tral kashmir

ترال کے5گائوں کو سیاحتی درجہ دینے کے بعد نوجوانوں کا اظہار مسرت

ایک سال ہونے لگا تاہم زمینی سطح پر سیاحت کے لئے کام شروع نہیں کیا گیا

سری نگر// وادی کشمیر کئی باقی علاقوں کے ساتھ ساتھ جنوبی کشمیر کے سب ضلع ترال کے پانچ انتہائی خوبصورت علاقوں جن میں شکارگاہ،پنیر جاگیر ڈیم ،ناگہ بیرن،آری پل نارستان کو سیاحتی گائوں کا درجہ دیا گیا تھا اس اعلان کے ساتھ ہی مقامی لوگوں نے سرکاری فیصلے پر خوشی اور اطمنان کا اظہارکیاتاہم تاحال کام شروع نہ کرنے کی وجہ سے علاقے کے لوگ مایوسی کے شکار ہوئے ہیں انہوں انتظامیہ سے اس بارے میں زمینی سطح پر کام شروع کرنے کی اپیل کی ہے ۔کشمیر نیوز سروس ( کے این ایس ) کے مطابق ان علاقوں کے لوگوں نے بتایا کہ ہمیں خوشی ملی کہ سرکار نے دیر سے ہی صیح مگر ایک اچھا قدم اٹھایا تھا انہوں نے بتایا ان پانچوں گائوں کے لوگوں کو یہاں سیاحتی سرگرمیوں کے لئے ایک رقم فراہم کرنے کا بھی اس وقت اعلان کیا گیا ہے لوگوں نے بتایا قریب ایک سال گزر گیا ہے تاہم تاحال عملی طور پر اس حوالے سے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا ہے جس کی وجہ سے یہاں نوجوانوں کام شروع کرنے کے منتظر ہیں ۔ ان پانچ مقامات میں سے نارستان بھی ایک خوبصورت جگہ ہے جہاں سال کے ہر موسم میں وادی کشمیر کے مختلف علاقوں سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد آتی ہے جبکہ حال ہی میں یہاں کچھ غیر مقامی سیاح بھی آئے تھے جنہوں نے اس جگہ کو بہت زیادہ پسند کیا ہے ۔نارستان علاقے میں قائم ایک ریسٹورنٹ کے مالک رفیق احمد نے کہا ہم سرکار کے شکر گزار ہیں جنہوں نے اس گائوں کو سیاحتی گائوں قرار دیا ہے تاہم علاقے میں پارک ،یا چھوٹے چھوٹے میدانوں کو تعمیر کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے انہوں نے بتایا لوگ اس علاقے کو بہت زیادہ پسند کرتے ہیں تاہم کیوںکہ یہاں کے نالے میں ایک خاص قسم کی مچھلیاں پائی جاتے ہیں جن کو شکار کرنے کے لئے وادی کشمیر کے دور درواز علاقوں سے لوگ آتے ہیں ۔انہوں نے بتایا یہاں عام لوگوں کو بیٹھنے کے لئے جگہ موجود نہیں ہے انہوں نے بتایا اگر سرکار اس بارے میں قدم اٹھائے گی تو یہ علاقہ سیاحت کا سب سے اہم اور مشہور علاقہ بن سکتا ہے ۔ رفیق نے بتایا سرکاری اعلان کے بعد انہوں نے یہاں ایک ریسٹورنٹ قائم کیا اور اب تک5نوجوانوں کو روز گار فراہم کر رہا ہے ۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ جن گائوں کو سیاحتی گائوں کا درجہ ملا ہے ان میں زمینی سطح پر کام شروع کیا جانا چاہے ۔