برفانی جھیلوں کے ہجم میں پچاس فیصد اضافہ ہونے کا سنسنی خیز انکشاف

دو ہزار سے جموںو کشمیرمیں غیرمتوقع طور پرموسم کی تبدیلیاںرونماء سنجیدگی سے اقدامات اٹھانے کی ضرورت /ماہرین

سرینگر//دو ہزار سے گلیشروں میںکمی آ نے کاعندیہ دیتے ہوئے موسمیات کے ماہرین نے کہاکہ ہمالیائی خطے میںمس صدرجہ حرارت میں اضافہ ہورہاہے اور پچھلے تیس برسوں سے جموں وکشمیرمیںغیرمتوقع طور پر موسمی تبدیلیاں رونماء ہورہی ہے۔ برفانی جھیلوں کے ہجم میںپچاس فیصدی کااضافہ ہوا ہے جومستقبل کے حوالے سے خطرے کی علامت ہے ۔ماحولیات کوآلودگی سے بچانے کے لئے کا رگراقدامات نہ اٹھائے گئے تو 2014کے سیلاب سے بھی بڑے تباہ کن سیلاب کا سامناکسی وقت جموں وکشمیرکوکرنا پڑیگا ۔اے پی آ ئی نیوز کے مطابق محکمہ موسمیات کے مابین اس دفعہ پھر اس بات پرتشویش کااظہارکیاہے دنیامیں ماحولیات دن بدن آلودہ ہوتاجارہاہے اور جموںو کشمیربھی ماحولیات اور گلوبل وارمنگ کی زد میں آرہاہے۔ ماہرین نے اس بات کاانکشاف کیاکہ پچھلے تیس برسوںسے جموںو کشمیرمیں موسمیات تبدیلی غیرمتوقع طور پرہو رہی ہے اور اگربارشیں شروہوتی ہے توپھر تھمنے کانام نہیں لیتی ہے او راگر سوکھاپڑ جائے تو یہ بھی دراز ہوتاجارہاہے جسکے نتیجے میں فصلوں کی پیدوار متاثر ہوتی ہے ۔پینے کے پانی کی قلت کاسامناکرنا پڑتاہے بیماریاں پھوٹ پڑتی ہے۔ ماہرین کے مطابق ہمالیائی خطے میں موسمیات تبدیلی غیرمتوقع طور پرہو رہی ہے اور پچھلے چالیس برسوں سے جہاں تعمیراتی سرگرمیاں زوروشور سے جار ہے وہی ماحولیات کوآلودگی سے بچانے ا ورگلوبل وارمنگ سے دور رہنے کے لئے اقدامات اٹھانے کی طرف سنجیدگی کامظاہراہ نہیں کیاگیا ۔ماہرین کے مطابق پچھلے دس برسوں سے ہمالیائی خطے میں سڑکوں کی تعمیر بنیادی ڈھانچے کے قیام کے لئے اقدامات اٹھائے گئے کئی ہائیڈل پروجیکٹوں کی تعمیراب بھی جاری ہے اور اس دوران ماہر موسمیات کے ساتھ اگرچہ صلح مشورہ کیاگیا۔ ماہرین کی جانب سے جو ماحولیات کوآلودگی سے بچانے ا ورگلوبل وارمنگ سے دوررہنے کے لئے تجویزا ت فراہم کی گئی ان کی طرف بیس فیصد توجہ دے دی گئی او راسی فیصدکااب بھی باقی ہے۔ ماہرین نے کہاکہ ہمالیاتی خطے میں برفانی جھیلوں کے ہجم میں پچاس فیصدی کااضافہ ہوا ۔جو مستقبل کے حوالے سے ایک بہت بڑے خطرے کی علامت ہے۔ ماہرین کے مطابق تین دہائیوں سے چالیس فیصد گلیشر تیزی کے ساتھ پگل رہے ہیں، جبکہ کئی گلیشروں کاوجو دہی مٹ گیاہے جسکے نتیجے میں کئی علاقوں خاص کرہمالیائی خطے میں قلت آب پیدا ہوگئی ہے جو آنے والے برسوں کے دوران مزیداپنے تیور سخت کر سکتے ہیں ۔ماہرین نے کہاکہ ہمالیائی خطے میں تعمیراتی سرگرمیوں کے دوران ماحولیات کوآلودگی سے بچانے او رگلوبل وارمنگ سے دو ررہنے کے لئے موثراقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے او راگر اب بھی ا سکی طرف توجہ نہیں دے دی گئی تو 2014سے بھی تباہ کن سیلاب آنے کے امکانات کوروکا نہیں جائیگا ۔ماہرین نے ہمالیائی خطے میں رہنے والے ممالک اور حکومتوں کوزور دیاکہ وہ اس بھیانک صورتحال سے نمٹنے کے لئے بڑے پیمانے پراقدامات اٹھائے تاکہ کسی تباہ کن صورتحا ل کاسامناناکرنا پڑے ۔