ریلیف کمشنر پر رشوت اور غیر قانونی الاٹمنٹ کے الزامات پر انتظامیہ کی کارروائی
سرینگر//یو این ایس// جموں و کشمیر انتظامیہ نے ایک کشمیری بے گھر افراد کے رہنما کے خلاف فیس بک پر مبینہ طور متنازع تبصرہ کرنے کے معاملے میں پولیس سے ایف آئی آر درج کرنے کی سفارش کی ہے۔ مذکورہ رہنما پر ریلیف کمشنر کے خلاف غیر قانونی دکانوں کی الاٹمنٹ اور رشوت لینے کے الزامات عائد کرنے کا الزام ہے۔سرکاری ذرائع کے مطابق دفتر ریلیف و بحالی کمشنر (مہاجرین)، جموں کی جانب سے جاری ایک مراسلے میں سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس جموں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اس معاملے میں فوری قانونی کارروائی کریں۔مراسلے کے مطابق سنیل بٹھٹ نے ’’ویلی ایکسپریس نیوز‘‘ کی جانب سے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو کے کمنٹ سیکشن میں یہ الزام لگایا تھا کہ ریلیف کمشنر نے دکانوں کی غیر قانونی الاٹمنٹ کی ہے اور اس کے بدلے رشوت وصول کی گئی ہے۔خط میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ تبصروں سے نہ صرف ریلیف تنظیم کی ساکھ متاثر ہوئی بلکہ ریلیف و بحالی کمشنر کے ادارے کی شبیہ بھی خراب ہوئی ہے۔انتظامیہ نے مزید الزام عائد کیا کہ سنیل بھٹ اپنی سوشل میڈیا سرگرمیوں اور دیگر ذرائع کے ذریعے حکومت کی جانب سے نوٹیفائی کی گئی ’’خصوصی ریلیف راشن اسکیم‘‘ کے خلاف لوگوں کو بھڑکا رہے ہیں اور عوام کو تشدد اور بدامنی کی طرف اکسانے کی کوشش کر رہے ہیں۔اسسٹنٹ کمشنر (ریلیف) کیلاش دیوی کی جانب سے جاری خط میں کہا گیا ہے کہ فوری طور پر سنیل بھٹ کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے۔انتظامیہ نے اپنے وضاحتی بیان میں کہا کہ جگتی مہاجر کیمپ میں دکانوں کی الاٹمنٹ مکمل شفافیت کے ساتھ سینئر افسران کی ایک کمیٹی کی سفارشات پر کی گئی تھی۔بیان میں مزید کہا گیا کہ اگر کسی بھی سرکاری ایجنسی کی جانب سے الاٹمنٹ کے عمل کی تحقیقات کی جاتی ہیں تو محکمہ مکمل تعاون فراہم کرے گا۔دریں اثنا بدھ کے روز بے گھر کشمیری پنڈتوں نے جموں میں حکومت کے اْس فیصلے کے خلاف احتجاج کیا جس کے تحت ریلیف راشن اسکیم کو نیشنل فوڈ سیکورٹی ایکٹ (این ایف ایس اے) کے ساتھ مربوط کیا جا رہا ہے۔احتجاج کے دوران مظاہرین نے اس اقدام کو ’’کالا قانون‘‘ اور کشمیری پنڈت برادری کے لیے ’’جال‘‘ قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ اس سے بے گھر کشمیری پنڈتوں کی الگ شناخت متاثر ہوگی اور ان کی بازآبادکاری کے عمل کو نقصان پہنچے گا۔مظاہرین جب ریلیف کمشنر کے دفتر کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کر رہے تھے تو پولیس کے ساتھ ان کی معمولی جھڑپیں بھی ہوئیں، تاہم صورتحال کو بعد میں قابو میں کر لیا گیا۔










