سرینگر //معروف شاعر وادیب علی محمد آکاش ؔنے کشمیری زبان وادب میں جو رول ادا کیا ہے وہ روز رشن کی طرح ہے اس سلسلے میںان کی 12ویں برسی پر حسب روایت آکاش کلچرل فورم نے گلشن کلچرل فورم کے باہمی اشتراک سے مورخہ 18اگست 2021 کو ’’یوم آکاش ‘‘منایا گیا ۔ موصولہ تفصیلات کے مطابق پوشکر کھاگ بڈگام میں علی محمد آکاش کی یاد میں ایک روزہ ادبی پروگرام کا انعقاد کیا گیا جس میں وادی بھر کہن مشق شعرائے کرام و ادباء حضرات نے شرکت کی ۔تقریب کی صدارت گلشن کلچرل فورم کے صدر سید بشیر کوثر نے کی جبکہ اس موقعہ پر کاروان اسلامی انٹرنیشنل کے بانی وچیرمین مولانا غلام رسول حامی بحیثیت مہمان خصوصی تھے جبکہ ایس ڈی ایم بیروہ ،تحصیلدار کھاگ ،ایس ڈی پی او ماگام ،ایس ایچ او کھاگ ،نائب تحصیلدار پوشکر ،ڈی ڈی سی کھاگ مہمانان ذی وقار کے بطورایوان صدارت میں موجود تھے ۔تقریب کی پہلی نشست کا آغاز تلاوت کلام پاک اور نعت رسول ؐ سے کیا گیا ۔اس کے بعد آکاش کلچرل فورم کے صد ر دلبر صاحب نے خطبہ استقبالیہ اور فورم کا مختصر تعارف پیش کیا جبکہ فورم کے جنرل سیکریٹری عبدالرشید آکاش نے نظامت کے فرائض انجام دئے ۔اس موقعہ پر ایس ڈی ایم موصوف نے شعراء کوسماج کے عظیم افراد قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ سماج کیلئے اثاثہ ہوتے ہیں ۔انہوں نے علی محمد آکاش کو خراج عقیدت پیش کیا ۔اس موقعہ پر ایس ڈی پی او موصوف نے اس طرح کی محفلوں کو منعقد کرنے کو خوش آئند قراردیا اور کہا کہ ان پیلٹ فارموں کے ذریعے نئی نسل کو منشیات سے دور رہنے ترغیب دی جاسکتی ہے ۔انہوں نے مرحوم آاش کو خراج پیش کیا ۔اس موقعہ ڈی ڈی سی موصوف نے علی محمد آکاش کے ادبی کارناموں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم اس علاقے کیلئے ایک سرمایہ تھے ۔اس موقعہ پر مولانا غلام رسول حامی نے آکاش کلچرل فورم کو علی محمد آکاش کی یاد میں محفل منعقد کرنے پر ان کی حوصلہ افزائی کی اور کہا کہ یہ فورم اس روایت کو برقرار رکھی ہوئی ہے اور یہی فرمانبرداری کا تقاضاہے انہوں نے کہا کہ شعرائے کرام ہر سماج کیلئے عظیم ہوتے ہیں کیونکہ ان کے کلام میں مذہب ،تہذیب اور سماج کی ترجمانی ہوتی ہے ۔انہوں نے اپنی تخلیق کردہ نعت پیش کرکے سامعین کو محظوظ کیا ۔۔اس موقعہ پر تعمیل ارشاد کے مدیر ناظم نذیر نے کہا کہ انتظامیہ کے افسران خادمین قوم ہیں ان کی حوصلہ افزائی کرنا ادبی تنظیموں کی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ انتظامیہ کو سماج عظیم انسانوں بشمول شعراء کی عزت افزائی کرنا ناگزیر ہے ۔انہوں نے کہاکہ صحافت اور ادب کا آپس میں ایک خاص ربط ہے اور ہمارے پاس شعراء وادباء سماج کے لئے اثاثہ ہیں اور ہماری ذمہداری ہے کہ ہم ان کے قدر دان بنے۔تقریب کی دوسری نشست میں اعزات کی تقسیم کاری عمل میں لائی ۔اس دوران مولاناغلام رسول حامی کو خلعت آکاش سے نوازا گیا جبکہ ایس ڈی ایم بیروہ ،تحصیلدار کھاگ ،ایس ڈی پی او ماگام کے علاوہ تعمیل ارشاد کو ایوارڈ سے نوازاگیا ۔اس میں خورشید خاموش نے نظامت کے فرائض انجام دئے ۔تقریب کی تیسری نشست میں محفل مشاعرہ کا انعقاد کیا گیا جس میں وادی کے اطراف واکناف سے آئے ہوئے شعرائے کرام نے شرکت کرکے اپنا کلام سنا کر سامعین کو محظوظ کیا ۔اس محفل کی صدارت سید بشیر کوثر نے کی جبکہ ایوان صدارت میں گلشن کلچرل فورم کے روح رواں جنرل سیکریٹری اور معروف براڈ کاسٹر و ترجمہ کار گلشن بدرنی ،شیدا صاحب ،لطیف احمد نیازی صاحب ایوان صدارت میں موجود تھے ۔محفل میں مختلف ادبی انجمنوںبشمول بزم ادب گلمرگ ،گلشن کلچرل فورم کے ذمہ داروں کے علاوہ کہن مشق شعراء نے شرکت کی ۔










