بوندی: کانگریس کے سابق قومی صدر راہل گاندھی نے آج صبح تقریباً 6 بجے بوندی ضلع کے کاپرین کے نزدیک بلدیو پورہ سے اپنی یاترا شروع کی۔راہل گاندھی جب اپنی بھارت جوڑو یاترا کے ساتھ روانہ ہوئے تب کچھ اندھیرا ہونے کے باوجود ان کا استقبال کرنے کے لئے لوگ لال سوٹ میگا ہائی وے پر جمع ہونا شروع ہو گئے۔ گاندھی جب وہاں سے گزر رہے تھے تو سڑک کے دونوں طرف گاؤں والوں کی بڑی تعداد جن میں خواتین اور نوجوان لڑکے لڑکیاں شامل تھے، ان کا استقبال کرنے کے لیے موجود تھے۔ انہوں نے ہاتھ ہلا کر راہل گاندھی کا استقبال کیا۔اس دوران وزیراعلی اشوک گہلوت، کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش کے ساتھ قافلے میں شامل ہوئے اور وہ راہل گاندھی سے کچھ پیچھے چل رہے تھے۔ کانگریس سیوا دل کے کارکنان ان کے ساتھ ہاتھوں میں قومی پرچم اٹھائے چل رہے تھے۔ کچھ فاصلہ طے کرنے کے بعد سیوا دل کا نیا کارکن اس کارکن جو پہلے سے چل رہا تھا ،کے پاس پہنچ جاتا تھا اور قومی پرچم کو سلامی دینے کے بعد اسے ہاتھ میں پکڑ کر آگے بڑھتا اور بدل بدل کے یہ سلسلہ لگاتار چلتا ہی جارہا تھا۔یاترا کے دوران راہل گاندھی نے چند مواقع پر نوجوانوں کو اپنے پاس بلایا اور ان سے بات چیت کی۔ کچھ لڑکیاں 4-5 کے گروپ میں راہل گاندھی کے پاس پہنچی اور ان سے بات کی اور ان کے ساتھ تصویریں کھنچوائیں۔ راستے میں ایک خاتون ، جو راہل گاندھی کو ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کی تصویر پیش کرنا چاہتی تھیں، ان کے پاس پہنچی۔ تقریباً دو کلو میٹر کا سفر طے کرنے کے بعد کچھ کسان راہل گاندھی کے پاس آئے اور راہل گاندھی سے کسانوں کے مسائل کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہیں صورتحال سے آگاہ کیا۔ ان کے ہاتھ میں کچھ کاغذات بھی تھے جو انہوں نے راہل گاندھی کو بھی دکھائے۔ راہل گاندھی نے کچھ دیر ان کی باتوں کو غور سے سنا اور ان سے بات کی۔اس دوران ریاستی کانگریس صدر گووند سنگھ دوٹاسرا راہل گاندھی کے ساتھ چل رہے ہیں۔ اس دوران دوٹاسرا نے کسانوں کی بات بھی سنی۔ اس سے قبل راہل گاندھی اور ان کے ساتھ بھارت جوڑو یاترا میں ان کے ساتھ چلنے والے قافلے نے کوڑکیا گاؤں کے قریب باجدلی ریلوے پھاٹک کے قریب بنائے گئے قیام کے مقام پر آرام کیا۔










