Provide permanent jobs to Angan Ward workers, Asha workers and helpers

آنگن وارڈی ورکروں آشاورکروں ہلپروں کو مستقل نوکریاں فراہم کی جائے :عبدالغفارصوفی

سرینگر//کرونا وائرس کی وبائی بیماری سے نمٹنے کے لئے اپنی جان ہتھیلوں پررکھنے والی آشاورکروں آنگن وارڈی ورکروں ہلپروں اور محکمہ صحت میں تعینات دیگر عارضی ملازمین کومستقل نوکریاں فراہم کرنے کامطالبہ کرتے ہوئے سابق وزیرصحت اور پی ڈی پی کے سینئر لیڈر نے سرکار کی موجود ہ پالسی کوہدف تنقید کانشانہ بناتے ہوئے کہاکہ 90ہزار کے قریب عارضی ملازمین کئی برسوں سے دردرکی ٹھوکر ے کھارہے ہیں اور ایسے ملازمین کے مشکلات کاازالہ کرنے میں سرکار مسلسل غیرسنجیدگی کا مظاہراہ کررہی ہے جس سے سرکاری اداروں کاکام کاج بھی متاثرہورہا ہے جوجموں وکشمیرجیسی پسماندہ ریاست میں کسی بھی صورت میں بہترنہیں ہے ۔اے پی آ ئی کوارسال کئے گئے بیان میں پی ڈی پی کے سینئرلیڈر اور سابق و زیرصحت عبدالغفار صوفی نے آنگن وارڈی ورکروں ہلپرس آشاورکروں اوراسپتال ڈیولپمنٹ فنڈ کے تحت کام کرنے والے عارضی ملازمین کے کام کواطمنان بخش قراردیتے ہوئے کہا کہ سرکار کی جانب سے ایسے عارضی ملامزین کی نہ صرف وقت پران کی اجرتیں واگزار کرنے کی ضرورت ہے بلکہ برسوں سے کام کررہے ان ملازمین کوراحت پہنچانے کی اشدضرورت ہے کروناوائرس وبائی بیماری کے دوران ان عارضی ملازمین نے کس طرح سے اپنی خدمات انجام د ی اس کی کہی مثال نہیں مل پارہی ہے تاہم ا س کے باوجودجموں وکشمیرمیں ایسے کام کرنے والے ملازمین کونہ تومستقل نوکریاں فراہم کی جاتی ہے اورنہ ہی ان کے مشکلات کاازالہ کرنے میں سرکارکسی بھی طرح کی سنجیدگی کامظاہراہ کررہی ہے ۔سابق وزیرنے اپنے بیان میںمزیدکہا کہ سابقہ حکومتوں نے جموں وکشمیرمیں ڈیلی ویجروں نیڈبیس پرکام کرنے والوں اور کنٹریکچول بنیادوں پرتعینات ملازمین کی فائل مکمل کرلی تھی اور صرف اعلان کرناباقی تھاکہ انہیں مستقل نوکریاں مل جاتی تاکہ انہیں جن پریشانیوں سے گزرناپڑ رہاہے وہ حل ہوجائے ۔عوامی حکومتوں کے وجود میں نہ آنے سے پچھلے دو برسوں کے دوران سابق ریاست کے سابق گورنر اور موجودہ یوٹی کے لیفٹننٹ گورنروں کی جانب سے اس سلسلے میں زبانی جمع خرچ کے سوااور کو ئی کارروائی عمل میں نہیں لائی جارہی ہے جوافسوسناک ہے۔ سابق وزیرنے جموںو کشمیرکے لیفٹننٹ گورنر سے مطالبہ کیاکہ وہ جہاں جموں کشمیرکی انتظامیہ اس وقت خودچلارہے ہے بلکہ ماضیٰ میں انہوںنے مرکزی وزیرکی جانب سے ا نہوں نے اپنی خدمات انجام دی ہے اور ایک سیاسی کارکن کی حیثیت سے انہیں پوری طرح سے جانکار ہے ضرورت اس امرکی ہے کہ لیفٹنٹنٹ گورنر یہ معاملہ مرکزی حکومت کے سامنے رکھ کر90ہزارکے قریب کنٹریکچول بنیادوں پر تعینات ملازمین کومستقل نوکریاں فراہم کرنے کے سلسلے میںاقدامات اٹھانے پرانہیں مجبورکرے تاکہ جموں وکشمیرمیں سرکاری دفتروں کاکام کاج متاثر نہ ہوسکے ۔سابق وزیرنے کہاکہ ان عارضی ملازمین کواجرتیں بھی واگزار نہیں کی جارہی ہے جوکسی المیہ سے کم نہیں ہے ۔کروناوائرس وبائی بیماری پھوٹ پڑنے کے دوران ان عارضی ملازمین نے بھی اپنی استطاعت کے مطابق راحت پہنچانے کاکوئی بھی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیاہے ۔