ترقی یافتہ ہندوستان کے چار ستونوں یعنی نوجوان، غریب، خواتین اور کسانوں کو بااختیار بنائے گا/ وزیر اعظم مودی

عبوری بجٹ وزیر اعظم نریندر مودی کے سال 2047 تک ترقی یافتہ بھارت کے نظریہ کو حاصل کرنے کیلئے روڈ میپ / امیت شاہ

سرینگر// سال 2025-26کیلئے پیش گئے بجٹ کو ترقی یافتہ ہندوستان کی بنیاد کو مضبوط کرنے کی ضمانت قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ یہ ترقی یافتہ ہندوستان کے چار ستونوں یعنی نوجوان، غریب، خواتین اور کسانوں کو بااختیار بنائے گا۔ادھر وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہا کہ بجٹ وزیر اعظم نریندر مودی کے سال2047 تک ترقی یافتہ بھارت کے نظریہ کو حاصل کرنے کیلئے روڈ میپ تیار کرتا ہے۔سی این آئی مانیٹرنگ ڈیسک کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی نے زور دے کر کہا کہ وزیر خزانہ نرملا سیتارامن کے ذریعہ پیش کردہ مرکزی بجٹ ایک ترقی یافتہ ہندوستان کی بنیاد کو مضبوط کرنے کی ’’گارنٹی ‘‘ پیش کرتا ہے۔بجٹ کے بعد ایک ٹیلی ویڑن خطاب میں وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ یہ ترقی یافتہ ہندوستان کے چار ستونوں یعنی نوجوان، غریب، خواتین اور کسانوں کو بااختیار بنائے گا۔انہوں نے کہا ’’یہ ہندوستان کا مستقبل بنانے کا بجٹ ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ ایک نوجوان ہندوستان کی نوجوان امنگوں کا عکاس ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ بجٹ غریب اور متوسط طبقے کو بااختیار بناتا ہے اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے بے شمار مواقع پیدا کرے گا۔ادھر مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے سنیچروار کو کہا کہ عبوری بجٹ وزیر اعظم نریندر مودی کے 2047 تک ترقی یافتہ بھارت کے ویژن کو حاصل کرنے کیلئے روڈ میپ تیار کرتا ہے۔شاہ نے یہ بھی کہا کہ بجٹ تقریر ان سنگ میلوں پر روشنی ڈالتی ہے جو مودی حکومت نے پچھلے 10 سالوں میں بھارت کو ہر شعبے میں سب سے آگے ملک بنانے کے سفر میں حاصل کیے تھے۔امیت شاہ نے ایکس پر ایک پوسٹ میںکہا ’’مرکزی بجٹ 2047 تک ترقی یافتہ بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کے نظریہ کو حاصل کرنے کیلئے روڈ میپ تیار کرتا ہے‘‘۔انہوں نے لکھا ’’کسانوں، غریبوں، متوسط طبقے، خواتین کی بہبود، اور بچوں کی تعلیم، غذائیت اور صحت سے لے کر اسٹارٹ اپ، اختراعات اور سرمایہ کاری تک، یہ بجٹ تمام شعبوں کو گھیرے ہوئے ہے اور مودی جی کے آتم نر بھر بھارت کے ویژن کے روڈ میپ کے طور پر کام کرتا ہے‘‘۔انہوں نے لکھا میں وزیر اعظم مودی کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے اس بہترین سفر کے ذریعے قوم کی رہنمائی کی ‘‘۔