Jammu and Kashmir is currently going through a critical period, threatening our existence today Umar Abdullah

اے ،بی اور سی ٹیمیں مسلمانوں کیخلاف بھاجپا کی زہرافشائی پر خاموش کیوں

جموںو کشمیر اس وقت نازک دور سے گزر رہاہے، آج ہمارے وجود کو خطرہ لاحق / عمر عبد اللہ

سرینگر // اے ،بی اور سی ٹیمیں مسلمانوں کیخلاف بھاجپا کی زہرافشائی پر خاموش کیوں ہے کا سوال کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور پارلیمانی امید وار برائے بارہمولہ عمر عبد اللہ نے کہا کہ جموںو کشمیر اس وقت نازک دور سے گزر رہاہے، آج ہمارے وجود کو خطرہ لاحق ہے۔ سی این آئی کے مطابق نیشنل کانفرنس نائب صدر اور شمالی کشمیر بارہمولہ پارلیمانی نشست کیلئے پارٹی اُمیدوار عمر عبداللہ نے اپنی انتخابی مہم جاری رکھتے ہوئے ضلع بارہمولہ میں متعدد ورکرس میٹنگوں، روڑ شو اور عوامی اجتماعات سے خطاب کیا۔ اس دوران اوڑی میں منعقدہ ایک عظیم الشان اجتما ع اور سنگرامہ میں چنائوی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ جموںو کشمیر اس وقت نازک دور سے گزر رہاہے، آج ہمارے وجود کو خطرہ لاحق ہے، آج یہاں نشیلی ادویات اور شراب کی دکانیں عام کی جارہی ہیں جبکہ مختلف حربے اپنا کر لوگوں کو زمینوں سے بے دخل کیا جارہاہے، ہمارے مذہب پر روز حملے ہورہے ہیں، کہیں یکساں سول کوڈ کی بات ہوتی ہے تو کہیں سجدہ کرتے ہوئے ایک نمازی کو لاتیں ماری جاری ہیں، مسلمانوں کو نیچا دکھانے کیلئے بار بار طعنے دیئے جارہے ہیں اور ہمارے جذبات کیساتھ کھلواڑ کیا جارہاہے اور یہ سب کچھ بھاجپا اپنے حقیر سیاسی مفادات کیلئے کررہی ہے ۔ بھاجپا کی مدد سے یہاں الیکشن لڑنے اُترے سیب، بیٹ بال اور بالٹین والوں کو اس سب کا جواب دینا ہی ہوگاکہ وہ مسلمانوں کیخلاف بی جے پی کے اس ناروا سلوک کیخلاف آواز کیوں نہیں اُٹھا رہے ہیں؟ کیا یہ لوگ بھاجپا کے احسانوں تلے اتنے دبے ہیں کہ انہیں گجرات میں تراویح ادا کررہے ہیں بچوں کو لہو لہان کیا جانا نظر نہیں آرہا ہے؟ کیا ان پر بھاجپا کے اتنے احسان ہیں کہ یہ لوگ وزیراعظم سمیت بھاجپا کے لیڈران کی وہ تقریریں نہیں سُن پاتے ہیں کہ جن میں ہندوئوں کو ڈرایا جارہاہے کہ مسلمان ہندو خواتین کے زیور لے کر جائیںگے؟آخر یہ سیب والے، بیٹ بال والے اور بالٹین والے بھاجپا کیخلاف لب کشائی کرنے سے اجتناب کیوں کررہے ہیں؟ اوڑی میں منعقدہ فقید المثال پروگرام کا انعقاد ضلع صدر بارہمولہ و انچارج کانسچونسی ڈاکٹر سجاد شفیع اوڑی نے کیا تھا جبکہ اس موقعے پر معاون جنرل سکریٹری اجے کمار سدھوترا، ٹریجرر شمی اوبرائے، کانگریس سینئر لیڈر جی این مونگا، شیخ عامر اور دیگر پارٹی عہدیداران بھی موجودتھے جبکہ سنگرامہ میں منعقدہ جلسے کا انعقاد انچارج کانسچونسی خواجہ محمد یعقوب وانی نے کیا تھا جبکہ اس موقعے پر شمالی زون صدر جاوید احمدڈار، ایڈوکیٹ شوکت احمد میر، ارشاد رسول کار اور دیگر عہدیداران بھی تھے۔ پیپلز کانفرنس کو ہدف تنقید بناتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ یہ جو سیب والے ہیں وہ Dignity & Developmentکی بات کرتے ہیں، مطلب عزت نفس اور تعمیر و ترقی لیکن جو شخص اپنی پارٹی کے جھنڈوں، پوسٹروں اور اشتہارات پر اپنے والد کی تصویر لگانے سے کتراتا ہو، جس نے اس تنظیم کی بنیاد ڈالی ہے، وہ عوام کو کس عزت نفس کی یقین دہانی کرا رہا ہے؟ باقی رہی بات تعمیر و ترقی کی، وہ ہندوارہ میں بخوبی عیاں ہے کہ موصوف نے بحیثیت ایم ایل اے اور وزیر ہندوارہ میں کون سا کمال کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اوڑی کیساتھ جو ناانصافی ہوئی، جب یہاں آر پار ٹرید بند کیا گیا، جب یہاں بارڈر ٹورازم بند ہوا، کیا اُس وقت اس سیب والے نے بات کی؟ یہ تو خود کو وزیر اعظم کا چھوٹا بھائی جتلاتا ہے ، کیا یہ اُس وقت اپنے بڑھے بھائی کیساتھ بات کرکے اوڑی کے لوگوںکو راحت نہیںپہنچا سکتا تھا؟آج یہ کس منہ سے آپ سے ووٹ مانگ رہا ہے۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ قلم دوات کا جو دوسرا اُمیدوار یہاں کھڑا ہوا ہے ، وہ بحیثیت راجیہ سبھا ممبر ہر اُس دن غیر حاضر رہا جب بھاجپا کی کسی بل کیخلاف ووٹ ڈالنا تھا۔ کپڑے پھاڑنے اور ڈرامہ کرنے سے کچھ حاصل نہیںہوگا، کیا کپڑے پھاڑنے سے یہاں بجلی آئیگی؟ کیا کپڑے پھاڑنے سے کسی کا روزگار ملے گا؟ موصوف سے پوچھئے کہ کپڑے پھاڑنے کے علاوہ انہوں نے کیاکیا؟ کیا انہوں نے نائب صدر کے انتخاب اور بھاجپا کی سہ طلاق جیسی بلوں کیخلاف ووٹ ڈالے؟ عمر عبداللہ نے عوام سے اپیل کی کہ وہ آنیوالے انتخابات میں سوچ سمجھ کر اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرے۔