سرینگر//وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ بھارت کے پڑوسی ممالک یہاں کے میڈیا، این جی اور دیگر اداروں کو اپنے ہی ملک کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کررہی ہیں جس کے نتیجے میں ملک کی سلامتی کو بڑا چلینج ہے ۔ وزیر دفاع نے کہا کہ این جی اوز ، عدلیہ اور میڈیا اگر غلط ہاتھوں میں کھلے گا تو ملک کا شیرازہ بکھر جائے گا۔ اسلئے جتنا دفاعی نظام مضبوط ہوگا ملک کی سلامتی اُتنی ہی مضبوط ہاتھوں میں ہوگی ۔ سی این آئی کے مطابق گجرات کے گاندھی نگر ضلع کے لاواڈ گاؤں میں راشٹریہ رکھشا یونیورسٹی کے دوسرے کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے راج ناتھ سنگھ نے ریاستی ایجنسیوں کو مربوط انداز میں کام کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ گزشتہ دو دہائیوں میں یہ دیکھا گیا ہے کہ اندرونی اور بیرونی سلامتی کے درمیان فرق کم ہو رہا ہے اور ملک کے آزاد میڈیا، عدلیہ، این جی اوز اور متحرک جمہوریت کا غلط استعمال اس کی سلامتی کو تباہ کرنے کے لیے کیا جا سکتا ہے۔گجرات کے گاندھی نگر ضلع کے لاواد گاؤں میں راشٹریہ رکھشا یونیورسٹی کے دوسرے کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر سنگھ نے ریاستی ایجنسیوں کو مربوط انداز میں کام کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔انہوں نے کہا کہ ’’بدلتے وقت کے ساتھ، سیکورٹی کے جہتوں میں زبردست تبدیلی آئی ہے‘‘ہم عام طور پر سیکورٹی کو دو پہلوؤں سے دیکھتے ہیں ۔اندرونی اور بیرونی لیکن گزشتہ دو دہائیوں میں، یہ دیکھا گیا ہے کہ اندرونی اور بیرونی سیکورٹی کے درمیان فرق کم ہو رہا ہے ۔انہوں نے کہاکہ ایک ہائبرڈ جنگ میں، اندرونی اور بیرونی سلامتی کے درمیان لائنیں تقریباً ختم ہو جاتی ہیں۔وزیر دفاع نے کہا کہ سوشل میڈیااین جی اوز، عدلیہ اور کسی ملک کی جمہوریت کا غلط استعمال ایسی قوتیں کر سکتی ہیں جو اس کی سلامتی کو تباہ کرنے کے لیے کام کر رہی ہیں۔ایک آزاد سوشل میڈیا کو منظم پروپیگنڈہ کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ سوشل میڈیا کی آزادی بری نہیں ہے، میڈیا کو آزاد ہونا چاہیے، لیکن اگر میڈیا آزاد ہے تو اس کا غلط استعمال کیا جا سکتا ہے۔خطرناک طریقے سے قائم کرنے اور پروپیگنڈا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اور اظہار رائے کی آزادی کے نام پر متنازعہ چیزیں۔اگراین جی اوز آزاد ہیں، تو انہیں اس طرح استعمال کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ ملک کا پورا نظام مفلوج ہو جائے۔اگر عدلیہ آزاد ہے تو اسے قانونی نظام کا استعمال کرتے ہوئے ترقی کے کاموں کو روکنے یا سست کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، اگر کسی ملک میں متحرک جمہوریت ہے، تو اس کے اتحاد اور سلامتی پر حملہ کرنے کے لیے سیاسی جماعتوں کو گھسنے کی کوشش کی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ محض تخیلات نہیں ہیں بلکہ حکمت عملی سازوں کی باتیں ہیں اور کچھ ممالک کی سیکیورٹی دستاویزات میں تفصیل سے موجود ہیں۔مسٹر سنگھ نے کچھ میڈیا رپورٹس کی مثال بھی استعمال کی جس میں کہا گیا ہے کہ کوریگاؤں-بھیما (مہاراشٹر کے پونے ضلع میں 2018 میں) میں تشدد کے معاملے کے سلسلے میں 50% ٹویٹس کا تعلق پاکستان سے ہے۔










