rajnath singh

بحر ہند میں چین سے نمٹنے کی نئی حکمت عملی کو طے کرنے کیلئے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ مالدیپ پہنچ گئے

خطے میں امن و سلامتی اور دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کے حوالے سے اپنے ہم منصب سے بات کریں گے

سرینگر / / بحر ہند میں چین سے نمٹنے کی نئی حکمت عملی کو طے کرنے کیلئے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ مالدیپ پہنچ گئے۔ اس دوران ہندوستان اور مالدیپ مشترکہ چیلنجوں بشمول سمندری سلامتی، دہشت گردی، بنیاد پرستی، بحری قزاقی، اسمگلنگ، منظم جرائم اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے مل کر کام کرنے پر زور دیں گے ۔ سی این آئی کے مطابق بحر ہند میں چین سے نمٹنے کی نئی حکمت عملی کو طے کرنے کیلئے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ مالدیپ پہنچ گئے ، دورے کے دوران وزیر دفاع راجناتھ سنگھ خطے کے تمام ممالک کی سلامتی اور ترقی کیلئے ہندوستان کا ‘پڑوسی سب سے پہلے’ نقطہ نظر اور مالدیپ کی ’’انڈیا سب سے پہلے ‘‘پالیسی بحر ہند کے علاقے میں صلاحیتوں کی مشترکہ ترقی کو ممکن بنائے گی۔راج ناتھ سنگھ مالدیپ میں تین دن قیام کریں گے۔ اس دوران وہ مالدیپ کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کے حوالے سے ملاقات کریں گے۔ بحر ہند میں چین کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کے پیش نظر راج ناتھ سنگھ کا مالدیپ کا دورہ ہندوستانی خطے میں ہندوستان کی حکمت عملی کے ایک حصے کے طور پر بہت اہم ہے۔ ہندوستان اور مالدیپ کے تعلقات کبھی میٹھے اور کبھی کھٹے رہے ہیں۔ یعنی جب بھی مالدیپ کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات میں تناؤ رہتا ہے تو کہیں نہ کہیں اس کے پیچھے چین کا کردار اور بحر ہند کے خطے میں اس کا بڑھتا ہوا غلبہ ہوتا ہے۔ حالانکہ مالدیپ کے ساتھ ہندوستان کے روایتی تعلقات رہے ہیں۔ ایسے میں راج ناتھ سنگھ کا مالدیپ کا دورہ بہت اہم مانا جا رہا ہے۔وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ مالدیپ کی وزیر دفاع ماریہ احمد دیدی اور وزیر خارجہ عبداللہ شاہد کے ساتھ دو طرفہ بات چیت کریں گے۔ وہ مالدیپ کے صدر ابراہیم محمد صالح سے بھی ملاقات کریں گے۔ وزارت دفاع کے مطابق بات چیت میں دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعلقات کے پورے منظر نامے کا جائزہ لیا جائے گا۔ہندوستان اور مالدیپ مشترکہ چیلنجوں بشمول سمندری سلامتی، دہشت گردی، بنیاد پرستی، بحری قزاقی، اسمگلنگ، منظم جرائم اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں۔ خطے کے تمام ممالک کی سلامتی اور ترقی کے لیے ہندوستان کا ‘پڑوسی سب سے پہلے’ نقطہ نظر اور مالدیپ کی ‘انڈیا سب سے پہلے’ پالیسی بحر ہند کے علاقے میں صلاحیتوں کی مشترکہ ترقی کو ممکن بنائے گی۔