سری لنکا میں سبزیوں کی قیمتیں ساتویں آسمان پر، لیکن لیموں کی قیمت ہندوستان سے کم

بازاروں میں گراں بازاری عروج پر،غریب عوام کی زندگی بنی ہے اجیرن

سرینگر / /نامساعد حالات اور کورونا وائرس کے نتیجے میں لوگوں کی اقتصادی حالت ابتر ہوئی ہے اور محنت ومشقت کے بعد بھی کوئی اپنے اہل وعیال کو دو وقت کی روٹی فراہم نہیں کرسکتا ہے کیونکہ بازاروں میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میںآئے روز ایسا اضافہ ہوتا جارہا ہے کہ جو عام انسان کی آمدنی اور حیثیت سے کافی زیادہ ہے ۔ وادی کشمیر میں محکمہ امور صارفین و تقسیم کاری کی ناقص کارکردگی اور عدم توجہی کے باعث شہر ودیہات کے بازاروں میں گراں بازاری نے لوگوں کو پریشان کرکے رکھ دیا ہے ۔کشمیر پریس سروس کے موصولہ تفصیلات کے شہر ودیہات کے بازاروں میں اشیائے خوردنی بشمول سبزیوں ،میوہ جات کی قیمتوں کو دوگنا کیا گیا ہے اور اس کمر توڑ مہنگائی کی وجہ سے لوگ پریشانیوں میں مبتلا ہوئے ہیں ۔اقتصادی حالت ابتر ہونے کے بیچ یہ مہنگائی لوگوں کیلئے کسی عذاب سے کم نہیں ہے اور غریب عوام کا جینا مشکل بن گیا ہے ۔مارکیٹ چیکنگ صرف بڑے دنوں ،تہواروں پر عمل میں لائی جاتی ہے جبکہ روزانہ بنیادوں پر چیکنگ کی ضرورت ہے ۔لیکن محکمہ امور صارفین وتقسیم کاری خاموش تماشائی ہے ۔اس ضمن میں شہر ودیہات سے لوگوں نے کشمیر پریس سروس کے ساتھ بات کرتے ہوئے بتایا کہ محکمہ امور صارفین و تقسیم کاری کی ناقص کارکردگی اور لاپرواہی کی وجہ سے تاجر بے لگام ہوئے ہیں کیونکہ اشیائے خوردنی کی چیزوں کی قیمتوں میں دو گنا اضا فہ کیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ سرکارکی جانب سے مرتب شدہ ریٹ لسٹ کو بالائے طاق رکھ کر من مانی قیمتیں مقرر کرکے لوگوں کو طرح طرح لوٹا جارہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر چہ لوگ ملبوسات ودیگر ضروریات کو کم کریں گے تو زندگی چلتی رہے گی لیکن روزمرہ کھانے پینے کی اشیاء انسان کو زندہ رہنے کیلئے لازمی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اشیائے خوردنی بشمول سبزیوں اور میوہ جات کی فراونی ہوتے ہوئے بھی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافہ کیا گیا جس سے لوگوں کی زندگی اجیرن بن گئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ غریب عوام مالی بدحالی کی وجہ سے مارکیٹ میں اشیائے ضروریہ کی خریداری کرنے کی سکت نہیں رکھتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ گراں بازاری کی وجہ سے لوگ ذہنی کوفت کے شکار ہوئے ہیں اور بہت سے کنبوں کے اہل خانہ فاقہ کشی پر مجبور ہورہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اس گراں بازاری اور تاجروں کی من مانی سے محکمہ ہذا کے افسران کی شبیہ خراب ہوئی ہے کیونکہ یہ ان کی غفلت شعاری کا ہی نتیجہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ پر ہر سو شور ہے لیکن روزمرہ بنیادوں پر خرچ ہونے والے اشیاء کی قیمتوں کے حوالے سے کوئی توجہ نہیں دی جاتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ جہاں بازاروں میں کمرتوڑ مہنگائی نے لوگوں کو پریشان کرکے رکھ دیا ہے وہیں راشن گھاٹوں میں راشن بشمول کھانڈ ،آٹااور تیل خاکی کی عدم دستیابی سے لوگوں کو مشکلات ہے جبکہ چاول فی کس پانچ کلو کے بجائے تین کلو ہی فراہم کئے جاتے ہیں ۔اس طرح سے ان راشن گھاٹوں پر مبینہ دھاندلیا ں کی جارہی ہیں ۔جبکہ محکمہ کی نگرانی میں سیل سنٹروں میں بھی عوامی تقسیم کاری کے دوران بہتر طریقہ اپنانہیں جارہا ہے ۔ انہوں نے واضح کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ امور صارفین کی ناقص کارکردگی سرکار کی نااہلیت مانی جاتی ہے جبکہ محکمہ ہذا کی بہتر کارکردگی سرکار کی اہلیت تصور کی جاتی ہے کیونکہ مذکورہ محکمہ براہ راست عوام کے ساتھ وابستہ ہے اسلئے مذکورہ محکمہ پر عوام کے تئیں کافی ذمہ داریاں عائد ہیں ۔انہوں نے کہا کہ قیمتوں کو اعتدال پر رکھنا اسی محکمہ کے افسران کی ذمہ داری ہے ۔اس ضمن میں انہوں نے گورنر انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ امور صارفین و عوامی تقسیم کاری میں تجربہ کار اور مہارت رکھنے والے سینئر افسران کو مخصوص جگہوں پر تعینات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ نظام بہتری کی جانب گامزن ہوجائے اور روزانہ بنیادوں پر مارکیٹ چیکنگ عمل میں لانے کا معمول بنایا جائے ۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ راشن گھاٹوں میں راشن کی فراہمی اور بھاری مقدار میں راشن دستیابی کو یقینی بنانے کیلئے فوری طور ٹھوس اور موثر اقدام اٹھائے جائیں ۔قیمتوں کو اعتدال پرلانے کیلئے سرکاری نرخ ناموں پر عمل کرانے کا تاجروں کو پابند بنایا جائے اور گوشت کی بلیک مارکیٹنگ پر روک لگائی جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورا ہوسکیں گے ۔