اَتل ڈولو نے جموں وکشمیر زرعی مصنوعات کیلئے جی آئی درخواستیں داخل کرنے کیلئے کہا

جموںوکشمیر یوٹی کی زرعی فصلوں کی جی آئی ٹیگنگ پر زراعت اور منسلک شعبے کے ماہرین اور اَفسران کی ابتدائی میٹنگ کی صدارت کی

جموں//ایڈیشنل چیف سیکرٹری زرعی پیدا وار محکمہ اَتل ڈولو نے آج زراعت اور منسلک شعبے کے ماہرین اور اَفسران کی ابتدائی میٹنگ کی صدارت کی جس میں جموں کی زرعی مصنوعات کی جغرافیائی اِشارے جی آئی ٹیگنگ کے اطلاق پر غور کیا گیا۔میٹنگ میں سکاسٹ کشمیر اور سکاسٹ جموں کے وائس چانسلر ، ڈائریکٹر ایگر ی کلچر کشمیر / جموں ، ڈائریکٹر ہارٹی کلچر کشمیر / جموں ، ٹیکنیکل اَفسران اے ڈی پی اور دیگر متعلقہ اَفراد نے ذاتی طور پر اور بذریعہ آن لائن موڈ شرکت کی۔ابتداً ، وارانسی کے جی آئی ماہر ڈاکٹر رجنی کانت نے اِنڈیا میں جی آئی رجسٹریشن کے عمل اور کیس کے بیان کے مسودے کے لئے رہنما خطوط پر ایک تفصیلی پرزنٹیشن پیش کی۔اُنہوں نے کہا کہ جی آئی ایک ایسی علامت ہے جو ان مصنوعات پر استعمال ہوتی ہے جن کی ایک مخصوص جغرافیائی اَصل ہوتی ہے اور یہ خطے میں اَچھی خصوصیات یا شہرت کو یقینی بناتی ہے۔اُنہوں نے بااِختیار صارف کے طور پر رجسٹریشن کے لئے لاگو ہونے والے ہرقدم کی وضاحت کی جس میں درخواست داخل کرنا ، ابتدائی جانچ پڑتال اور اِمتحان ، شوکاز نوٹس کا اجرا، اشتہار ، رجسٹریشن کے لئے مخالفت ، رجسٹریشن ، تجدید ، مطلع شدہ سامان کو اِضافی تحفط اور اپیل شامل ہیں۔اُنہوں نے میٹنگ کو بتایا کہ رجسٹریشن کے عمل میں ہرقدم تاریخی شواہد اور ثبوت اہم ہے اور اس کے علاوہ مصنوعات کی نمائش بھی ضروری ہے اور اُنہوں نے مزید کہاکہ کچھ جغرافیائی اشارے ہیں جن کی رجسٹریشن قانون کے مطابق ممنوع ہے۔میٹنگ کو جانکاری دی گئی کہ جموںوکشمیر آئی جی ٹیگنگ کے لئے 23 فصلوں یا مصنوعات کی عارضی طور پر نشاندہی کی گئی ہے اور جی آئی سرٹیفکیشن کے لئے درخواست دینے کے لئے ان مصنوعات کے لئے تکنیکی ورکنگ گروپس بنائے گئے ہیں۔ایڈیشنل چیف سیکرٹری نے جی آئی ٹیگنگ کے شعبے میں ڈاکٹر رجنی کانت کے وسیع تجربے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر رجنی کانت کی پرزنٹیشن سے کام کرنے والے گروپوں کو کسی خاص پروڈکٹ کی حتمی جی آئی ایپلی کیشن سے پہلے اَچھی طرح سے مطالعہ کرنے میں مدد ملے گی۔اَتل ڈولو نے متعلقہ اَفراد پر گائیڈنس نوٹ تیار کرنے پر بھی زور دیا تاکہ زیادہ سے زیادہ جی آئی درخواست دائر کی جائے اور اس کے مطابق پیروی کی جائے تاکہ کسی بھی فصل یا پروڈکٹ کو مسترد کرنے کے اِمکانات کم ہوں۔اُنہوں نے متعلقہ اَفراد پر یہ بھی زور دیا کہ وہ کسانوں سے رابطہ قائم کرنے کے لئے بیداری اور حساسیت کی مہم کے لئے جائیں تاکہ وہ حکومت اور دیگر شراکت داروں کے تعاون سے اَپنی فصلوں کے لئے جی آئی ٹیگ کے بارے میں معلومات حاصل کرسکیں۔