سرینگر/ وزیر اعظم نریندر مودی نے آپریشن سندور کی پہلی برسی کے موقع پر ملک کی مسلح افواج کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت دہشت گردی کے خلاف اپنی لڑائی میں آج بھی پوری مضبوطی اور عزم کے ساتھ قائم ہے اور دہشت گردی کو فروغ دینے والے ہر نیٹ ورک اور اس کے معاون ڈھانچے کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے پْرعزم ہے۔یو این ایس کے مطابق وزیر اعظم نے جمعرات کی صبح سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے ایک تفصیلی پیغام میں کہا کہ ایک سال قبل بھارتی افواج نے آپریشن سندور کے دوران غیر معمولی جرات، پیشہ ورانہ مہارت، درست حکمت عملی اور بے مثال عزم کا مظاہرہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کارروائی صرف ایک فوجی آپریشن نہیں تھی بلکہ یہ بھارت کی قومی خودداری، سلامتی اور دہشت گردی کے خلاف غیر متزلزل پالیسی کی علامت تھی۔وزیر اعظم نے اپنے پیغام میں کہا’’ایک سال قبل ہماری مسلح افواج نے آپریشن سندور کے دوران شاندار بہادری، درستگی اور مضبوط ارادے کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے اْن عناصر کو مؤثر اور فیصلہ کن جواب دیا جنہوں نے پہلگام میں بے گناہ بھارتی شہریوں کو نشانہ بنایا تھا۔ پوری قوم آج اپنی افواج کی بہادری اور قربانیوں پر فخر محسوس کر رہی ہے۔‘‘انہوں نے کہا کہ آپریشن سندور نے دنیا کے سامنے یہ واضح کر دیا کہ بھارت دہشت گردی کے خلاف کسی بھی قسم کی نرمی برداشت نہیں کرے گا۔ وزیر اعظم کے مطابق اس کارروائی نے بھارتی افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، جدید جنگی تیاری، مشترکہ آپریشنل حکمت عملی اور تینوں افواج کے درمیان مضبوط تال میل کو نمایاں کیا۔مودی نے اس موقع پر دفاعی شعبے میں خود انحصاری کی حکومتی پالیسی کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ گزشتہ برسوں میں بھارت نے مقامی سطح پر دفاعی سازوسامان کی تیاری، جدید ٹیکنالوجی اور عسکری نظام کو مضبوط بنانے کے لیے جو اقدامات کیے، اْن کے مثبت نتائج آپریشن سندور کے دوران واضح طور پر سامنے آئے۔انہوں نے کہا کہ آج بھارت نہ صرف اپنی سرحدوں کے دفاع کے لیے پوری طرح تیار ہے بلکہ دہشت گردی کے خلاف عالمی سطح پر ایک مضبوط اور فیصلہ کن آواز بن کر ابھرا ہے۔وزیر اعظم نے عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ آپریشن سندور کی پہلی برسی پر ملک کے شہری اپنی مسلح افواج کے احترام اور ان کی کامیابی کو یاد رکھنے کے لیے یکجہتی کا اظہار کریں۔ انہوں نے کہا کہ قوم اپنے فوجیوں کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔واضح رہے کہ ’’آپریشن سندور‘‘ گزشتہ سال 7 اور 8 مئی کی درمیانی شب اْس وقت شروع کیا گیا تھا جب پہلگام میں ایک ہولناک دہشت گرد حملے میں 26 شہری ہلاک ہوگئے تھے، جن میں اکثریت سیاحوں کی تھی۔ اس حملے کے بعد ملک بھر میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا تھا اور حکومت پر دہشت گردی کے خلاف سخت کارروائی کا دباؤ بڑھ گیا تھا۔اس کے بعد بھارتی افواج نے مربوط فوجی کارروائی کرتے ہوئے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور دیگر سرحدی علاقوں میں موجود مبینہ دہشت گرد ٹھکانوں، تربیتی مراکز اور انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا۔ کارروائی میں میزائل، جنگی طیارے، ڈرونز اور توپ خانے کا استعمال کیا گیا تھا۔یو این ایس کے مطابق حکام کے مطابق یہ کارروائی انتہائی خفیہ منصوبہ بندی اور انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر انجام دی گئی تھی، جس کا بنیادی مقصد دہشت گرد تنظیموں کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچانا اور مستقبل میں ایسے حملوں کو روکنا تھا۔سرکاری ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران لشکرِ طیبہ اور جیشِ محمد سے وابستہ متعدد مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔ حکام نے اْس وقت دعویٰ کیا تھا کہ تقریباً سو کے قریب دہشت گرد مارے گئے، جبکہ عام شہریوں کے جانی نقصان سے بچنے کے لیے خصوصی احتیاطی تدابیر اختیار کی گئی تھیں۔آپریشن سندور کے بعد ملک بھر میں مختلف تقریبات، مباحثوں اور یادگاری پروگراموں کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ سرحدی علاقوں میں رہنے والے لوگ آج بھی اْس دور کی یادوں کو تازہ کرتے ہیں جب کئی دنوں تک خوف، گولہ باری اور غیر یقینی صورتحال نے معمولاتِ زندگی کو متاثر کر دیا تھا۔دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ آپریشن سندور نے نہ صرف دہشت گردی کے خلاف بھارت کی پالیسی کو مزید واضح کیا بلکہ خطے میں عسکری اور سفارتی سطح پر بھی ایک مضبوط پیغام دیا۔ مبصرین کے مطابق حکومت اس کارروائی کو اپنی قومی سلامتی کی پالیسی کی ایک اہم مثال کے طور پر پیش کر رہی ہے۔










