7کروڑ سے زائد ملازمین کو فائدہ، مسلسل تیسرے سال شرح سود برقرار
سرینگر//مرکزی حکومت نے مالی سال 2025-26کیلئے ملازمین کے پراویڈنٹ فنڈ پر 8.25 فیصد سالانہ سود کی شرح کی باضابطہ توثیق کر دی ہے، جس کے بعد ملک بھر کے سات کروڑ سے زائد ای پی ایف کھاتہ داروں کے اکاؤنٹس میں رواں ماہ سود کی رقم جمع کیے جانے کا امکان ہے۔ اس فیصلے سے کروڑوں ملازمین اور پنشن کے خواہشمند افراد کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔یو این ایس کے مطابق سرکاری ذرائع کے مطابق وزارت خزانہ نے ایمپلائز پراویڈنٹ فنڈ آرگنائزیشن کی جانب سے تجویز کردہ 8.25 فیصد شرح سود کی منظوری دے دی ہے۔ اس سے قبل 2 مارچ 2026 کو مرکزی وزیر محنت و روزگار منسکھ مانڈویہ کی صدارت میں منعقدہ مرکزی بورڈ آف ٹرسٹیز کے اجلاس میں مالی سال 2025-26کیلئے یہی شرح سود برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ای پی ایف او کے قواعد کے مطابق شرح سود کے نفاذ کیلئے وزارت خزانہ کی منظوری ضروری ہوتی ہے کیونکہ پراویڈنٹ فنڈ سرمایہ کاری کی سرکاری ضمانت حکومت ہند کے پاس ہوتی ہے۔ وزارت خزانہ کی منظوری کے بعد اب ای پی ایف او سود کی رقم کھاتہ داروں کے اکاؤنٹس میں منتقل کرنے کا عمل شروع کرے گا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ای پی ایف او نے حالیہ برسوں میں اپنے ڈیجیٹل نظام کو مزید مضبوط بنایا ہے، جس کے نتیجے میں سود کی رقم پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزی سے کھاتہ داروں کے اکاؤنٹس میں جمع کی جا سکے گی۔ توقع کی جا رہی ہے کہ رواں ماہ کے دوران ہی کروڑوں سبسکرائبرز کے کھاتوں میں سود کی رقم منتقل کر دی جائے گی۔قابل ذکر ہے کہ 8.25 فیصد شرح سود مسلسل تیسرے سال برقرار رکھی گئی ہے۔ مالی سال 2024-25کیلئے بھی یہی شرح سود مقرر کی گئی تھی جبکہ 2023-24میں ای پی ایف او نے شرح سود کو 8.15 فیصد سے بڑھا کر 8.25 فیصد کیا تھا۔یو این ایس کے مطابق گزشتہ چند برسوں کے دوران شرح سود میں مختلف اتار چڑھاؤ دیکھنے کو ملا ہے۔ مارچ 2022 میں مالی سال 2021-22 کیلئے شرح سود کم کر کے 8.10 فیصد کر دی گئی تھی، جو چار دہائیوں سے زائد عرصے میں سب سے کم سطح تھی۔ اس سے قبل 2020-21میں یہ شرح 8.50 فیصد تھی جبکہ 2019-20میں 8.50 فیصد، 2018-19میں 8.65 فیصد اور 2015-16میں 8.80 فیصد سود دیا گیا تھا۔ماہرین کے مطابق موجودہ معاشی حالات اور سرمایہ کاری کے رجحانات کو دیکھتے ہوئے 8.25 فیصد کی شرح سود ملازمین کیلئے ایک مناسب اور پرکشش منافع تصور کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای پی ایف اب بھی ملک میں محفوظ اور طویل مدتی بچت کے بہترین ذرائع میں شمار ہوتا ہے۔ای پی ایف او کے اس فیصلے سے لاکھوں سرکاری و نجی شعبے کے ملازمین کو مالی تحفظ حاصل ہوگا جبکہ ریٹائرمنٹ کے بعد کی منصوبہ بندی کیلئے بھی ان کی بچت میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ مستقل شرح سود برقرار رکھنے سے ملازمین کا اعتماد بھی مضبوط ہوگا اور طویل مدتی سرمایہ کاری کے رجحان کو فروغ ملے گا۔










