بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے سربراہ نے ملک میں انقلاب کے ہاتھوں معزول اور بھارت فرار ہونے والی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی حوالگی کا مطالبہ کرنے کا عندیہ دے دیا۔خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق بنگلہ دیش نے اقتدار سے بے دخل ہونے کے بعد بھارت فرار ہونے والی 77 سالہ حسینہ واجد کے وارنٹ گرفتاری پہلے ہی جاری کردیے تھے۔شیخ حسینہ واجد کو قتل عام، ظلم و تشدد اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات میں ڈھاکا کی عدالت نے آج طلب کیا تھا تاہم وہ بھارت میں اب تک جلاوطن ہیں۔بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس کا کہنا تھا کہ ان کی انتظامیہ کی توجہ شیخ حسینہ واجد کا تختہ الٹنے والے مظاہرین پر تشدد میں ملوث افراد کو کٹہرے میں کھڑا کرنے پر مرکوز ہے۔سابق وزیراعظم کی حکومت میں شامل وزرا جنہیں تحویل میں رکھا گیا ہے ان کے خلاف بھی اس قسم کے الزامات میں کارروائی کیے جانے کا امکان ہے۔
محمد یونس نے گزشتہ روز قوم سے خطاب میں کہا تھا کہ’ جولائی اور اگست میں احتجاج میں شدت آنے کے دوران جبری گمشدگیوں، قتل و غارت گری، اور بڑی تعداد میں لوگوں کو مارنے والے ذمہ داران کے اقدامات شروع کردیئے ہیں۔’ بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے سربراہ نے ان خیالات کا اظہار طلبا تحریک کے نتیجے میں آنے والے انقلاب کے بعد اقتدار میں 100 دن مکمل ہونے کے بعد کیا۔
سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کی حوالگی سے متعلق محمد یونس نے کہا کہ عالمی فوجداری عدالت کے چیف پراسیکیوٹر کریم خان سے بات کی ہے، ہم بے دخل کی گئی وزیراعظم کا بھارت سے حوالگی کا مطالبہ کریں گے۔اس ماہ کے اوائل میں بنگلہ دیشی حکومت نے شیخ حسینہ کی حکومت میں شامل مفرور رہنماؤں کی حوالگی کے لیے انٹرپول کے ’ریڈ نوٹس‘ الرٹ کی درخواست کا عندیہ دیا تھا۔
عالمی پولیس تنظیم (انٹرپول) کی طرف سے جاری کردہ ’ریڈ نوٹس‘ دنیا بھر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مفرور افراد کے بارے میں الرٹ کرتے ہیں۔تاہم بھارت کے انٹرپول کا ممبر ہونے کے باوجود ریڈ نوٹس جاری ہونے سے نئی دہلی کے شیخ حسینہ کی حوالگی کے امکانات کم ہیں۔
دنیا کے 196 رکن ممالک کے درمیان پولیس تعاون کو فروغ دینے والی تنظیم کے مطابق، ممبر ممالک ’ایک شخص کو گرفتار کرنے کے لیے اپنے قوانین کا اطلاق کرسکتے ہیں۔‘واضح رہے کہ محمد یونس 17 کروڑ کی آبادی پر مشتمل بنگلہ دیش جس کے اداروں کو جمہوری بحران کا سامنا ہے، میں عبوری حکومت کی سربراہی کررہے ہیں۔انہوں نے عوام کو انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے صبر کی تلقین کرتے ہوئے آئندہ کچھ دنوں میں الیکشن کمیشن کے قیام کی نوید سنائی ہے۔تاہم محمد یونس نے اصلاحات پر ہونے والی پیشرفت کو مدنظر رکھتے ہوئے الیکشنز کے حوالے سے حتمی تاریخ دینے سے گریز کیا ہے۔انہوں نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ’ میں وعدہ کرتا ہوں کہ ملک میں ضروری اصلاحات مکمل ہونے کے بعد رائے شماری کا انعقاد کریں گے لیکن اس وقت تب میں آپ سے صبر کی درخواست کرتا ہوں، ہم دہائیوں تک پائیدار انتخابی نظام بنانا چاہتے ہیں اور اس کے لیے ہمیں کچھ وقت درکار ہے۔’










