ایک لاکھ سے زائد چشمے سرکار کی عدم توجہی کی وجہ سے تباہی کے دہانے پر

سرینگر// ضلع اننت ناگ اور کولگام میں قریب 1لاکھ 5ہزار سے زائد چھوٹے بڑے چشمے ہیں جو سرکار کی عدم توجہی اور لوگوں کی خود غرضی کی وجہ سے تباہ ہوگئے ہیں جبکہ ایک زمانے میں لوگ ان ہی میٹھے چشموں کا پانی کھانے پینے کیلئے استعمال کیا کرتے تھے۔کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق جنوبی کشمیر جو آبی ذخائر سے مالامال ہے اور ضلع اننت ناگ جس کا نام بھی اسی وجہ سے پڑا ہے ’’اننت ناگ ‘‘اننت یعنی بے شمار ، ناگ یعنی چشمے۔تاہم اب لوگوں کی خود غرضی اور سرکار کی عدم توجہی نے جنوبی کشمیر کے تمام چشموں کو تباہی کے دہانے پر پہنچایا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ ضلع اننت ناگ اور کولگام میں قریب 1لاکھ 5ہزار سے زائد چھوٹے بڑے چشمے تھے جن کا میٹھا پانی لوگ کھانے پینے کیلئے استعمال کیا کرتے تھے اْن دنوں نلوں کے پانی کا استعمال کرنے کی لوگوں کو ضرورت نہیں پڑتی تھی لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں اور سرکار کا دھیان ان قدرتی میٹھے چشموں کی طرف ہٹ گیا جبکہ لوگوںنے ان چشموں کے ارد گرد غلاظت و گندگی ڈالنی شروع کی جس کی وجہ سے ان چشموں کا پانی ناقابل استعمال بن گیا ہے۔ جبکہ سرکار بھی اس جانب کوئی توجہ نہیں دے رہی ہے۔ ادھر سوائل کنزرویشن ڈی ایف او اننت ناگ/کولگام محمدرمضان میر نے سی این آئی نمائندے امان ملک کو کہا اننت ناگ اور کولگام میں کم سے کم ایک لاکھ سے پانچ ہزار کی تعداد میں تھیں۔ تاہم سرکار اور لوگوں کی جانب سے اس طرف توجہ نہیں دی گئی ہے۔انہوںنے کہا کہ اب محکمہ نے ان چشموں کی ہیت اور خوبصورتی کو بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلے میں مرکزی سرکارکو سفارش بھیج دی گئی ہے جہاں سے مالی معاونت کے بعد ان کی بحالی کیلئے اقدامات اْٹھائے جائیں گے۔ اس دوران انہوں نے مقامی لوگوں سے بھی اپیل کی ہے کہ آس پاس کے چھوٹے چشموں کے آس پاس صفائی کا خاص خیال رکھی جائے۔