوں کی جانیں تلف ہوئیں جبکہ کروڑوں لوگ اس وبائی بیماری سے متاثر ہوئے ۔وائرس کی دوسری لہر کی شدت بھارت کے بیشتر ریاستوں میں تقریباًتین ماہ تک شدت کے ساتھ جاری رہی ۔اس دوران ہزاروں کی تعداد میں لوگ جان بحق ہوئے جبکہ لاکھوں لوگ اس وبائی بیماری میں مبتلا ہوئے تاہم گذشتہ کئی ماہ سے کوروناکے مثبت معاملات سامنے آنے میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے ۔اگر چہ ابھی یومیہ معاملات میں اتاروچڑھائو کا سلسلہ جاری ہے لیکن حالات پہلے سے قدرے بہتر ہیںاور جہاں ہزاروں کی تعداد میں روزانہ مثبت کیسز سامنے آتے تھے وہیں مثبت معاملات کا گراف سو سے بھی نیچے چلا گیا ۔لیکن اس دوران ملک کی کئی ریاستوں میں کورونا کی تیسری لہر کا انکشاف ہوا ہے اور کورونا مریضوں کی تعداد میں آئے روز اضافہ ہونے لگا ہے اور ماہرین کے بیانات کے مطابق تیسری لہر شدید ہوگی اور اس میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کو متاثر ہونے کاخدشہ ہے ۔ان کا مانا ہے کہ اگر لوگ احتیاطی تدابیر اپنانے میںذراسی لاپرواہی سے کام لیں گے تو اس بھیانک نتائج سامنے آئیں گے اور ہوتے ہوتے ہی سب کچھ رہ جائے گا ۔طبی ماہرین نے بتایا کہ بھارت کئی ریاستوں اور زیر انتظام علاقوں کے ساتھ ساتھ جموں وکشمیر میں کورونا کی تیسری لہر کے اثر ات مرتب ہونے لگے ہیں ۔کیونکہ گذشتہ دنوں سے شہر کے کئی علاقوں میں پھر سے یومیہ مثبت معاملات سامنے آنے لگے ہیں جبکہ اس وبائی بیماری کی لپیٹ میں آکر مریضوں کے مرنے کی اطلاعات بھی موصول ہورہی ہیں اوران علاقوں میں احتیاطی طور بندشیں بھی عائد کی ہیں ۔تاہم پہلے سے حالات قدرے بہتر ہیں ۔انہوں کہ اگر چہ حالات کسی حد تک صحیح ڈگر پر آئیں ہیں لیکن کوروناوائرس کا پھیلائو برقرار ہے ۔انہوں نے کہا کہ لاپرواہی برتنے کی صورت میں تیسری لہر کا آناطے ہے ْ۔اس سلسلے میں انہوں نے لوگوں سے اپیل کرتے ہوئے بتایا کہ وہ ہر حال میں ہرسطح پر مرتب شدہ ایس او پیز پر عمل پیرا ہوجائیں اور ماضی کے حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے سنجیدگی کا مظاہرہ کریں ۔ تاکہ کوروناوائرس کا پھیلائو کم ہوجائے گا اور لوگ تیسری لہر سے نجات حاصل کرسکیں گے ۔