ضرورت کے مطابق وقت پر بارشوں اور کاشتکاروں کی بھر پور محنت

بڑھتی ہوئی خوشحالی: جموں کشمیر میں قیمتی فصلوں کی کاشت میں جدت لائی جارہی ہے

سری نگر// جموںوکشمیر مختلف قسم کی قیمتی فصلوں کا آماجگاہ ہے جس میں زعفران ، کالا زیرہ ، کشمیری لال مرچ ، مونگ پھلی، انار دھنا ، بھدرواہ راجماش ، ہِل لہسن ، مشک بدجی ( خوشبودار چاول)، سرخ چاول اور شلوٹ ( پران) شامل ہیں۔یہ فصلیں 32,000ہیکٹر رقبے پر اُگائی جاتی ہیں جن کی کل پیداوار 24,000 میٹرک ٹن ہے ۔وہ یوٹی جی ڈی پی کو 945 کروڑ روپے کا تعاون کرتے ہیں ۔ حکومت جموںوکشمیر نے اِن فصلوں کو صلاحیت کو تسلیم کرتے ہوئے قیمتی فصلوں کے فروغ کے لئے ایک پروجیکٹ کو منظوری دی ہے جو اَگلے پانچ برسوں میں146 کروڑ روپے کے اَخراجات سے عملایا جائے گا۔اِس پروجیکٹ کا مقصد 11,100 ہیکٹر کے قبے پر قیمتی فصلوں کو متنوع اور سعت دینا ہے جس سے 2,238 کروڑ کی آمدنی سے 111,000 ہدف سے فائدہ اُٹھانے والوں کے لئے روزی روٹی کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے گا۔اِس منصوبے میں 5,226 نرسریوں اور بیج دیہاتوں کا قیام بھی شامل ہے جس سے مخصوص شعبے میں کام کرنے والے بے روزگار نوجوانوں کے لئے 7,750 روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔مزید برآں ، اِس منصوبے میں ایک منی سپائس پارک ، دو جدید رائس ملز اور ٹارگٹ کلسٹروں میں گیارہ گریڈنگ اور پروسسنگ یونٹوں کا قیام شامل ہے جنہیں جموںوکشمیر یوٹی کے دستیاب این اے بی ایل لیبارٹریو ں اور اِی ۔ ٹریڈنگ مراکز سے منسلک کیا جائے گا ۔ اِس سے کوالٹی کو فروغ دینے اور قدر میں اِضافے کی سہولیت ملے گی جس سے مارکیٹ تک منافع بخش رَسائی حاصل ہوگی۔اِن مخصوص فصلوں کو برآمدی سطح پر فروغ دینے کے لئے پروجیکٹ شناخت شدہ مخصوص فصلوں کی ٹیگنگ بھی کرے گا جس کے لئے اِن کی اِنفرادیت کے لئے وضاحت کنندہ تیار کئے جائیں گے ۔ مزید برآں، اِس منصوبے میں صلاحیت کی تعمیر اور روزگار پیدا کرنے کے لئے اِنسانی وسائل کی ترقی شامل ہے۔ یہ پروجیکٹ سکاسٹ کشمیر ، سکاسٹ جموں اور زراعت اور کسانوں کی فلاح و بہبود محکمے جموںوکشمیر نے مشترکہ طور پر شروع کیا ہے۔’’قیمتی فصلوں کا فروغ ‘‘ان 29 منصوبوں میں سے ایک ہے جنہیں جموںوکشمیر اِنتظامیہ نے جموںوکشمیر یوٹی میں زراعت اور اس سے منسلک شعبوں کی ہمہ گیر ترقی کے لئے یوٹی سطح کی اعلیٰ کمیٹی کی سفارش کے بعد منظوری دی تھی ۔ اِس باوقار کمیٹی کی سربراہی سابق ڈی جی جی آئی سی اے آر ڈاکٹر منگلا رائے کر رہے ہیں اور اس میں زراعت ، منصوبہ بندی ، شماریات اور اِنتظامیہ شعبے میں سی اِی او این آر اے اے اشوک دِلوائی ، سیکرٹری این اے اے ایس ڈاکٹر پی کے جوشی ، ہارٹی کلچر کمشنر ایم او اے اینڈ ایف ڈبلیو ڈاکٹر پربھات کمار ، سابق ڈائریکٹر آئی اے آر ائی ڈاکٹر ایس ایس گپتا ، ایڈیشنل چیف سیکرٹری ایگری کلچر پروڈکشن ڈیپارٹمنٹ اَتل ڈولو اور دونوں زرعی یونیورسٹیوں کے وائس چانسلر وں کے علاوہ دیگر نامور شخصیات ہیں۔ایڈیشنل چیف سیکرٹری زراعت نے کہا،’’ جموںوکشمیر میں بالخصوص ورثے کے مقامات پانپور ، گریز ، پڈر، کشتواڑ ، بھدرواہ ، بانڈی پورہ ، سگم ، ٹنگڈار ، رام بن اور پونچھ میں اِن مخصوص فصلوں کی کاشت کی ایک طویل تاریخ ہے ۔‘‘اُنہوں نے مزیدک ہا کہ یہ فصلیں جن میں مصالحہ جات ، خوشبودار فصلیں اور کم اِستعمال شدہ باغبانی فصلیں شامل ہیں، ایک اہم تجارتی قیمت رکھتی ہیں اور ان میں کشمیر زعفران کے لئے حاصل کردہ ٹیگ کی طرح جی آئی ٹیگ سے نوازے جانے کی صلاحیت ہے۔اِس وقت 5,525 ہیکٹر رقبے پر مصالحہ دار فصلیں کاشت کی جاتی ہیں جن کی کل پیداوار 10,163 میٹرک ٹن ہے ۔ اِسی طرح 250 ہیکٹر پر خوشبودار فصلیں کاشت کی جاتی ہے جن کی کل پیداوار 750 میٹر ک ٹن ہے ۔ تاہم ،وراثت سے کم اِستعمال شدہ باغبانی فصلیں بکھری پڑی ہیں جن کا رقبہ 547 ہیکٹر بہت کم ہے اور پیداوار 81 میٹرک ٹن ہے ۔ موجودہ پیداواری منظر نامہ موجودہ مارکیٹ کے خسارے کو پورا کرنے کے لئے پیداوار بڑھانے کی ایک بڑی گنجائش بناتا ہے۔ریاست کے مختلف اَضلاع میں 11,100 ہیکٹر اَراضی پر ممکنہ علاقوں میں قیمتی فصلوں کے تنوع کی تجویز دی گئی ہے بالخصوس کپواڑہ ، بارہمولہ ، گاندربل ، بانڈی پورہ ، کولگام ،شوپیاں ، اننت ناگ ، ڈوڈہ ، رام بن ، پونچھ ، راجوری ، ریاسی اور اودھمپور ، کالا زیرہ ضلع بانڈی پورہ ، کشتواڑ اور پی کے میں 300 ہیکٹر پر زعفران کی کاشت کی جائے گی ، ضلع اننت ناگ ، کولگام اور کپواڑہ میں 1000 ہیکٹر پر کشمیری لال مرچ ، ضلع ڈوڈہ ، راجوری ، پونچھ اور کشتواڑ میں410 ہیکٹر پر مونگ پھلی ، ضلع کشتواڑ ، کٹھوعہ ، پونچھ ، راجوری اور ڈوڈہ میں 6000 ہیکٹر پر بھدرواہ راجماش، ضلع جموں ، سانبہ ، کٹھوعہ ، اور اودھمپور میں، ضلع اننت ناگ ، کولگام اور کپواڑہ میں 600 ہیکٹر پر مُشک بُدجی اور ضلع اننت ناگ ، بارہمولہ ، کپواڑہ اور بڈگام میں 500 ہیکٹر پر سرخ چاول شامل ہیں۔جموںوکشمیر میں اِسی طرح کے زرعی ماحولیاتی حالات میں فعال خوراک کے طور پر مخصوص فصلوں کی ابھرتی ہوئی مارکیٹ کی طلب کو پورا کرنے کے لئے یا تو واحد فصل کے طور پر یا ایک بین فصل کے طور پر کاشت کے رقبے کو بڑھانے کی فوری ضرورت ہے۔ مروجہ فصلوں کے نظام میں مخصوص ویلیو چینوں کا تعارف نہ صرف پیداوار میں اضافہ کرے گا بلکہ کسانوں کی آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ کرنے کے ہدف کو بھی پورا کرے گا، روزی روٹی کے تحفظ اور استحکام کو یقینی بنائے گا۔ کاشت کے پھیلے ہوئے رقبے میں کپواڑہ، بارہمولہ، گاندربل، بانڈی پورہ، کولگام، بڈگام، پلوامہ، شوپیاں، اننت ناگ، ڈوڈا، رام بن، پونچھ، راجوری، اودھم پور، ریاسی، سانبہ، کٹھوعہ اور کشتواڑ شامل ہوں گے۔کاشت کے رقبے کو بڑھانے میں ایک اہم چیلنج معیاری پودے لگانے کے مواد کی دستیابی کی کمی ہے۔ اس پروجیکٹ کا مقصد 408 ہیکٹر پر 5,182 رجسٹرڈ نرسریوں اور 212 ہیکٹر کے رقبے پر 44 بیج دیہاتوں کے قیام سے اس چیلنج سے نمٹنا ہے بالخصوص پانپور، گریز، پڈر، کشتواڑ، بھدرواہ، بانڈی پورہ، سگم، ٹنگڈار، رام بن جیسے ثقافتی مقامات پر اور پونچھ نرسریوںاوربیج دیہات سے مجموعی پیداوار میں 2,159 میٹرک ٹن معیاری پودے لگانے کا مواد، 40,000 پودے اور 10 کروڑ پودے شامل ہوں گے۔ اِس پروجیکٹ کا مقصد جموںوکشمیر میں مخصوص فصلوں کی کاشت کو فروغ اور متنوع بنانا ہے جس میں پیدوار میں اِضافہ ، معاش کو بہتر بنانے اور مارکیٹ تک رَسائی میں اِضافہ کرنا ہے۔یہ نرسریوں اور بیجوں کے دیہا ت کا قیام ، بنیادی ڈھانچے کی ترقی ، مختلف شراکت داروں کے ساتھ تعاون سے حاصل کیا جائے گا۔یہ منصوبہ جموں وکشمیر کے منفرد ورثے اور اِس کی مخصوص فصلوں کو فروغ دینے اور خطے کی اِقتصادی ترقی میں بھی اَپنا حصہ اَداکرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔