200افراد سے پوچھ تاچھ،فوجی گاڑی پرحملہ 3 سے 5دہشت گردوں نے انجام دیا:ڈی جی پی دلباغ سنگھ
سری نگر//جموں و کشمیر پولیس نے جمعہ کے روز دعویٰ کیا کہ پچھلے ہفتے پونچھ میں گھات لگا کر دہشت گردانہ حملے کی سازش کا پردہ فاش کر دیا گیا ہے اور 6 مقامی لوگوں کو دہشت گردوں کو پناہ دینے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔جے کے این ایس کے مطابق جموں وکشمیرپولیس کے ڈائریکٹر جنرل دلباغ سنگھ نے جمعہ کوراجوری ضلع کادورہ کرنے کے دوران نامہ نگاروںکو بتایاکہ بھٹہ دوریاں مینڈھرمیں فوجی گاڑی پرحملہ کرنے سے سے پہلے کہ حملہ آوروں نے مقامی لوگوںکے گھروںمیں پناہ لی ،اور پھرڈرون کے ذریعے پاکستان سے آئے ہوئے دھماکہ خیز مواد اور ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہوئے فوج کی گاڑی پر حملہ کیا۔پولیس کے ڈائریکٹر جنرل دلباغ سنگھ نے کہا کہ 20 اپریل کا حملہ منصوبہ بند تھا اور اسے3 سے 5دہشت گردوں نے انجام دیا۔ انہوں نے پہلے علاقے کا جائزہ لیا، علاقے کو سمجھا اور پھر حملے کی جگہ کا انتخاب کیا۔ڈی جی پی نے کہا کہ اب تک200 سے زائد افراد سے پوچھ گچھ کی جا چکی ہے اور حملے میں ملوث دہشت گردوں کو بے اثر کرنے کے لئے آپریشن جاری ہے۔پولیس چیف نے کہاکہ 6 افراد (ایک ماڈیول کے) کو گرفتار کیا گیا ہے،اور ان میں وہ لوگ شامل ہیں جنہوں نے دہشت گردوں کو پناہ فراہم کی اور خوراک کے علاوہ مواد (ہتھیار، گولہ بارود، دھماکہ خیز مواد) فراہم کیا ہے اور اُنہیں ایک سے دوسری جگہ رہنمائی کی ہے۔انہوںنے مزید کہاکہ ہمیں پوچھ گچھ کے دوران اشارے مل رہے ہیں۔ ہم اس پر کام کر رہے ہیں۔دلباغ سنگھ، جنہوں نے برف سے ڈھکے پیر پنجال پہاڑوں کے دامن میں واقع درہال اور دور دراز کے بدھ خاناری علاقے کا دورہ کیا، نے یہ بھی کہا کہ اس طرح کے واقعات مقامی تعاون کے بغیر ممکن نہیں ہیں۔انہوںنے کہاکہ اس سلسلے میں ایک مکمل ماڈیول پکڑا گیا ہے،جو دہشت گردوں کو پچھلے دو تین ماہ سے سپورٹ کر رہے تھے۔ نثار نامی ایک مقامی اور اس کا خاندان دہشت گردوںکو کھانے سے لے کر رہائش تک تمام مدد فراہم کر رہے تھے۔ دھماکہ خیز مواد پاکستان سے ڈرون کے ذریعے آیا تھا۔ انہوں نے اسلحہ اٹھایا اور دہشت گردوں کو فراہم کیا۔ اس میں ہتھیار، دستی بم اور گولہ بارود شامل تھا۔ڈی جی پی نے مزید کہا کہ سیکورٹی فورسز مزید مقامی مدد کی نشاندہی کر رہی ہیں۔انہوںنے کہاکہ وہ اس پر مضبوطی سے کام کریں گے۔ دہشت گرد جنگلات کے قریب جگہوں کا انتخاب کرتے ہیں، جہاں اُنہیں مقامی مدد ملتی ہے اور جنگلوں میں فرار ہونے کا راستہ بھی ہوتا ہے۔ماڈیول کے بارے میں مزید تفصیلات بتاتے ہوئے ڈی جی دلباغ سنگھ نے کہا کہ نثار ایک طویل عرصے سے دہشت گرد رہا ہے،وہ 1990 کی دہائی میں پاکستانی نژاد لشکر طیبہ کے OGW کے کمانڈر کے طور پر کام کر رہا تھا۔ وہ ہمارے ریڈار کے نیچے تھا۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے اسے ماضی میں دو تین بار پوچھ گچھ کے لئے اٹھایا تھا۔ وہ ہماری مشتبہ افراد کی فہرست میں تھا اور اس بار بھی اسے اٹھایا گیا تھا۔ڈی جی پی نے کہا کہ جب پوچھ گچھ کی گئی تو ہم نے پایا کہ وہ خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ پوری طرح ملوث تھا۔حملہ انجام دینے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں نے سب سے پہلے علاقے کا جائزہ لیا، علاقے کو سمجھا اور حملے کی جگہ پر نشیبی علاقوں اور تیز موڑ کے پیش نظر گاڑی کی رفتار صفر پر آنے پر غور کیا۔ڈی جی پی کے مطابق دہشت گرد ہ قریب آئے اور گاڑی پر گھات لگا کر حملہ کیا۔ پھر انہوں نے گاڑی پر فائرنگ کردی جس سے گاڑی تباہ ہوگئی اور فوجی زخمی ہوئے۔ انہوں نے ایک آئی ای ڈی نصب کی، اسے آگ لگا دی اور اسے دھماکہ کیا۔دلباغ سنگھ نے کہا کہ پاکستان سے آنے والے دہشت گردیہاں آتے رہتے ہیں۔اوروہ یہاں کئی مہینوں تک رہتے ہیں۔ وہ ریکی اور اس طرح کی حرکتیں کرتے ہیں،ہم نے ماضی میں بھی ان میں سے کئی کو بے اثر کر دیا ہے۔ دو سے چار ایسے دہشت گرد وقتاً فوقتاً سرگرم رہتے ہیں۔دلباغ سنگھ کے مطابق اس علاقے میں10 سے 12 ایسے عناصر کام کر رہے ہیں۔چینی سٹیل کور گولہ بارود کے استعمال پر انہوں نے کہا کہ یہ ڈھنگری واقعہ میں بھی استعمال ہوا تھا۔انہوں نے کہا کہ دہشت گرد اس طرح کے حملوں کے لیے بہتر طور پر تیار ہیں۔










