نئی دہلی : بابا صدیقی قتل کیس میں پولیس کو ایک اور بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ اس ہائی پروفائل کیس میں ممبئی کے رہائشی ملزم سوجیت سشیل سنگھ کو لدھیانہ سے گرفتار کیا گیا ہے۔ یہ کارروائی پنجاب اور ممبئی پولیس کے مشترکہ آپریشن کے دوران انجام دی گئی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ سوجیت قتل کی سازش میں شامل تھا، جبکہ ایک اور ملزم نیتن گوتن سپرے نے اسے 3 دن قبل بابا صدیقی کے قتل کی منصوبہ بندی سے آگاہ کیا تھا۔ واضح رہے کہ یہ اس قتل کیس میں 15ویں گرفتاری ہے۔ دو ہفتے قبل بابا صدیقی کو ان کے بیٹے ذیشان صدیقی کے دفتر کے باہر قتل کیا گیا تھا۔ سوجیت کا تعلق ممبئی کے گھاٹ کوپر علاقہ سے ہے اور پولیس کے مطابق وہ ایک ماہ قبل پنجاب کے لدھیانہ فرار ہو گیا تھا، جہاں اسے جمعہ کے روز گرفتار کیا گیا۔ سوجیت لدھیانہ میں اپنے سسرال والوں کے گھر میں چھپا ہوا تھا۔ پولیس نے فی الحال اس قتل کو لارنس بشنوئی گینگ سے جوڑنے کا دعویٰ نہیں کیا، حالانکہ اس گینگ نے قتل کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ ابھی تک قتل کے پس پردہ اصل محرکات کی کوئی سرکاری وضاحت سامنے نہیں آئی۔ البتہ، ممبئی پولیس نے چہارشنبہ کو دعویٰ کیا کہ صدیقی کے قاتل قتل سے قبل لارنس بشنوئی کے بھائی انمول بشنوئی کے رابطے میں تھے۔










