ایران کو اسرائیلی حملوں کا جواب نہیں دینا چاہیئے :امریکہ

نیویارک : امریکہ وزارتِ دفاع (پنٹگان) نے کہا ہے کہ ایران کو اسرائیلی حملوں کا جواب نہیں دینا چاہیے۔پنٹکان کے ترجمان میجر جنرل پیٹ رائڈر نے پریس کانفرنس میں ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی کشیدگی پر بیان دیا ہے۔رائڈر نے کہا ہے کہ ایران کو اسرائیلی حملوں کا جواب نہیں دینا چاہیے اور بحیثیت امریکی حکومت کے اس موضوع پر ہمارا موقف بالکل واضح ہے۔ لیکن اگر وہ جواب دینے کا فیصلہ کرتے ہیں، تو یقیناً ہم اسرائیل اور اس کے دفاع کی حمایت کریں گے۔آئندہ مہینوں میں امریکہ کے مشرق وسطیٰ میں اضافی فوجی قوت متعین کرنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے رائڈر نے کہا ہے کہ B-52 بمبار طیارے علاقے میں بھیجے جا چکے ہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ یہ فوجی قوتیں علاقے میں امریکی افواج کی حفاظت اور اسرائیل کے دفاع کے لیے تعینات کی جائیں گی۔ہم اسرائیل کے دفاع کی حمایت کے لیے تیار ہیں اور امید کرتے ہیں کہ ایران کسی بھی قسم کا جوابی حملہ نہیں کرے گا۔واضح رہے کہ پینٹاگون نے 2 نومبر کو جاری کردہ بیان میں اعلان کیا تھا کہ علاقے میں امریکی افواج کی حفاظت اور اسرائیل کے دفاع کے لیے اضافی بیلسٹک میزائل، دفاعی بحری جہاز، جنگی اور ٹینکر طیاروں کا بیڑا، اور امریکی فضائیہ کے B-52 طویل مسافت فائرنگ کے حملہ آور بمبار طیارے تعینات کیے جائیں گے۔
پنٹکان نے 13 اکتوبر کوجاری کردہ تحریری بیان میں کہا تھا کہ ایرانی دھمکی کے خلاف اسرائیل کو THAAD بیٹری سسٹم اور اس کے استعمال کیلیے تقریباً 100 فوجی اہلکار فراہم کئے جائیں گے۔