ایچ ڈی اے ایس سکیم کے تحت کسانوں کی خوشحالی اور دیہی روزگار کو تحفظ ملنا ایک حقیقت بن گیا ہے

جموں وکشمیر میں سکیم کے تحت اَگلے پانچ برسوں میں 5,013 کروڑ روپے خرچ کئے جائیں گے

سری نگر//نئی منظور شدہ ہولیسٹک ڈیولپمنٹ آف ایگری کلچر اینڈالائیڈ سیکٹرز( ایچ ڈی اے ایس )سکیم سے کسانوں کی خوشحالی اوردیہی روزگار کو تحفظ ملنا ایک حقیقت بن گیا ہے ۔اِس سکیم کے تحت جموںوکشمیر میں اَگلے پانچ برسوں میں 5,013 کروڑ روپے خرچ کئے جائیں گے۔یہ سکیم جموں و کشمیر کی زرعی معیشت کو ترقی کی نئی راہ پر گامزن کرے گی، شعبوں کی پیداوار کو دوگنا کرے گی، برآمدات کو فروغ دے گی اور شعبوں کودیرپا اور تجارتی طور پر قابل عمل بنائے گی۔سکیم کے تحت منظور شدہ منصوبہ جس میں 29 پروجیکٹ تجاویز شامل ہیں ،زراعت اور اس سے منسلک شعبوں کو ترقی کی نئی راہ پر گامزن کرے گا جس میں معیشت ، ماحولیات اور مساوات اِس کے رہنما ستون ہیں۔یہ بات قابلِ ذِکر ہے کہ اِس برس جولائی میں جموںوکشمیر یوٹی اِنتظامیہ نے زراعت اور اِس سے منسلک شعبوں کی ہمہ گیر ترقی کے لئے ایک اعلیٰ کمیٹی تشکیل دی تھی جس کے لئے سابق ڈی جی آئی سی اے آر اور اس کے چیئرمین ڈاکٹر منگلا رائے ، سی اِی او این آر اے اے اشوک دلوائی اورزراعت،منصوبہ بندی ، شماریات اور اِنتظامیہ شعبے کے دیگر معروف شخصیات کو شامل کیا گیا تھا۔ایک آفیسر نے بتایا کہ مشن موڈ میں کام کرنے والی کمیٹی 29پروجیکٹوں کی شکل میں ایک جامع منصوبہ لے کر آئی ہے جس میں 5ماہ کے ریکارڈ وقت میں اے پی ڈی کے دائرہ کار میں تمام شعبوں کا اَحاطہ کیا گیا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ یہ انتیس منصوبے شعبوں کی پیداوار کو تقریباً دوگنا کریں گے ، برآمدات کو فروغ دیں گے اور شعبوں کو دیر پا او رتجارتی طور پر قابل عمل بنائیں گے ۔اُنہوں نے مزید کہا کہ یہ فوائد مساوی ہوں گے اورہرفرد تک پہنچیں گے اور فوڈ، فیڈاینڈ اِنڈسٹریزکے لئے حیاتیاتی وسائل کے مؤثر استعمال سے ماحولیاتی طور پر دیرپا ہوں گے حکام کے مطابق زرعی پیداوار جو 37,600کروڑ روپے ہے ، 28,142 کروڑ روپے سے زیادہ بڑھ کر سالانہ 65,700 کروڑ روپے تک پہنچ جائے گا جس کے نتیجے میں شعبہ جاتی شرح نمو میں 11 فیصد اِضافہ ہوگا ۔ اِن اقدامات سے 2.8لاکھ سے زیادہ نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور تقریباً 19,000کاروباری اِدارے قائم ہوں گے ۔اِس کے علاوہ زائد اَز2.5 لاکھ اَفراد سے بیج کی پیداوار ، سبزیوں کی درست کھیتی ، مگس پالن ،ککون کی پیداوار ، ڈیری ، بھیڑ او رپولٹری فارمنگ کے ساتھ ساتھ چارے کی پیداوار ،مشروم فارمنگ ، مربوط اور نامیاتی زراعت ، اعلیٰ کثافت والے پھلوں کی فارمنگ سے لے کر پروسسنگ تک کے مختلف زرعی اِداروں میں ہنرمند ہوں گے ۔اَگلے پانچ برسوں میں جموںوکشمیر یوٹی کے پاس تجارتی طورپر قابل عمل اور ماحوالیتی طور پر دیر پا زرعی ماحولیاتی نظام میں زرعی کاروباری مہارت کے ساتھ ایک حوصلہ اَفزا اَفرادی قوت ہوگی ۔جموںوکشمیر یوٹی میں زراعت شعبے میں منظور شدہ پروجیکٹوں پی پی پی موڈ میں سیڈ اور سیڈ ملٹی پلیشن چین کی ترقی، مخصوص فصلوں کا فروغ، کھلی اور ہائی ٹیک محفوظ کاشت کے تحت سبزیوں/غیر ملکی سبزیوں کا فروغ، تجارتی بنیادوں پر اَدویات اور خوشبودار پودوں کا فروغ جموں وکشمیریوٹی میں زرعی مارکیٹنگ سسٹم کو مضبوط بنانا شامل ہیں۔مزید برآں، اپیکلچر کا فروغ ،جموںوکشمیر میں ریشم کی زراعت کو مضبوط بنانے کے لئے تکنیکی اقدام،غذائی اناج ( جوار) کا فروغ ، فارم میکانائزیشن اور آٹومیشن ، مشروم کی کاشت کو فروغ دینا، تیل کے بیجوں کا فروغ ، 300 ایف پی اوز کی تشکیل ، مربوط کاشت کاری کے نظام کو اَپنانا او رفروغ دینا (آئی ایف ایس )/جموں وکشمیر یوٹی میں مربوط ذریعہ معاش کے نظام( آئی ایل ایس ) ، جموں وکشمیر یوٹی میں تجارتی پھولوں کی کھیتی کو فروغ دینا اور جموںوکشمیر کے بارش سے متاثرہ علاقوں کی ترقی دینا ہے۔زرعی شعبے کے تحت منصوبوں میں پائیداری کے لئے متبادل زرعی نظام ، سنسر پر مبنی سمارٹ زراعت ، زراعت میں کیڑے مار اَدویات کے اِستعمال کو کم سے کم کرنا، جموں وکشمیر کا مٹی اور زمینی وسائل کی معلومات کا نظام اور زراعت کی توسیع میں اِختراعی نقطہ نظر شامل ہیں۔