سرینگر//چین کے نام ایک مرتبہ پھر سخت لہجہ استعمال کرتے ہوئے وزیر دفاع راجنا تھ سنگھ نے کہا کہ بھارت نے ہمیشہ سے امن کو ترجیح دی ہے تاہم ملک کی سالمیت و سیکورٹی پر کوئی بھی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ چین کی کارروائیوں کا جواب دینے کیلئے بھارت اتنا کمزور نہیں کہ وہ دیکھتا رہے ،ہم اینٹ کا جواب پتھر سے دے سکتے ہیں مگر تب بھی ہم صبر سے کام لیتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ گلوان وادی لداخ کے بعد اروناچل پردیش میں چین نے بھارتی فوج کی جرات کا مشاہدہ کیا ہے ۔سی این آئی مانیٹرنگ کے مطابق نئی دہلی میں ایک تقریب کے بعد میڈیا نمائندوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے کہا کہ بھارت اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ بہترین تعلقات کی حامی ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ہو یا بنگلہ دیش یا چین ہو سبھی ممالک کو بھارت کی خودمختاری کا احساس کرکے ہی بات چیت کیلئے ماحول سازگار کرنا ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ بھارت پڑوسی ممالک بشمول بنگلہ دیش اور پاکستان کے ساتھ تعلقات کا نیا دور شروع کرنا چاہتا ہے جس میں امن کیلئے کوشیش کی جاسکتی ہیں تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ مذاکرات اور تشدد ایک ساتھ چل نہیں سکتے اور نہ ہی مذاکرات تشدد آمیز ماحول میں کئے جاسکتے ہیں ۔مرکزی وزیرنے کہا کہ بھارت اتنا کمزور نہیں کہ وہ دیکھتا رہے ،ہم اینٹ کا جواب پتھر سے دے سکتے ہیں مگر تب بھی ہم صبر سے کا م لیتے ہیں ۔وزیردفاع نے کہا کہ گلوان وادی لداخ ، مشرقی لداخ کے بعد چین نے اروناچل پردیش میں بھی بھارت کے فوج کی جرات کا مظاہر کیا ہے اور اب وہ کوئی غلطی کیلئے سو بار پہلے سوچ لیں گے ۔ انہوں نے کہا بھارت ایسے کاموں میں سنجیدہ ہے کہ مسائل کو ایڈریس کیا جائے کیونکہ ہم اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ امن مذاکرات کو جارے رکھنے کیلئے تیار ہیں ۔پڑوسی ممالک سے بھی مثبت ردعمل ملنا لازمی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اروناچل پردیش میں دفاعی صورتحال کو مزیدمضبوط کیاجارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی فوج نے چینی فوج کو واپس دکھیلا ہے ۔










