اَتل ڈولو نے جموں وکشمیر کی زرعی مصنوعات کے جی آئی ٹیگنگ کے اطلاق کی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا

کہا، جی آئی ٹیگنگ حاصل کرنے کیلئے ماہرین سے تاریخی ڈیٹا اور پروڈکٹ کی اِنفرادیت پر توجہ مرکوز کریں

جموں//ایڈیشنل چیف سیکرٹری زرعی پیداوار محکمہ اَتل ڈولو نے آج ماہرین کی ایک میٹنگ منعقد کی جس میں جموںوکشمیر زرعی مصنوعات کی جغرافیائی اشارے ( جی آئی ) ٹیگنگ کے اطلاق کی پیش رفت پر تبادلہ خیال ہوا۔میٹنگ میں وائس چانسلر سکاسٹ کشمیر ، سپیشل سیکرٹری اے پی ڈی ، ڈائریکٹر شیپ ہسبنڈری کشمیر ، ڈائریکٹر اینمل ہسبنڈری جموں / کشمیر ، ڈائریکٹر شیپ ہسبنڈری جموں ، ڈائریکٹر ہارٹی کلچر جموں / کشمیر ، ڈائریکٹر زراعت جموں ، ٹیکنیکل اَفسران ( اے پی ڈی ) ، سربراہان ،تکنیکی ورکنگ گروپس( ٹی ڈبلیو جیز) اور دیگر متعلقہ اَفراد نے ذاتی طور پر اور بذریعہ آن لائن موڈ شرکت کی۔ابتداً، تکنیکی ورکنگ گروپس( ٹی ڈبلیو جیز)کے سربراہان نے اَپنی اَپنی پرزنٹیشنز پیش کیں جس میں 23 عارضی طور پر شناخت شدہ فصلوں میں سے ہر ایک کے جی آئی سر ٹیفکیشن کے اطلاق پر پیش رفت دی گئی۔میٹنگ میں جموںوکشمیر سے شناخت شدہ فصلوں یا مصنوعات کی جی آئی درخواست دائر کرنے سے پہلے مختلف پہلوئوں پرسیر حاصل بحث ہوئی۔تکنیکی ورکنگ گروپس( ٹی ڈبلیو جیز)کے سربراہوں نے ہر فصل میں اَب تک کئے گئے کام کو پیش کیا او رتاریخی اعداد و شمار ، فصل کی اِنفرادیت اور ان مصنوعات کی دیگر خصوصیات سے اِشتراک کیا۔ایڈیشنل چیف سیکرٹری نے تکنیکی ورکنگ گروپس( ٹی ڈبلیو جیز)پر زور دیا کہ وہ تاریخی اعداد و شمار اور لٹریچر کی شکل میں شواہد پر زیادہ توجہ دیں تاکہ ان فصلوں کی جی آئی سرٹیفکیشن حاصل کرنے کے لئے ہر کیس کو مضبوط بنایا جاسکے۔اُنہوں نے ان پر زور دیا کہ وہ ماہرین اور متعلقہ محکموں سے مشورہ کریںجن کے پاس اِن فصلوں کے تاریخی پس منظر سے متعلق علم او رشواہد موجود ہوں۔اِس موقعہ پر وارانسی کے جی آئی ماہر ڈاکٹر رجنی کانت نے بھی اَپنی رائے کا اِظہار کیا اور جی آئی رجسٹریشن سر ٹیفکیشن کے رجسٹریشن کے دوران مسترد ہونے کے کم سے کم اِمکانات کے لئے مخصوص مصنوعات کی وراثت اور فصل کی مصنوعات کی اِنفرادیت کی ضرور ت کو اُجاگر کیا۔